سترہ سال کے قاتل و مقتول

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے قریب ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں مارے جانے والوں میں پاکستانی طالبہ سبیکا عزیز شیخ بھی شامل ہیں ۔ کراچی میں سبیکا کے گھر تعزیت کرنے والے افراد کا تانتا بندھ گیا ہے ۔ سبیکا کے والد نے کہا ہے کہ اس کی بیٹی کے چھوٹی سی عمر میں بڑے خواب تھے ۔

کراچی کے ایک پبلک اسکول میں پڑھنے والی 17 سالہ سبیکا کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج کے تحت ہیوسٹن کے سانٹافے سکول میں گذشتہ سال اگست میں پڑھنے گئی تھیں ۔ سبیکا کے والد عبدالعزیز نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سبیکا تین بہنوں میں سب سے بڑی تھی، اس کی دو چھوٹی بہنیں اور ایک بھائی ہے، سبیکا کو 9 جون کو واپس کراچی پہنچنا تھا ۔ سترہ سالہ سبیکا کے قاتل طالب علم دیمیتریوس کی عمر بھی سترہ برس ہے ۔

سبیکا کے والد نے بتایا کہ فائرنگ کی اطلاع انھیں میڈیا سے ملی ۔ پھر انھوں نے سبیکا کے نمبر پر فون کیا، لیکن وہاں سے جواب نہیں آیا۔ پھر سکول کے رابطہ کار سے رابطے سے پتہ چلا کہ سکول میں فائرنگ ہوئی ہے ۔ تین چار گھنٹے بعد اس نے تصدیق کی کہ سبیکا بھی فائرنگ کی زد میں آ گئی ہیں ۔ غمزدہ باپ نے کہا کہ مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ میری بیٹی چلی گئی ہے ۔

امریکی شہر ہیوسٹن کے نزدیک سانتا فے ہائی سکول میں طالبعلم کی فائرنگ سے کل دس افراد ہلاک جبکہ دیگر دس زخمی ہو گئے ہیں ۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد طلبہ کی تھی ۔ 17 سالہ حملہ آور طالبعلم دیمیتریوس پگورٹزس کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔

 

پولیس نے بتایا ہے کہ حملہ آور کی ڈائری، کمپیوٹر اور موبائل فون سے مزید معلومات ملی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے حملے کی پہلے تیاری کی تھی اور اس کا ارادہ تھا کہ وہ اس کے بعد خود کشی کر لے گا ۔

 

بی بی سی کے مطابق ٹیکساس سکول کی فائرنگ سے قبل فروری میں فلوریڈا کے ایک سکول میں پڑھنے والے طالبعلم نے فائرنگ کی تھی جس سے 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سال 2018 میں امریکی سکولوں میں امریکی فوج کے مقابلے میں زیادہ اموات ہوئی ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے