اب حساب کتاب کا وقت ہے، نوازشریف

احتساب عدالت اسلام آباد میں نواز شریف نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب حساب کتاب کا وقت ہے، مشرف نہیں بچے گا  _

نوازشریف سے سوال کیا گیا کہ نگران وزیراعظم کا نام کیوں فائنل نہیں ہوا، تو ان کا جواب تھا کہ اگر اتفاق رائے نہ ہوا تو معاملہ پارلیمنٹ میں جائے گا _

عمران خان کے کافی عرصہ بعد پارلیمنٹ آنے پر تبصرہ کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے تو جلسے میں پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی تھی، آج اسی تھوک کو چاٹ رہے ہیں عمران خان، جس پر لعنت بھیجی اس کی مراعات کا پورا فائدہ حاصل کیا، نواز شریف نے کہا کہ مشرف کیس اوپن شٹ کیس ہے، یہاں ملک کا وزیراعظم 70 پیشیاں بھگت چکا ہے لیکن ڈکٹیٹر مفرور بنا ہوا ہے پیش نہیں ہوتا،

نواز شریف نے کہا کہ جو مکے دکھا رہا تھا آج باہر بیٹھا ہے بزدلی سے ، وہی مکا خود اپنے منہ پر مار لیتا،  ایک رپورٹر نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے شفقت محمود نے کہا ہے کہ مشرف کو ہم واپس لائیں گے، دوسرے رپورٹر نے کہا کہ پی ٹی آئی میں لائیں گے ، تو نواز شریف نے مسکرا کر کہا کہ یہ جواب انہوں نے دیا ہے آپ میری طرف سے لکھ دیں کہ پی ٹی آئی میں شامل کرائیں گے شفقت محمود _

نواز شریف نے کہا کہ ریٹائرڈ افسران کے لیے پلاٹوں کی پالیسی میں نے کبھی شروع نہیں کی، مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس سے متعلق نواز شریف نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مشرف کے کیس کا جو ٹرائل چل رہا ہے ایک نہ ایک دن مکمل ہوگا، اس کی جان نہیں چھوٹے گی، آج نہیں تو کل، پرسوں، سال بعد چھ سال بعد ضرور مکمل ہوگا، کوئی قانون اسے اس ٹرائل سے روک نہیں سکتا، نواز شریف نے کہا کہ موصوف باہر بیٹھ گئے ہیں جا کر، جو بارہ مئی کو پارلیمنٹ کے باہر مکے لہرا رہا تھا، مشرف نے پارلیمنٹ میں خطاب کے بعد بھی ملا لہرایا تھا، کہاں گیا وہ مکا ؟

نوازشریف نے کہا کہ اسد درانی کی کتاب میں ہونے والے انکشافات پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا جانا چاہئے، یہ ایک ایسا ایشو ہے جسے ڈسکس کرنا چاہیے، کریڈیبل قومی کمیشن کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے، ایک کمیشن بننا چاہیے جو ملک کے ساتھ ہونے والے تمام سانحوں کی تحقیق کرے، اب معاملات آگے بڑھیں گے، پیچھے نہیں جائیں گے، یہ اکیسویں صدی ہے، جو لوگ ماضی میں رہ رہے ہیں انہیں سوچنا چاہیے وہ ماضی میں ہی رہ رہے ہیں، نوازشریف نے کہا کہ قومی کمیشن اس حکومت میں نہ بنا تو کچھ عرصہ بعد بن جائے گا، بننا تو ہے، نوازشریف نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی پر بھی کمیشن بننا چاہیئے، پہلے جیسے ایک معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، کیا اب بھی بلایا جائے گا؟ کون ہے جو بندے توڑ کو دوسری جماعتوں میں شامل کرا رہا ہے، کون ہے جو ایک ترمیم کیلئے ووٹ نہ دینے کیلئے اسمبلیوں میں جانے سے روکتا ہے  _

نوازشریف نے کہا کہ میں صرف سیاسی معاملات پر ہی نہیں بنیادی حقوق پر بھی بات کروں گا، کون ہے جو میڈیا پر قدغن لگا رہا ہے، میڈیا کی آواز دبا رہا ہے، میڈیا کسی وجہ سے ڈرتا ہے لیکن میں نہیں گھبراتا نہ ڈرتا، الحمدلله، کون ہے جو کیبل آپریٹرز کو استعمال کر رہا ہے، اب حساب کتاب کا وقت آگیا ،اور میں نے 70پیشیاں بھگت کر اس کی مثال قائم کردی ہے، نوازشریف نے کہا کہ یہ حکومت جیسی ٹرم پوری کر رہی ہے، اللہ نہ کرے کہ کوئی اور بھی ایسی کرے، شاہد خاقان پارٹی کے وفادار کارکن اور محب وطن انسان ہیں، شاہد خاقان عباسی کی بہت عزت کرتا ہوں، وہ بھی میرے جتنے ہی مسلم لیگ ن سے کمٹیٹڈ ہیں، جس طرح شاہد خاقان عباسی نے دس ماہ گزارے ہیں وہ قابل تعریف ہیں،

نوازشریف نے کہا کہ ملک میں ایک وقت میں دو تین متوازی حکومتیں نہیں چل سکتی، ہم نے پانچ سال پورے ہونے سے پہلے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کر دئیے، ہم سی پیک لے کر آئے اب اس میں بھی خلل پڑ رہا ہے، سی پیک میں بھی رکاوٹ آگئی ہے، منصوبے سست روی کا شکار ہوگئے ہیں، گورنمنٹ آف دی ڈے قومی کمیشن بنائے گی،

نوازشریف نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو قومی کمیشن بنائیں گے، میں یقین رکھتا ہوں تو کہہ رہا ہوں، سی پیک زرداری صاحب کا منصوبہ تھا تو ان کے دور میں شروع کیوں نہیں ہوا، نوازشریف نے کہا کہ فاٹا ریفارمز ان کا ایجنڈا تھیں تو ان کی حکومت نے کی کیوں نہیں، نوازشریف نے کہا کہ واجد ضیاء مشرف کے فارم ہاؤس کے باہر بیٹھ کر واپس آجاتے تھے، مجھے واجد ضیاء نے اپنے دفتر بلایا اور میں بطور وزیراعظم پیش ہوتا رہا _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے