چوہدری کی پریس کانفرنس میں نیا کیا؟

سابق وفاقي وزیر داخلہ اور مسلم ليگ ن کے رہنما چودھری نثار علي خان کا کہنا ہے کہ مياں نواز شريف کے آئندہ اليکشن ميں خلائي مخلوق سے مقابلے اور عمران خان کے آرمي کے خلاف بيانات سے سخت مايوسي ہوئي،پارٹي نہيں چھوڑوں گا،چاہتا تو 40،45ممبران اسمبلي کا گروپ بنا سکتا تھا ليکن سازشي شخص نہيں اس لئے کوئي گروپ بنايا نہ بناوں گا

اسلام آباد ميں پريس کانفرنس کےدوران سابق وزیر داخلہ کا کہناتھاپاکستان پر اس وقت مشکل ترین حالات ہیں،اور چارون طرف سے گھیرا تنگ ہورہا ہے، خوفناک صورتحال بن رہی ہے،ليکن افسوس کي بات ہے کہ اس بات کا کسي کو احساس نہيں،

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ لوگ مجھ پر کسی گروپ میں شامل ہونے کا الزام لگاتے ہیں اورپوچھتے ہيں کہ مسلم لیگ (ن) میں رہوں گا یا نہیں؟ یہ سوال پوچھنے اور سوچنے والے میری سیاسی تاریخ دیکھ لیں، گزشتہ 35 سال سے ایک ہی جماعت اور نوازشریف کا ساتھی رہا، بڑے بڑے امتحانات آئے لیکن اپنی جماعت کو نہیں چھوڑا، لہذٰا 2 نمبر آدمیوں کی باتوں میں کوئی نہ آئے۔ آج تک کسی گروپ کا حصہ بنا اور نا ہی آئندہ اس کا امکان ہے اور نہ ہی کبھی پارٹی کو مایوس کروں گا،نواز شريف کي نااہلي کے بعد پارٹي سے ناراض اراکين کا ايک تعداد تھي اگر چاہتا تو 40،45اراکين اسمبلي کا ايک گروپ بناليتا۔اس دوران جس بھي رکن اسمبلي نے رابطہ کيا اسے کہا کہ پارٹي ميں رہ کر اختلاف کيا جائے،کچھ جانے والوں کو نہيں روک سکا۔

 

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اب عمران خان اور پی ٹی آئی کي سينييئر ليڈر شپ مجھے اپني جماعت ميں شموليت کي دعوت ديتے ہيں ليکن انکا شکریہ، بڑی بات ہے کہ ایک پارٹی کے لیڈران مجھے شمولیت کی دعوت دے رہے ہیں،ليکن ميں کہتا ہوں کہ ميں ايک پارٹي کے ساتھ کھڑا ہوں خلائی مخلوق کے بیانات پر افسوس ہے کیونکہ ہم حکومت میں ہیں، الیکشن ضرور لڑوں گا، میرے ساتھ میاں صاحب اور ان کی بیٹی طعنہ زنی میں مصروف رہے، کبھی شعر کے ذریعے اور کبھی کسی بیانات کے ذریعے، وہ ساری زندگی اپنا ساتھ دینے والے کی کردار کشی کرا رہے ہیں، پارٹی چھوڑی ہے نہ چھوڑنے کا ارادہ ہے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میں کسی تحریک کا حصہ نہیں اور نا ہی کسی کا آرڈر لے کر آیا ہوں، میں کسی سے آرڈر نہیں لیتا بلکہ سیاسی فیصلے اپنی مرضی سے کرتا ہوں۔ عمران اور نوازشریف میرے سوال پر چپ ہوجاتے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نوازشریف مسلم لیگ (ن) کے بانی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ میں بھی پارٹی کا بانی رکن ہوں اور میرے علاوہ کوئی بھی شخص بانی رکن نہیں، پارٹی کے تمام ارکان قابل احترام اور معزز ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کے موجودہ 70 فیصد سے زیادہ رہنماؤں نے پارٹی چھوڑی اور پھر شمولیت اختیار کی۔ لیکن میں تسلسل کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ جڑا رہا۔

سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ میں نے آج تک کبھی پارٹی سے کہنے کے باوجود کسی عہدے کا تقاضا نہیں کیا، میں واحد شخص تھا کہ جب پاناما لیکس شروع ہوا تو میں نے نواز شریف کو سپریم کورٹ نہ جانے کا مشورہ دیا، اور کہا کہ نواز شریف کو نقصان ہوسکتا ہے، اس کے بعد نواز شریف کو قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرنے کا بھی مشودہ دیا، جے آئی ٹی بنی تو میں نے کہا کہ آرمی چیف کو بلائیں اور کہیں کہ فوج کے بریگیڈئرز اس میں نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ جے آئی ٹی نے فیصلہ ہمارے حق میں کیا تو اپوزیشن اس فیصلے کو متنازع بنا دے گی اور اگر ہمارے خلاف کیا تو ہم شور مچائیں گے، نواز شریف نے 2 بار وعدہ کیا لیکن وہ میٹنگ نہیں ہوئی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ میں نے نواز شریف کو عدلیہ و فوج کے خلاف لہجہ دھیما کرنے کا مشورہ دیا، ان سے کہا کہ سختی سے کہیں میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، ن لیگ نے مشرف کے 4 ساتھیوں کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ليکن ميں نے پھر بھي پارٹي کے اميدواروں کوووٹ کيا۔

چوہدري نثار علي خان کا کہنا تھا کہ نواز شريف کہتے ہيں کہ وہ پہلے نظرياتي نہيں تھے اب نظرياتي بن گئے ہيں تو کہتا ہوں کہ وہ اس کي وضاحت کريں کہ اب وہ کونسے نظرياتي ہيں،کہيں اب انکا نظريہ محمود اچکزئي کا نظريہ تونہيں،کيونکہ پي کے ميپ اور مسلم ليگ ن کے نظريہ ميں زمين آسمان کا فرق ہے،

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے