نوازشریف کے خلاف ایک اور درخواست

اسلام آباد ہائی کورٹ سے
اویس یوسف زئی

بھارت میں ممبئی حملوں سے متعلق بیان پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مقدمہ اندراج اور قانونی کارروائی کے آغاز کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پیمرا کو نواز شریف کی ریاست مخالف تقاریر نشر نہ ہونے کو یقینی بنانے جبکہ چیئرمین پی ٹی اے کو سوشل میڈیا سے ریاست اور قومی اداروں کے خلاف مواد حذف کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں ۔
دو مقامی وکلارائے تجمل اور فہد بن صداقت ایڈووکیٹ نے سینئر قانون دان اور پی ٹی آئی رہ نما بابر اعوان ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں ڈی جی ایف آئی اے ، میاں نواز شریف ، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی اے کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف نے تین مئی کو احتساب عدالت پیشی کے موقع پر قومی راز افشا کرنے کی دھمکی دی ۔ وہ پانامہ کیس میں وزارت عظمی سے ہٹائے جانے کے بعد تمام ریاستی ادارو﷽ں سے نالاں ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق نواز شریف نے ڈان لیکس سکینڈل میں ملکی سیکورٹی اداروں پر الزام لگانے والے صحافی سرل المیڈا کو 11مئی کو ایک انٹرویو دیاجو12 مئی کو شائع ہوا۔ دشمن ملک بھارت نے اس بیان کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کے اعتراف کے طور پر لیا۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈی جی ایف ایف آئی اے کو نواز شریف کےخلاف قانونی کارروائی اور مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے ۔ چیئرمین پیمرا کو ہدائت کی جائے کہ نواز شریف کی ریاست مخالف تقاریر نشر نہ ہونے کو یقینی بنائیں ۔ چیئرمین پی ٹی اے کو سوشل میڈیا سے ریاست اور قومی اداروں کے خلاف مواد حذف کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں ۔ درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کر دیا گیا ہے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی منگل 15 مئی کو درخواست پر سماعت کریں گے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے