نواز شریف کا زرداری کو جواب

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ آصف زرداری کا حالیہ بیان قومی جماعت کی قیادت کرنے والے کے شایان شان نہیں، میں ایک بڑے اصولی، نظریاتی مشن کی جدوجہد میں مصروف ہوں _

قائد مسلم لیگ ن کے قائد کا کہنا ہے کہ میرا مشن پاکستان کے عوام کے حق حکمرانی کی بحالی ہے، میں اس بیان بازی کا حصہ نہیں بننا چاہتا، زرداری صاحب اپنا وزن عوام کی بجائے کسی اور پلڑے میں ڈالنا چاہتے ہیں، آصف زرداری اپنا وزن کسی اور کے پلڑے میں ڈالنا چاہتے ہیں تو شوق سے ڈالیں،

نوازشریف نے کہا کہ آصف زرداری کیچڑ اچھالنے اور تاریخ کو مسخ کرنے سے گریز کریں،  کیا آصف زرداری اتنے ہی بھولے اور معصوم تھے کہ میرے ورغلانے میں آ گئے، اینٹ سے اینٹ بجانے والے بیان پر ان کو ناپسندیدگی کا پیغام بھیجا تھا، ان کے بیان کے بعد اگلے دن طے شدہ ملاقات بھی منسوخ کر دی تھی، اس وقت آصف زرداری نے کیوں نہیں بتایا کہ انہیں یہ پٹی میں نے پڑھائی تھی، آج تین سال بعد انہیں سچ بولنے کا خیال کہاں سے آگیا،

نوازشریف نے کہا کہ مشرف سے اختلاف کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ادارے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے، مشرف کے مواخذے، حکومتی حصہ بننے کیلئے ججوں کی بحالی اور17 ویں ترمیم کے خاتمے کو اہم شرائط بنایا، نوازشریف نے کہا کہ وعدہ خلافی کس نے کی؟ دھوکہ کس نے دیا؟ تحریری معاہدوں سے انحراف کرتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے ‘قرآن و حدیث’ نہیں ہوتے،

نوازشریف نے کہا کہ آصف زرداری کو یاد ہونا چاہیے کہ وہ بڑے قومی سیاستدان کے ہمراہ رائیونڈ میرے پاس آتے تھے، ان کا اصرار تھا کہ مشرف کے تمام اقدامات کی پارلیمانی توثیق کر دی جائے، میں نے مشرف کے اقدامات کی پارلیمانی توثیق سے صاف انکار کر دیا تھا، آصف زرداری جانتے ہیں کہ ڈاکٹرعاصم و دیگر کیخلاف نیب کی کارروائیاں کس کے کہنے پر ہوئیں،

نوازشریف نے کہا کہ سندھ میں نیب کی کارروائیاں اس وقت کے ڈی جی رینجرز کے کہنے پر ہوئیں، سندھ میں ہونے والی کارروائیوں سے میرا یا وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں تھا، جس طرح آصف زرداری کر رہے ہیں ایسی سیاست کا دور اب ختم ہو چکا، آج پاکستان کے عوام اپنے ووٹ کی عزت چاہتے ہیں، عوام پس پردہ سازشوں اور تماشوں سے عاجز آ چکے ہیں،  یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی دیہی سندھ تک سکڑ چکی ہے،

نوازشریف نے کہا کہ آصف زرداری نے یہ تو بتا دیا کہ ماضی میں میرے اشاروں پر چل رہے تھے، آصف زرداری یہ بھی بتا دیں کہ آج وہ کس کے اشاروں پر کٹھ پتلی بنے ہیں، پہلے وہ میری زبان بول رہے تھے تو آج بہادری کریں بتائیں اب کس کی زبان بول رہے ہیں، بہتر ہوگا کہ آصف زرداری ذاتی الزام تراشیوں کا دفتر نہ کھولیں،

نوازشریف نے کہا کہ آصف زرداری اپنی توجہ انتخابات پر رکھتے ہوئے نوشتہ دیوار پڑھنے کی کوشش کریں  _

متعلقہ مضامین