نوازشریف کے عدالت کو جواب

نواز شریف نے عدالتی روسٹرم پر کھڑے ہو کر کیا کچھ کہا ؟

احتساب عدالت سے
اویس یوسف زئی

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے لندن فلیٹس کی ملکیت سے متعلق نیب ریفرنس کی سماعت کی تو سابق وزیراعظم نواز شریف نے بطور ملزم دوسرے روز بھی اپنا بیان جاری رکھا ۔ نواز شریف نے ساڑھے تین گھنٹے سے زائد وقت روسٹرم پر گزارا۔پہلے روز 55 سوالوں کے جواب ریکارڈ کیے گئے تھے دوسرے دن 68 سوالوں کے جواب قلمبند کیے گئے ۔ یوں 128میں سے 123 عدالتی سوالوں کے جواب ریکارڈ کر لیے گئے ۔بدھ کو نواز شریف اپنا بیان مکمل کرائیں گے اور عدالت کو آگاہ کریں گے کہ وہ اپنے دفاع میں کیا کہتے ہیں؟ اپنے حق میں کوئی گواہ پیش کر رہے ہیں یا اس کی ضرورت ہی نہیں ۔

دوران سماعت نواز شریف نے اپنے وکیل خواجہ حارث کی معاونت لی اور نواز شریف کے بیان کا کچھ حصہ خواجہ حارث نے عدالت میں پڑھ کر سنایا جس پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے اعتراض کیا اور کہا کہ اس طرح سے ملزم کا بیان ریکارڈ کرنا قانون کی منشا کے خلاف ہے ۔ عدالت ملزم کا بیان ریکارڈ کر رہی ہے۔ وکیل کا نہیں۔ نواز شریف نے عدالت کو بتایا کہ مسلسل پڑھنے سے ان کے گلے میں مسئلہ ہوتا ہے اس لیے خواجہ حارث کی مدد لی ہے جس پر عدالت نے خواجہ حارث کی معاونت لینے کی اجازت دے دی ۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کو بتایا ہے کہ گلف سٹیل ملز کی فروخت کے معاہدے اور حاصل رقم سے قطری خاندان کے ساتھ سرمایہ کاری یا اس کے نتیجے میں ایون فیلڈ پراپرٹیز کے حصول سمیت کسی معاہدے یاٹرانزیکشن کا حصہ نہیں رہا ۔ میرے بیٹوں حسن اور حسین نواز کو اس عدالت نے مفرور قرار دے دکھا ہے ۔ اپنے قول و فعل کے خود ذمہ دار ہیں۔ان کے عدالت سے مفرور ہونے کو میرے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا ۔ نواز شریف نے قطری خطوط تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی ارکان نے قطری شہزادے کا بیان لینے کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی ۔ واجد ضیا قابل اعتبار گواہ نہیں جو ملزمان کو کسی جرم کے ارتکاب میں ملوث کرنے کے لیے جعلسازی سمیت کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ٹرسٹ ڈیڈز کا فرانزک جائزہ لینے والے ایکسرٹ رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ وہ دستاویزات کی فوٹوکاپی پر تیار کی گئی ۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ گلف اسٹیل ملز کے 25 فیصد شیئرز کی فروخت سے متعلق معاہدے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔شیئرزکی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی قطری خاندان کے کاروبار میں سرمایہ کاری اور اس کے نتیجے میں ایون فیلڈ پراپرٹیز کے حصول کے معاہدے یا ٹرانزیکشن کا بھی حصہ نہیں رہا ۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ کیپیٹل ایف زیڈ ای کے مالک ، ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر نہیں رہے اور نہ ہی کمپنی کے لین دین میں ان کا کوئی کردار تھا۔سربراہ جے آئی ٹی واجد ضیاء نےکیپٹل ایف زیڈ ای میں ملازمت سے متعلق جبل علی فری زون اتھارٹی کا سرٹیفکیٹ پیش کیا حالانکہ اس سرٹیفکیٹ کا اس کیس میں عائد کی گئی فرد جرم سے کوئی تعلق نہیں ۔واجد ضیاء متعصب ہیں جو قابل اعتبار گواہ نہیں ۔ انہوں نے عدالت میں غلط بیانی کی کہ جے آئی ٹی نے گواہوں کو پیشگی سوالنامہ نہ بھجوانے کا متفقہ فیصلہ کیا تھا تاہم جرح کے دوران اعتراف کیا کہ جیریمی فری مین کو سالیسٹر اختر راجہ کے ذریعے سوالنامہ بھجوایا گیا تھا۔ جے آئی ٹی کا ممبر ہوتے ہوئے واجد ضیاء نے جان بوجھ کر قطری شہزادے کا بیان قلمبند کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا حالانکہ قطری شہزادہ پاکستان کے بجائے قطر میں اپنے محل میں بیان ریکارڈ کرانے کو رضا مند تھا ۔ حمد بن جاسم نے جے آئی ٹی سے خط و کتابت میں سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے خطوط کی تصدیق کی ۔ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ارکان نے آہلی سٹیل ملز (سابقہ گلف سٹیل ملز )کی مشینری سعودیہ منتقل ہونے سے متعلق دبئی اتھارٹیز کو گمراہ کیا۔ لیٹر آف کریڈٹ کے مطابق آہلی سٹیل ملز کی سیکنڈ ہینڈ مشینری شارجہ سے سعودیہ منتقل ہوئی، دبئی سے نہیں۔ موزیک فونیسکا اور فنانشل انوسٹی گیشن ایجنسی کے خطوط کو شواہد کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ یہ قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف کا خط جس ایم ایل اے کے نتیجے میں آیا ، اسے بطور شواہد ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا۔نواز شریف نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز اور التوفیق بینک کے درمیان سٹیلمنٹ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔ شیزی نقوی کا بیان حلفی بھی میرے اس موقف کی تائید کرتا ہے ۔ میرے علم میں نہیں کہ دو ہزار چھ سے پہلے مریم نواز کا منروا سروسز سے رابطہ تھا۔

22مئی 2018

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے