مریم نواز کا استغاثہ کو جواب

"سوری عباسی صاحب ،پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے، "مریم نواز

کورٹ روم سے
اویس یوسف زئی

ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی مریم نواز بطور ملزمہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش ہوئیں۔ مریم نواز کو 9:07 پر روسٹرم پر بلوایا گیا ۔ انہوں نے ساڑھے تین گھنٹے سے زائد وقت روسٹرم پر گزارا اور 128 میں سے 46عدالتی سوالات کے جواب ریکارڈ کرائے ۔کہتے ہیں کہ خواتین سے ان کی عمر کا نہیں پوچھنا چاہئے مگر یہاں عدالت کا پہلا سوال ہی ان کی عمر سے متعلق تھا ۔ مریم نواز نے بتایا کہ ان کی عمر 44 سال ہے۔مریم نواز نے تحریری طور پر پہلے سے بیان تیار کر رکھا تھا جسے پڑھ کر عدالت کے سوالوں کے جواب لکھوائے ۔ عدالت کے سٹینو ٹائپسٹ نے بیان تحریر کرنا شروع کیا تو مریم نواز نے اس کی آسانی کے لیے کومہ اور فل اسٹاپ بھی پڑھنا شروع کر دیا جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے انہیں کہا کہ آپ کومہ نہ پڑھیں جس پر مریم نواز نے کہا کہ میرے وکیل نے پڑھنے کو کہا تو میں نے پڑھ دیا۔بعد میں یہ ذمہ داری مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ کے ایسوسی ایٹس نے نبھائی ۔مریم نواز اپنے انگریزی بیان کو بعض جگہ مزید بہتر بنایا اور زیادہ بہتر الفاظ ذہن میں آنے پر وہ تحریر کرائے ۔ اس دوران ان کا پارٹی رہنماوں کے ساتھ مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی جاری رہا ۔بیٹی کو کٹہرے میں دیکھ کر نواز شریف کا دل بھر آیا اور اس سماعت میں وقفے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے اس بات کا کھل کر اظہار بھی کیا ۔ نواز شریف نے کہا ان کی بیٹی کا مقدمے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، یہ نوبت بھی آنی تھی کہ بیٹیوں کو مقدمات میں گھسیٹا جا رہا ہے، اوچھی روایات قائم کی جا رہی ہے، ایسا کرنے والوں کو یہ سودا مہنگا پڑے گا، ایسے راستے نہ چنیں جہاں سے کسی کی بھی واپسی ممکن نہ ہو۔ نواز شریف نے کہا وہ اس امتحان سے بھی گزرجائیں مگر اس روش کا جو نتیجہ نکلے گاوہ سب کو بھگتنا ہوگا، کوئی سمجھتا ہے کہ وہ ان کے عزم کو شکست دے گا تو وہ سخت غلط فہمی میں ہے۔

مریم نواز نےکہا ہے کہ جے آئی ٹی میں دو ٹوک موقف پیش کیا کہ کبھی ایون فیلڈ پراپرٹیز کی اصل مالک یا بینیفشل اونر نہیں رہی ، گلف سٹیل ملز کے قیام اور سرمایہ کاری کا بھی علم نہیں، جب گلف سٹیل ملز قائم ہوئی تو ان کی عمر ایک سال تھی ۔ ان کاکہناہےکہ پانامہ پیپرز کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر ریٹائرڈ نعمان سعید اور ملٹری انٹیلی جنس کے کامران خورشید کی شمولیت نامناسب تھی۔ سترسال سے جاری سول ملٹری تناو کے تناظر میں حساس اداروں کے نمائندوں کی شمولیت سے بھی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی کارروائی پر اثر پڑا۔ آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر ریٹائرڈ نعمان سعیدڈان لیکس انکوائری کمیٹی میں بھی شامل تھے ۔ اس کمیٹی کی رپورٹ سے سول ملٹری تناؤ میں اضافہ ہوا ۔

مریم نواز نے کہا سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ کو ثبوت کے طورپر نیب ریفرنس کا حصہ بنانے کا نہیں ،صرف جے آئی ٹی کی تحقیقات میں حاصل مواد کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے جے آئی ٹی ارکان پر اپنے والد کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کو دہراتےہوئے کہا واجد ضیا جے آئی ٹی کے سربراہ تھے لیکن درحقیقت جے آئی ٹی کے دیگر ارکان کے زیر اثر اور جانبدار تھے ۔جے آئی ٹی کی دس والیم پر مشتمل رپورٹ خود ساختہ ، غیر متعلقہ اورسپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواستیں نمٹانے کیلئے تھی۔ اسے ریفرنسوں میں بطور شواہد قبول نہیں کیا جا سکتا۔آئین کا آرٹیکل 10 اے انہیں منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔

حسن اور حسین نواز کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی منی ٹریل کے سوال پر مریم نواز نے کہا یہ سوال شریک ملزمان سے متعلق ہے جو عدالت کے سامنے موجود نہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی کبھی نہیں کہا کہ وہ لندن فلیٹس کی بینفشل مالک ہیں ۔ گلف اسٹیل کے قیام کے وقت ان کی عمرصرف ایک سال تھی ، وہ طارق شفیع کے بیان حلفی یا ٹرانزیکشن کی عینی شاہد نہیں ۔مریم نواز نے کہا کہ ان کے والد نے قومی اسمبلی میں تقریر یا قوم سے خطاب میں کبھی نہیں کہا کہ وہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کے اصل مالک یا بینیفشل اونر ہیں۔ مریم نواز نے نیب پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ سردار مظفر عباسی کو سوری کہہ کر ایک سوال کا جواب ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے کہا کہ "سوری عباسی صاحب ،پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔”

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں کورٹ رپورٹرز سے غیر رسمی بات چیت میں کہا کہ وہ مستعفی ہونے کا پیغام بھجوانے والے انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کو برطرف کر سکتے تھے لیکن تحمل اور صبر سے کام لیتے ہوئے ایسا نہ کیا۔ وہ اس امتحان سے بھی گزر جائیں لیکن اس روش کے نتائج سب کو بھگتنا ہوں گے۔ نوازشریف کا کہنا ہےکہ پرویز مشرف کو انہوں نے نہیں عدالت نے ملک سے باہر جانے دیا ،ملک میں حقیقی جمہوریت کے لئے سب کو کھڑا ہونا ہوگا۔ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے ، حقائق منظر عام پر آنے چاہئیں، سچ ریکارڈ پر لانے کے لئے بیان دیا۔وفاقی وزراء پرویز رشید اور مشاہد اللہ خان کو کابینہ سے ہٹانا بھی بردباری کا حصہ تھا۔ گزشتہ روز میڈیا پر مکمل بیان چلنے پر خوشگوارحیرت ہوئی۔میڈیا اپنے ہاتھ پاوں ٹھنڈے نہ ہونے دے۔ چودھری نثار سے متعلق سوال پر نواز شریف نے ہنستے ہوئے کہا کہ جاتے جاتے اس طرح کے سوال نہیں کرتے۔

متعلقہ مضامین

تبصرہ

  1. خلائی مخلوق فوج سے بھی اوپر کوئی چیز ہے جس نے فوج کو بھی بہت نقصان پہنچایا- یہ سقوط ڈھاکہ اور کارگل کے انتہائی احمقانہ اور ظالمانہُ آپریشن کے لئیے ذمہ دار ہے! یہ مشرف کی سیاہ کاریوں کی بھیُ ذمہ دار ہے اور ربوہ سے تعلق رکھنے والے رحمن ملک کے ہاتھوں ہزاروں ویزے بلیک واٹر کےدہشت گردوں کو دئیے جانے کے لئیے بھی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے