ٹرسٹ ڈیڈ وصولی معمہ ہے

جس انداز میں ٹرسٹ ڈیڈ رابرٹ ریڈلے لیبارٹری کو بھجوائی گئی اور جے آئی ٹی کو رپورٹ موصول ہوئی وہ ایک معمہ ہے، مریم نواز

احتساب عدالت سے
اویس یوسف زئی

جمعہ کی صبح اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس میں قائم احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز دوسری مرتبہ بطور ملزمہ بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش ہوئیں ۔ ٹھیک9 بجے سماعت کا آغاز ہو گیا۔ مریم نواز کو روسٹرم پر بلایا گیا اور عدالتی سوالوں کے جواب ریکارڈ کرنے کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوا جہاں گزشتہ روز منقطع ہوا تھا۔ پہلے روز 46 سوالوں کے جواب ریکارڈ ہوئے تھے ۔ دوسرے دن مزید 36 عدالتی سوالوں کے جواب ریکارڈ کیے گئے۔ جمعہ کے باعث سماعت 12 بجے ختم ہوئی۔ مریم نواز کو عدالت کی طرف سے دیے گئے 128میں سے 82 سوالات کے جواب اب تک قلمبند کر لیے گئے ہیں۔

مریم نواز نے کہا ہے کہ پارک لین اپارٹمنٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں اور وہی نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کے بینیفشل اونر بھی ہیں ۔ مجھے صرف ٹرسٹی بنایا گیا تھا۔ جے آئی ٹی کو ٹرسٹ ڈیڈز کی نوٹرائزڈ کاپیاں دی تھیں۔ جے آئی ٹی نے بدنیتی کے تحت ٹرسٹ ڈیڈ پر ایکسپرٹ کی رائے حاصل کی اور براہ راست یا فارن آفس کے ذریعے فرانزک ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کرنے کے بجائے واجد ضیا کے کزن کوئسٹ سالیسٹر اختر راجا کے ذریعے رابرٹ ریڈلے کی خدمات حاصل کیں تاکہ اپنی مرضی کی رپورٹ حاصل کر سکیں۔ رابرٹ ریڈلے نے فرانزک سائنس کے طے شدہ قوانین اور مطلوبہ معیار کے خلاف دستاویزات کی فوٹوکاپیز کا موازنہ کر کے جائزہ رپورٹ تیار کی ۔ مریم نواز نے کہا کہ جب وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئیں تو جے آئی ٹی کو فرانزک ایکپرٹ کی رپورٹ موصول ہو چکی تھی مگر انہیں اس متعلق نہیں بتایا گیا اور نہ اس متعلق سوالات پوچھے گئے ۔ جس انداز میں ٹرسٹ ڈیڈ رابرٹ ریڈلے لیبارٹری کو بھجوائی گئی اور جے آئی ٹی کو رپورٹ موصول ہوئی وہ ایک معمہ ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ جیریمی فری مین نے کومبر گروپ ، نیلسن اور نیسکول سے متعلق ٹرسٹ ڈیڈ ز کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس کے آفس میں کاپیاں دستیاب ہیں مگر اختر راجہ یا نیب کے تفتیشی افسر نے وہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔

جج محمد بشیر   (فائل فوٹو)

مریم نواز نے کہا کہ رابرٹ ریڈلے کی یہ رائے بدنیتی پر مبنی ہے کہ 31جنوری 2007 کو کمرشل دستیابی سے پہلے کیلبری فونٹ کا استعمال ہی ممکن نہ تھا۔ریڈلے کی رپورٹ قابل بھروسہ نہیں ہے۔ رابرٹ ریڈلے نے جرح کے دوران خود اعتراف کیا کہ کیلبری فونٹ کے خالق لوکس ڈی گروٹ کو یہ فونٹ ڈیزائن کرنے پر 2005 میں ڈائریکٹر کلب کمپی ٹیشن ایوارڈ دیا گیا۔ یہ فونٹ 2005 سے استعمال کے لیے دستیاب تھا اور وہ خود بھی 2007 میں کمرشلی دستیاب ہونے سے پہلے یہ فونٹ ڈاون لوڈ کر کے استعمال کر چکا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ استغاثہ کے شواہد سے بھی میرا قطری خاندان کے ساتھ کاروبار سے کوئی تعلق ظاہر نہیں ہوتا۔قطری شہزادہ اپنے محل میں بیان قلمبند کرانے کیلئے تیار تھا ۔ اس نے جے آئی ٹی کے خطوط کے جواب دیے اور ہر بار سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے اپنے خطوط کی تصدیق کی۔گلف اسٹیل ملز کے شیئرز کی فروخت کے معاہدے کا مجھ سے تعلق نہیں ۔ اس حوالے سے منسٹری آف جسٹس یو اے ای کا جواب شواہد کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔سٹیفن مورلے نے اس بات کی تصدیق کی کہ برطانیہ اور بی وی آئی کے قانون کے مطابق ٹرسٹ انسٹرومنٹس کو رجسٹرڈ کرانا ضروری نہیں ۔استغاثہ کی طرف سے جس قانونی رائے پر انحصار کیا گیا ہے اسے شواہد کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ یہ سپریم کورٹ میں مخالف فریق کی طرف سے جمع کرائی گئی۔مریم نواز پیر کو اپنا بیان مکمل کرائیں گی۔

سماعت کے آغاز سے قبل اور وقفے کے دوران کورٹ رپورٹرز کو نواز شریف اور مریم نواز سے کمرہ عدالت میں غیر رسمی بات چیت کا موقع بھی میسر آتا ہے جو روٹین کی نیوز کانفرنس یا پریس ٹاک کے برعکس گپ شپ کے انداز میں گفتگو ہوتی ہے ۔ نواز شریف اس دوران کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ کیا سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسددرانی کی کتاب پربھی قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے گا؟

نواز شریف نے قومی سانحات ، حادثات اور سلامتی سے متعلق معاملات پر انکوائری کے لئے ایک قابل اعتبار قومی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تو صحافی نے پوچھا کیاوزیراعظم کو قومی کمیشن بنانے کی تجویز دینگے؟ نواز شریف نے کہا حکومت کی مدت میں صرف 4یا5دن رہ گئے ہیں ، کمیشن اب نہ بنا تو کچھ عرصے بعد بن جائے گا۔اب حساب کتاب کا وقت ہے ۔

نواز شریف نے کہا صرف سیاسی معاملات پرہی نہیں شہری آزادیوں اور اظہار رائے کی آزادی سےمتعلق بات کرنا بھی میرا فرض ہے۔میڈیا اگر ڈرتا ہے توڈرے ، میں نہیں ڈرتا الحمداللہ ۔ ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا جس طرح حکومت اپنی مدت پوری کررہی ہے خدانہ کرے کوئی اورحکومت اس طرح اپنی مدت پوری کرے۔ شاہد خاقان نے جس طرح 10ماہ گزارے ان کی ہمت ہے جس کی داد دیتا ہوں۔ملک میں ایک وقت میں دو تین حکومتیں نہیں چل سکتیں۔
انہوں نے کہا 28جولائی کے فیصلے کے بعد معاشی حالات خراب ہوئے۔ سی پیک میں رکاوٹ آئی ، منصوبے سست روی کا شکار ہوئے۔ سی پیک سے متعلق باقی تحقیقات میڈیا خود کرے ۔

نواز شریف نے کہا عمران خان نے پارلیمنٹ کو گالیاں دیں ، لعنت کا لفظ استعمال کیا۔ جس پر لعنت بھیج رہے ہیں، اس سے پورا فائدہ اٹھایا اور مراعات حاصل کیں۔ اگریہ غیرپارلیمانی نہیں ہے تو اسے ہی تھوک کر چاٹنا کہتے ہیں ۔ مشرف کے خلاف سنگین غدرای کیس آسانی سے ثابت کیا جانے والا مقدمہ ہے ۔اسی لیے وہ پاکستان نہیں آرہے، ایک وزیراعظم 70،70پیشیاں بھگت رہاہے اور ڈکٹیٹر مفرور ہے، مشرف مُکے دکھاتا تھا، کہتا تھا یہ ہے طاقت ، کہاں گیا وہ مُکا؟ بزدلی سے جو باہر بیٹھا ہے بہتر ہے وہ مُکا اپنے منہ پر مارتا۔

(مضمون نگار سینئر کورٹ رپورٹر اور جیو نیوز سے وابستہ ہیں)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button