عمران فاروق قتل کیس پیش رفت

کمرہ عدالت سے
اویس یوسف زئی

عمران فاروق قتل کیس میں مفرور الطاف حسین کی بذریعہ اشتہار طلبی کے باوجود مسلسل عدم حاضری پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیو ایم کے بانی قائد کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کی جائیداد بحق سرکار ضبط اور قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ الطاف حسین کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے برطانوی اخبارات میں بھی اشتہارات شائع کروائے گئے تھے مگر وہ پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے احکامات جاری کر دیے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران فاروق قتل کیس کے تین گرفتار ملزمان خالد شمیم، معظم علی اور محسن علی پر فرد جرم عائد کی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا۔ جس پر عدالت نے استغاثہ سے شہادتیں طلب کر لیں۔ دو ملزمان کے اعترافی بیان قلمبند کرنے والے مجسٹریٹ کیپٹن ریٹائرڈ شعیب اور ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیرارزم ونگ کے عبدالمنان کو آئندہ سماعت پر بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 8 مئی کو طلب کر لیا گیا۔
اڈیالہ جیل میں جیل ٹرائل کی سماعت کے دوران ایف آئی اے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز عدالت میں پیش ہوئے اور مقدمے کا چالان داخل کرایا جس میں ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے ۔ چالان کے مطابق عمران فاروق کے قتل کی سازش برطانیہ اور پاکستان میں مشترکا طور پر تیار ہوئی۔ معظم علی اور خالد شمیم کی معاونت کے ساتھ کاشف خان کامران اور محسن علی نے متحدہ کی اعلی قیادت کے حکم پر ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کر دیا۔
جے آئی آٹی کی رپورٹ ، ایف آئی آر اور دو ملزموں کے اعترافی بیانات کو بھی چالان کا حصہ بنایا گیا ہے۔ چالان کے مطابق عمران فاروق کے قتل کی سازش برطانیہ اور پاکستان میں تیار ہوئی۔ ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین بھی عمران فاروق کے قتل کی سازش میں شریک تھے۔ عمران فاروق ایم کیو ایم کی قیادت کے لیے خطرہ تھے اس لیے انہیں قتل کیا گیا۔ چالان کے مطابق خالد شمیم اور معظم علی خان نے کاشف خان کامران اور سید محسن علی کو لندن بھجوایا۔ ملزمان نے قتل کی سازش تیار کی اور اس پر عمل کے لیے ایک دوسری کی مدد اور معاونت کی۔ محسن علی نے اعتراف کیا کہ اس نے عمران فاروق کو پشت سے پکڑا اور کاشف خان کامران نے پہلے سر پر اینٹ سے وار کیا اور پھر چاقو سے وار کیے۔ عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو شام ساڑھے پانچ بجے لندن میں گرین لین کے علاقہ میں قتل کر دیا گیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے