طلال چودھری توہین عدالت کیس

طلال چوہدری توہین عدالت کیس کی سماعت کرنے والا بنچ تحلیل ہو گیا، بنچ جسٹس اعجاز افضل خان کی ریٹائرمنٹ کے باعث ٹوٹا ہے،، وقت کی کمی کے باعث طلال چوہدری کا سیکشن 342 کا بیان قلمبند نہ ہوسکا،

طلال چودھری نے کہا کہ عدالت اجازت دے تو دل سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا جمہوریت پسند ہوں، میری گفتگو کا غلط تاثر لیا گیا، احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفت پر جوتا پھینکا گیا تو سماء ٹی وی نے مجھے ٹیلی فون لائن پر لیا، گھر پہنچا تو دیکھا میری گفتگو غلط انداز میں چلائی جارہی ہے، خبر چل رہی تھی کہ میں نے آئینی سربراہ پر جوتا پھیکنے کی دھمکی دی، خبر دیکھ کر فوری طور پر سماء ٹی وی سے رابطہ کیا، جس کے بعد انہوں نے معذرت بھی کی اور ضاحت بھی، عادی ملزم نہیں ہوں، عدالت میرے کنڈکٹ کو بھی دیکھے، امید کرتا ہوں عدالت توہین عدالت کا نوٹس واپس لے گی، جسٹس اعجاز افضل خان نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو صفائی کا پورا موقع ملے گا، عدالت شواہد اور کنڈکٹ دیکھ کر فیصلہ کرے گی، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی گئی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے