ہائی کورٹ کا تحریری حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ سے
اویس یوسف زئی

اسلام آباد ہائی کورٹ نےآئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کے باہر سڑک بند کرنے پر سیکرٹری دفاع کو 22جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ حساس ادارے کی جانب سے سڑک بند کر کے تجاوزات کرنے سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں۔ یہ امر فوج جیسے اہم ادارے کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے کہ اسے کوئی پوچھ نہیں سکتا اور یہ قانون سے بالاتر ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تین صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا ہےجس میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری دفاع 22جون کو پیش ہو کر وضاحت کریں کہ کنٹونمنٹ ایریا نہ ہونے کے باوجود کس قانون کے تحت تجاوزات قائم کیں؟ عدالت نے کہا ہے کہ حساس ادارے کی جانب سے سڑک بند کر کے تجاوزات کرنے سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں۔ یہ امر فوج جیسے اہم ادارے کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے کہ اسے کوئی پوچھ نہیں سکتا اور یہ قانون سے بالاتر ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایکسپریس ہائی وے پر ایف آئی اے کے دفتر کے سامنے سے بھی تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حساس ادارے نے اپنے ہیڈ کوارٹر کے باہر زیروپوائنٹ سے آبپارہ جانے والی سڑک کے 40 کنال ایریا پر تجاوز کر رکھا ہے۔ عدالت نے سی ڈی اے وضاحت طلب کی ہے کہ آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کے باہر تجاوزات پر کیوں سرنڈر کیا گیا؟ عدالتی حکمنامے میں رہائشی علاقوں میں میڈیا ہاوسز کے حوالے سے سی ڈی اے کی رپورٹ کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس کے مطابق 20 میں سے 5 میڈیا ہاوسز نے رہائشی علاقوں سے تجارتی سرگرمیاں ختم کر کے اپنے دفاتر منتقل کر لئے ہیں اور 15 میڈیا ہاوسز کو گھروں سے دفاتر ختم کرنے کے نوٹس جاری کئے گئے ہیں جن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں بول ٹی وی اور اے آر وائی نیوز سمیت 15 ٹی وی چینلز اس فیصلے سے متاثر ہوں گے جن کے وفاقی دارالحکومت کے رہائشی علاقوں میں دفاتر قائم ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے