شمالی وزیرستان میں احتجاجی دھرنا

یوتھ آف وزیرستان اور پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر اہتمام شمالی وزیرستان میں بے امنی کے خلاف احتجاجی دھرنا چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے ۔  میر علی چوک میں احتجاجی دھرنے میں شامل مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کا سدباب کیا جائے اور ملزمان کو گرفتار کیا جائے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ ایک مہینے میں میرعلی اور میران شاہ کے مختلف علاقوں میں دس افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے ۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تصاویر کے مطابق یہ احتجاجی دھرنا میرعلی کے مرکزی چوک پر جاری ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق دھرنے کا آغاز ہفتے کے روز موسی کلیم نامی ایک نوجوان کے قتل کے بعد ہوا ۔ موسی کلیم جمعیت علما اسلام ف کے سابق ایم این اے مولانا دیندار خان کے صاحبزادے تھے ۔

پشتون تحفظ موومنٹ نے دھرنے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور پی ٹی ایم کے محسن داوڑ دھرنے میں شریک ہیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں حال ہی میں بعض شدت پسند واپس آکر دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں جس سے اہل علاقہ میں تشویش پائی جاتی ہے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے