علی نواز شاہ اور عمران خان مقابلہ

سید علی نواز شاہ جیت گئےاورعمران خان ہار گئے !

تحریر: عبدالجبارناصر
سید علی نواز شاہ (سینئر) پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو شہید کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں اور اس وقت شرافت میں اپنی مثال آپ ہیں۔
سید علی نواز شاہ میر پورخاص سے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 62 سے رکن سندھ اسمبلی ہیں۔
انہوں نے 25مئی 2018 کو سندھ اسمبلی کے ایوان میں نکتہ اعتراض پر ضمناً انکشاف کیا کہ وہ 5 سالوں سے اسمبلی سے اعزازیہ اور مراعات نہیں لیتے ہیں،اس لئےکہ بیماری اوردیگر وجوہ کی بناپر اسمبلی کے اجلاسوں میں میری حاضری کم رہی اور قانون سازی میں وہ کردار ادا نہیں کرسکا جو کر نا چاہئے تھا ، اس لئے میں اپنے آپ کو تنخواہ اور مراعات کا حق دار نہیں سمجھتا۔ جب میں اجلاسوں میں مکمل حاضر ہوکر اپنا کام نہ کرسکا تو یہ اعزازیہ اور مراعات میرا حق نہیں ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق گذشتہ 5سال میں سندھ اسمبلی کے 513 دن اجلاس ہوئے ہیں(بمع درمیان کی چھٹیوں کے)، جن میں نصف سے زائد اجلاسوں میں سید علی نواز شاہ شریک ہوئے یا چھٹی لی ۔اس کے باوجود انہوں نے 5سال میں تنخواہ اور مراعات نہیں لیں۔
ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر یہ رقم ایک کروڑ روپے کی قریب بنتی ہے۔
یہ ہیں اصل کردار کے غازی جو کہتے نہیں عمل کرکے دکھاتے ہیں۔

مہ

ایک طرف سید علی نوازشاہ کا یہ سنہرا کردار اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے 4 فیصد اجلاسوں میں نہ صرف شرکت نہیں کی بلکہ کبھی ان ایوانوں کو کرپشن کی آماجگاہ ، کبھی کرپٹ و چوروں کی پناگاہ کہا ، کبھی اس پر لعنت بھیجا تو کبھی اس میں آنا اپنی توہین گردانا اور نعرے ہیں نئے پاکستان کے۔
مجھے امید تھی کہ 24 مئی 2018 کو تحریک انصاف کے سربراہ محترم عمران خان صاحب قومی اسمبلی کے ایوان میں اعلان کریں گے کہ 5 سال تک میں میرے ساتھیوں میں سے جو جو بھی دانستہ طور پرغیر حاضر رہے ہیں ہم اعزازیہ اور مراعات نہیں لیں گے بلکہ جو لیا ہےواپس قومی خزانے میں جمع کرارہے ہیں مگر ایسا نہیں ہوا۔
خان صاحب !اگر ساتھیوں کی مجبوری تھی تو آپ تو یہ مثال قائم کرکے اپنے آپ کو منفرد بناسکتے تھے مگر آپ نے اخلاقی فتح کی بجائے 60سے 70لاکھ روپے کو اہمیت دی اور سچ یہ ہے کہ آپ ہار گئے سید علی نواز شاہ جیت گیا۔ ثابت ہوا کہ آپ کردار کے نہیں صرف گفتار کے غازی ہیں۔ ہمیں سید علی نواز شاہ جیسے کردار کے غازیوں کی ضرورت ہے ۔
خان صاحب !سید علی نواز شاہ نصف کے قریب اجلاسوں میں شرکت کے باوجود 5 سال کا اعزازیہ اور مراعات اپنے لئے جائز نہیں سمجھتے ہیں ، آپ قوم کو یہ تو بتادیں کہ 95فیصد سے زائد اجلاسوں سے غیر حاضر اور قانونی سازی جیسے بنیادی فرض سے مکمل لاتعلق رہ کر قومی خزانے کی یہ رقم آپ کے لئے کیسے جائز ہوئی ؟

خان صاحب ! نوازشریف کو بیٹے کی جس رقم کی بنیاد پر نا اہل قرار دیا گیا اس کے مقابلے میں آپ کی قومی خزانے سےحاصل کردہ رقم کئی گناہ زیادہ ہے پھر بھی آپ صادق و امین اور اہل ٹھرے؟
سلام ہو اے انصاف کو!!

متعلقہ مضامین