معصوم بچوں سے درندگی

محمد عاصم

سال دو ہزار اٹھارہ کے اوائل میں بھارت میں ایک انتہائی شرمناک واقعہ پیش آیا ۔ ایسے واقعات کسی بھی معاشرے کے کسی بھی طبقے یا فرد کا سرشرم سے جھکا دیتے ہیں ۔ جنوری کے مہینے میں پیش آنے والے اس واقعہ کا پتہ تین ماہ بعد ایک پولیس تفتیش کے ذریعے چلا ۔
بچے دنیا کی سب سے خوبصورت تخلیق ہیں مگر پاکستان اور انڈیا میں معاشرے کے کچھ ناسور ان کو کچل دیتے ہیں ۔ ایسے افراد کیلئے کچھ لوگ جنسی درندوں کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایسے افراد نفسیاتی مریض ہیں۔ معصوم بچوں کو قتل کرنے والوں کو معاشرہ کوئی بھی نام دے، اس سے جرم کی سنگینی کم نہیں ہوتی ۔

بھارت میں اس سال کے پہلے ماہ میں شرمناک واقعہ پیش آیا۔ ایک ایسا واقعہ جس نے معاشرے میں ہرمذہب کے ماننے والوں اور ہر فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے سر شرم سے جھکا دیے۔ بچے جن کو پیار اور محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔بچے جن کی وجہ سے اچھے خاصے سنجیدہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آتی ہے۔ ان ہی بچوں میں سے ایک بچی کو بھارت میں ہوس کا نشانہ بنایا ۔ آٹھ سالہ مسلمان بچی آصفہ کو پہلے اغوا کیا گیا اور پھر درندگی کا نشانہ بنایا گیا ۔ جنسی درندے نے ہوس پوری ہونے کے بعد ننھی پری کو قتل کر دیا ۔
آٹھ برس کے معصوم بچے ہوس، درندگی اور زیادتی جیسے لفظوں ناآشنا ہوتے ہیں ۔ ایسے بچے صرف ایک ہی زبان سمجھتے ہیں اور وہ ہوتی ہے محبت۔ ایسے معصوموں کے ساتھ جس معاشرے میں ایسے واقعات ہوں اس سماج کی حالت پر ہم سب کو سوچنا چاہیے ۔ آج ہم سب کو اس بات پر سوچنا ہے کہ ہم اور کتنی آصفہ،زینب کومعاشرے میں موجود ان درندوں کا نشانہ بنتے دیکھتے رہیں گے ۔
آٹھ سالہ مسلمان بچی آصفہ کا تعلق جموں کشمیر سے تھا ۔ معصوم آصفہ کو اغوا کرکے پانچ دن ایک مندر میں رکھا گیا۔ اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی ہے۔ بھار ت کا معاشرہ اس واقعہ سے بے خبر رہا۔ پھر تین ماہ بعد پولیس نے تفتیش مکمل کی تو اس کا انکشاف ہوا۔ یہ صرف انڈیا کے معاشرے تک محدود نہیں۔ ہم نے پنجاب کے ضلع قصور سے تعلق رکھنے والی ننھی زینب کو چھ سال کی عمر میں اس درندگی کا نشانہ بنتے دیکھا۔ زینب گھر سے قرآن پاک کی تلاوت کرنے کے لئے نکلی تھی۔ اس کو بھی راستے سے اغوا کر لیاگیا تھا۔ زینب کے ساتھ بھی زیادتی کی گئی اور اس کوبھی دو دن بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
ان واقعات پر ہم کچھ بولنے کے قائل نہیں۔ کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے گھر کے معاملات نہیں۔ہمارا گھران معاملات سے کوسوں دور ہے۔ اگر زینب قتل پر جو کچھ بولا گیا وہ صرف سیاسی بیان بازی تھی اور کچھ نہیں۔ ہم سب کے لئے شرمندگی کا مقام ہے، ایسے معاشرتی المیے پر ہم سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرتے ہیں ۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں ۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی رابیہ بھی اسی درندگی کا نشانہ بنی۔ رابیہ بھی اپنے گھر سے باہر نکلی اور اغوا کر لی گئی، پھر زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کردی گئی ۔ ہمیں ان واقعات کی روک تھام کیلئے عملی قدم اٹھانے ہوں گے ۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس درندگی کو ختم کرنے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی ۔ یقینی بنانا ہوگا کہ کسی بچی کے ساتھ زیادتی یا اسے ہراساں کرنے کا واقعہ پیش نہ آ ئے۔ یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ کسی زینب، آصفہ یا رابعہ کو زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ نہ اتارا جاسکے۔ آئندہ کسی بچے کے والدین جیتے جی نہ مر سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے