مشکوک خیرات

ثاقب زاد

ایک سال پہلے گرمیوں کے دن تھے ہسپتال کے سامنے بنی کینٹین پر شب بھر اپنے ایک مریض کے ساتھ گزارنے کے بعد تھکاوٹ دور کرنے کیلئے اس نے چائے کا آرڈر دیا اور سگریٹ سلگائی ۔۔ ایک بظاہر پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہشاش بشاش ادھیڑ عمر جس نے سر پر نماز پرھنے والی کجھور کے پتوں سے بنی ٹوپی پہن رکھی تھی آیا اور اللہ کے نام سے مانگنے لگا ۔ اس نے پاس رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا  اور ویٹر سے ایک چائے مزید لانے اور ساتھ کھانے کیلئے بھی منگوایا ۔ سامنے کرسی پر بیٹھے فقیر سے بے تکلف باتیں کرنے لگا ۔۔ حال احوال پوچھا گزر اقات پوچھی اور پھر عام روز مرہ کی باتیں شروع ہو گئیں، فقیر کیلئے آرڈر کئے چائے اور کھانا بھی میز پر سج گیا ۔ بے تکلف باتوں کا سلسلہ جاری رہا ۔۔ اس نے فقیر سے پوچھا کہ یہاں دن بھر کتنے کما لیتے ہیں جس پر وہ مسکرایا اور کہا بس 2 سے شام 5 یا کبھی 6 بجے تک اللہ کے فضل وکرم سے دو ہزار دیہاڑی بن جاتی ہے _ اس نے چونک کر دوسرا سوال داغا کتنے بچے ہیں نوالہ لیتے اس کے منہ سے صرف 3 نکلا ۔۔ کیا وہ بھی مانگتے ہیں ۔۔۔ نا صاحب وہ پڑھتے ہیں ۔۔ گرامر سکول میں۔۔۔ اس کی فیس بہت زیادہ ہے اس سے پوری ہو جاتی یے ۔۔ اس نے کہا صاحب اپنا چھوٹا موٹا بزنس بھی ہے دوسرے شہر میں ۔۔ تو گھر کہاں ہے ادھر ہی دوسرے شہر ۔۔۔ وہ بزنس کون دیکھتا ہے ۔۔ جی میرا ہے تو میں ہی دیکھوں گا نا ۔۔ بڑی بے تکلفی سے فقیر نے چائے کی سپ لیتے ہوئے کہا ۔۔ اس نے خفت کے عالم میں ایک اور سوال داغا روز آتے جاتے ہو ۔ ہاں اپنی گاڑی ہے ادھر اپنا سروس سٹیشن ہے اس پر کھڑی کی اور کپڑے بدل کر آ گیا ۔۔۔ اس کی ساری تھکن دور ہو گئی حیرت سے ۔۔۔ اتنے کھاتے پیتے ہو بھلا کیا ضرورت اسطرح  گداگری کی ۔۔ بس صاحب عادت سی ہو گئی ہے ۔۔  اس نے کھانا کھایا اور چائے نوش کر چکا اس سے پہلے کہ وہ  بولتا فقیر  اٹھ کھڑا ہوا اور دعاوں کا سلسلہ جاری ہو گیا اس نے ہاتھ میں تھاما نوٹ فقیر کی طرف کیا اس نے مسکرا کر کہا آپ کے حصے کا میں نے کھانا کھا لیا  اور سلام کرتا چل دیا ۔۔۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد  وہ کہنے لگا تب سے میں ہر گداگر کو کچھ بھی دینے سے پہلے مشکوک ہو جاتا ہوں مگر دوسرے لمحہ خیال آتا ہے کہ اللہ پاک دیکھ رہا اللہ کیلیے ہی تو دینا ہے ۔۔۔ وہ بولے جا رہا تھا مگر میں سوچے جا رہا تھا کہ ہم کیسے لوگ ہیں اللہ کے نام پر جو بھی مانگے ہم بن سوچے اسے عنائت کر دیتے ہیں اسلئے کہ اس کے اجر کی امید اللہ سے ہوتی ہے ۔۔کتنے ہی خیراتی ادارے اس چندہ سے اور عطیات سے چلتے ہیں جو ہم اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں کتنی زندگیوں کی امیدیں ان اداروں سے وابستہ جو شوکت خانم ہسپتال کی صورت کینسر زدہ کئی زندگیوں کیلئے مسیحا ہیں یہ محض ایک مثال ہے النور اور آئی کے  ٹرسٹ جیسے کئی فلاحی ادارے راشن ، سلائی مشینوں کی تقسیم اور کئی غربا کی بیٹیوں کے ہاتھ پیلا کرنے کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں ۔۔ اگر ہم اپنا حصہ نہیں ڈال سکتے تو کم از کم ان کی ساکھ کو درمے اور سخنے نقصان نہ پہنچائیں ۔۔  خواہ مخواہ کی ہرزہ سرائی اور  ایسے خیراتی ادروں پر الزامات کے نشتر نہ چلائیں   ایسے گھوسٹ خیراتی ارادے جو صرف ماہ مقدس میں سرگرم ہو جاتے ہیں اور باقی سال بھر خواب خرگوش کے مزے لوٹتے ہیں ان کا مواخذہ ضروری ہے تاکہ مخیر حضرات مشکوک نہ ہوں کہ کہیں ان کا کار خیر کیلئے حصہ ضائع نہ جائے ۔۔۔۔

متعلقہ مضامین