بڑی کرپشن تحقیقات میں تاخیر

رانا مسعود حسین

عدالت عظمیٰ نے ” نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ(این آئی سی ایل) میں ساڑھے تین ارب روپیئے کی بدعنوانی کے مقدمہ کے مرکزی ملزمان محسن حبیب وڑائچ اور ایازخان نیازی کی نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نیب کو 10روز کے اندر اندر مفرور ملزم محسن حبیب وڑائچ کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے نیب سے2013 کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی ہے، جبکہ 5 سال سے ریفرنس کے احتساب عدالت میں زیر التواہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں چلنے والے نیب ریفرنسز کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں،

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جمعہ کے روز ملزمان محسن حبیب وڑائچ اور ایازخان نیازی کی نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کی تو قومی احتساب بیورور( نیب) کے لاء افسر نے عدالت کو بتایا ہے کہ محسن وڑائچ کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس زیر التواہے، محسن وڑائچ اس وقت عدالتی مفرور ہے،جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ نیب اسے پکڑتی کیوں نہیں ہے ؟جس پر انہوں نے بتایا کہ محسن وڑائچ حفاظتی ضمانت لے کر مفرور ہوگیا تھا،فاضل چیف جسٹس نے لاء افسر کو کہا کہ دس روز کے اندر نادر ملزم محسن حبیب وڑائچ کو گرفتار کیا جائے ،

فاضل چیف جسٹس نے ملزم و سابق چیئرمین این آئی سی ایل ایاز نیازی سے متعلق استفسار کیا تو انہوںنے رپورٹ پیش کی کہ اس کے خلاف 2014 سے نیب کا ریفرنس چل رہا ہے،جس پر فاضل چیف جسٹس نے پوچھا کہ اتنے عرصہ سے یہ ریفرنس زیر التواکیوں ہے؟تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے ،چیف جسٹس نے کہا کہ این آئی سی ایل کیس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے،اگر اس تاخیر کے ذمہ دار احتساب عدالتوں کے جج ہوئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی ، فاضل لاء افسر نے بتایا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزم مخدوم امین فہیم، نرگس سیٹھی، خوشنود اختر لاشاری اور، قمرالزمان چوہدری کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ این آئی سی ایل میں عوامی پیسہ لوٹا گیا ہے ،انہوں نے لاء افسر سے مزید استفسار کیا کہ عدالت نے نیب کو تحقیقات اور ریکوری کا حکم دیا تھا،اس حوالے سے کیا پیشرفت ہے تو ،انہوں نے بتایا کہ محسن حبیب وڑائچ سے ریکوری ہوگئی تھی،جس پر فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ محض ریکو ری ہونے سے جرم معاف نہیں ہو جاتا ہے ،اگر ملزمان آزاد پھرتے رہیں گے تو سپریم کورٹ کے احکامات کی کیا وقعت ہوگی؟ تاخیر کے ذمہ داران کاہر صورت میں تعین کیا جائے گا ، نیب حکام کو بتادیں کہ ہم سنجیدگی سے کیس کے ہر پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ پانچ سالوں میں صرف تین گواہان کے بیانات قلمبند ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ سابق چیئرمین نیب ،قمرالزمان کے دور میں جوجو کوتاہیاں کی گئی ہیں ان کا بھی غور سے جائزہ لیا جائے گا ،انہوں نے لاء افسر کو کہا کہ سپریم کورٹ کے 2013 کے فیصلے پر نیب اور دوسرے اداروں نے اب تک جو جو کیا اقدامات کیے ہیں اس کی مکمل رپورٹ پیش کی جائے ؟

عدالت نے ملزم ایاز خان نیازی کی ضمانت کا حکمنامہ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی اور لاہور اور کراچی کی احتساب عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کر لیں ،عدالت نے قرار دیا کہ احتساب عدالتوں کے جج تاخیر کی وجوہات سے آگاہ کریں، بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی۔
بشکریہ روزنامہ جنگ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے