مہنگے وکیلوں کو نوٹس

خالدہ شاہین رانا

سپریم کورٹ نے معمر پنشنروں کی بہبود کے ادارے اولڈ ایج بینی فٹ انسٹیٹیوشن ( ای او بی آئی) کے فنڈز میں کروڑہا روپے کی بدعنوانی کے جرم کی ایف آئی اے کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں نامزد ملزم و سابق چیئرمین ای او بی آئی، ظفر اقبال گوندل کے دفاع میں پیش ہونے والے نامی گرامی وکلاء کو ای او بی آئی کے فنڈز سے مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے کی فیسوں کی ادائیگی پر لئے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو حاضرسروس ججوں ،جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس محسن اختر کیانی( جوکہ اُس وقت وکیل تھے )،جسٹس ریٹائرڈ ملک محمد قیوم ،جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود ، اعتزاز احسن ، خواجہ حارث احمد ، بابر ستار،سیف الملوک اور بیرسٹرگوہر علی خان سمیت متعدد وکلاء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے،

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اب اس ملک میں صرف قانون کی حکمرانی ہوگی، ہائی کورٹ کے ججوں سمیت تمام وکلاء وضاحت پیش کریں ،یاد رہے کہ ملزم ظفر اقبال گوندل جوکہ اس وقت کے وفاقی وزیر نذر محمد گوندل کا بھائی ہے، کے خلاف ادارے کے کروڑ ہا روپے کے فنڈز میں خرد برد کے الزام میں ایف آئی اے، کمرشل بنکنگ سرکل نے ایف آئی آر نمبر 11/2013 درج کی تھی ، جس میں ملزم نے مختلف مواقع پر اپنے دفاع کے لئے ملک کے نامور وکلاء کی خدمات لیتے ہوئے وزارت قانون و انصاف کی منظوری کے بغیر ہی انہیں مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے کی فیسیں ادا کرائی تھیں،

جمعہ کے روزسپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے اطہر من اللہ ایڈوکیٹ ، محسن اختر کیانی ایڈوکیٹ ،بیرسٹر اعتزاز احسن ، عاصمہ جہانگیر، خواجہ حارث احمد ،جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود ،سیف الملوک ،گوہر علی خان،اے کیو ایسوسی ایٹس ، شیخ ضمیر حسین ، بابر ستار ، صوفی لاء چیمبر ، سید احمد علی ،فخر زمان تارڑ،احمد شہزاد فاروق رانا ربانی اینڈ انصاری لاایسوسی ایٹس، مسعود سراج ، قیصر سرفراز علی میتلو،فراز احمد چانڈیو،اور ایم عارف خان کے بلوں کی ادائیگی کی فہرست پیش کی ،تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ چونکہ عاصمہ جہانگیر فوت ہوگئی ہیں اس لئے ان کے قانونی ورثا کو نوٹس جاری نہیں کر رہے ہیں _ کیس کی مزید سماعت جون کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی گئی ہے ۔

متعلقہ مضامین