صغری بی بی اور سات جج

سپریم کورٹ کے سات ججوں کے سامنے جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے طالب علم کی والدہ نے سوال اٹھایا ہے کہ گیارہ سال بعد بھی انصاف کیوں نہیں مل رہا؟

سپریم کورٹ میں دوسری ایف آئی آر کے اندراج کے قانونی نکتے اور عوامی مفاد کے مقدمے کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے _ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے 2008 میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیے گئے محسن علی کی والدہ صغری بی بی کی درخواست کی سماعت کی _

اٹارنی جنرل ،وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ایک واقعہ کی دوسری ایف آئی ار کے اندارج کی مخالفت کی _  پولیس مقابلے میں مارے گئے محسن کی والدہ عدالت میں پیش ہوئیں اور بیٹے کے قتل کی نئی ایف آئی آر کا اندارج کرکے قاتل گرفتار کرنے کی استدعا کی _

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ انصاف قانون کے مطابق ہوگا، انڈین سپریم کورٹ نے بھی واضح کیا ہے کہ دوسری ایف آئی آر کا اندراج نہیں ہوگا _ مقتول محسن کی والدہ نے کہا کہ میں شوق سے سپریم کورٹ نہیں آئی، نہ ہی مجھے اسلام آباد دیکھنے کا شوق ہے، میرا دسویں کلاس کا طالب بیٹا میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا گیا _ مقتول کی ماں نے عدالت میں دہائی دی کہ مجھے انصاف چاہیے، میں دربدر کی ٹھوکریں کھا کر آئی، مجھے کوئی انصاف نہیں دے رہا، کوئی بھی میری بات نہیں سن رہا میں دربدر ہوگئی ہوں، مجھے انصاف کیوں نہیں مل رہا، مقتول محسن کی والدہ نے 7 رکنی لارجر بنچ کے سامنے کہا کہ بے وارثوں کا اللہ وارث ہے، مجھے اگر عدالت سے انصاف نہ ملا تو اللہ کی عدالت مجھے انصاف دے گی _

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا، آپ چاہتی ہیں جرم ثابت ہونے سے قبل ملزم گرفتار کیے جائیں _

صغری بی بی نے کہا کہ میں 11 سال سے انصاف کے لیے دربدر ہو رہی ہوں _ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ گواہ آپ نے پیش کرنے ہیں _ خاتون نے کہا کہ میرا گواہ میرا ایک بھائی ہے _

واضح رہے کہ 18 مارچ 2008 کو شکایت درج کی گئی تھی کہ لاہور شاہدرہ ٹاؤن پولیس نے نوجوان محسن کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا ہے  _ اس معاملے کی دو مرتبہ جوڈیشل انکوائری بھی کرائی جا چکی ہے _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے