ڈھکن

تحریر: مطیع اللہ جان

نواز شریف اور مودی سرکار کے مشترکہ کاروباری مفادات کا کوئی ٹھوس ثبوت تو سامنے نہیں آیا مگر دونوں کے دو سابق ماتحتوں کا ایک کتابی معاشقہ طشت از بام ہو گیا ھے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی اور ان کے بھارتی ہم منصب اے ایس دلت نے ایک مشترکہ کتاب شائع کر دی ھے ۔ جنرل درانی اور را کے سابق سربراہ نے آمنے سامنے بیٹھ کر اپنی معلومات اور تجزیات کو ایک بھارتی صحافی ادیتیہا سنہا کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مکالے کی صورت شائع کیا ھے۔ ممبئی حملوں، افغانستان، کارگل، کشمیر، اوسامہ بن لادن اور دوسرے قومی سلامتی کے معاملات پر دونوں سابق جاسوسوں کے اس مشترکہ کاوش پر دن بدن بڑھتی ہوئی بحث نے کاروبار میں برکت ڈال دی ھے۔ کتاب میں ہوئے انکشافات و تجزیات نے عوام کے معلومات تک رسائی اور آزادئی رائے جیسے بنیادی حقوق پر بحث کو تقویت بخشی ھے۔ زیادہ تر انکشافات پاکستانی جرنیل نے کیئے ہیں جسکے بعد یہ سوال اُٹھ رہے ہیں کہ ایسی ہی باتیں کوئی نواز شریف جیسا سیاستدان کرتا تو وہ غداری کے مقدمات کا سامنا کرتا۔ جنرل درانی نے مذکورہ قومی معاملات پر ایسی معلومات اور تجزیئے دیئے کے ان کا مخاطب بھارتی خفیہ ادارے کا سابق سربراہ اے ایس دلت بھی دنگ رہ گیا۔ جنرل درانی کے کشمیر، کارگل اور اسامہ بن لادن کے پاکستان میں مارے جانے سے متعلق تجزیوں نے نواز شریف کے ممبئی حملے سے متعلق متنازعہ بیان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ھے۔

سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان کے ایک سابق جنرل اور وہ بھی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو اپنے دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ سے مل کر ایسی کتاب لکھنی چاہیئے تھی؟ اور پھر کیا ایک سابق جنرل کا حق آزادئی رائے عام پاکستانیوں یا ایک سابق وزیر اعظم سے بھی زیادہ ھے؟ ایک طرف تو “قومی سلامتی “ کے دباوٴ میں اخبارات کی ترسیل اور ٹی وی چینلوں کو بند کیا جا رہا ھے ، مضامین سینسر ہو رہے ہیں، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ٹی وی پر تقاریر کی آواز بند کی جا رہی ھے ، عدالتوں میں سیاسی تقاریر پر توہین عدالت اورغداری کے مقدمات کی درخواستوں پر نوٹس جاری ہو رہے ہیں تو دوسری طرف اسد درانی جیسا جنرل اپنی دھرتی ماں پر تہمت لگا کر دشمن ملک میں اپنی کتاب کی اشاعت اور فروخت کے ذریعے داد اور مال سمیٹ رہا ھے۔ اسی طرح پاکستان میں آسامہ بن لادن کے خلاف امریکی فوجی حملے کے بعد ایک توجہ ہٹاوٴنام نہاد میموسکینڈل کے باعث ایک زیرک پاکستانی سفیر پرغداری کا الزام دھر کر اسے ملک چھوڑنے پرمجبور کر دیا جاتا ھے اور اسی امریکی حملے کو اپنی تازہ کتاب میں پاکستانی فوج کی ملی بھگت قرار دینے والا ریٹائرڈ جنرل درانی دندناتا پھر رہا ھے۔ یہ وہی سرکش جرنیل ھے جو انیس سو نوے میں بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لیئے سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کرنے کا ڈھٹائ سے اعتراف کر چکا ھے مگر فوج جیسا ڈسپلن والا ادارہ بھی آج تک اس سے اور اس کے شریک ملزم اور فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ سے اس معاملے میں کسی “فوجی ضابطہ اخلاق” کی خلاف ورزی پر جواب طلبی تک نہیں کر سکا۔ بظاہر بہانہ ھے کہ معاملہ بیس سال سے عدالت میں تھا اور اب ایف آئی اے میں ھے۔ یہ شخص ابھی تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں؟ اس لیئے کہ اہم عہدوں پر بیٹھے اس کے شاگرد اسکے ماتحت رہے ہیں اور شاید یہ انکے بہت سے رازوں کا آمین ھے۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ جنرل درانی نی اپنے سابق ادارے کے علم میں لائے بغیر یہ نئی کتاب لکھی ھے تو پھر اس کے پاس دلیل بھی تو ھے۔ وہ یہ کہ ایک حاضر سروس آرمی چیف اگر قومی راز کتاب کی صورت چھاپ کر لاکھوں ڈالر کما سکتا ھے تو ایک ریٹائرڈ آئی ایس آئی کا سربراہ کیوں نہیں؟ یہ الگ بات ہو گی کہ کسی کتاب میں راز کتنے ہیں، ہیں بھی یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جنرل مشرف نے اپنی کتاب سے مال کماتے وقت فوج کے کسی ضابطے کی کاروائی مکمل کی تھی؟ اگر نہیں تو کیا بعد میں فوج نے اس حوالے سے کوئی ضابطے ترتیب دیئے تھے؟ اگر اب ضابطے موجود تھے تو کیا فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی یا تعلقات عامہ اور تشہیر کی نئی کور آئی ایس پی آر جنرل درانی کے بھارتی خفیہ ایجنسی راٴ کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ چھ سال سے جاری رابطوں اور انکی مشترکہ سرگرمیوں سے بلکل بے خبر تھی؟ درانی اور دلت نے اس عرصے میں کئی بار مشترکہ مقالے بھی پڑھے اور پھر دو ھزار سولہ اور سترہ میں بیرون ملک میں اس نئی مشترکہ کتاب کے لئیے جو درانی دلت بیٹھکیں ہوئی کیا حساس اداروں کو اس دوران میں کچھ محسوس نہ ہوا؟

کیا یہ حقیقت نہیں کہ اہم تجزیہ کار ٹائپ ریٹائرڈ فوجی افسران بھی باقاعدگی سے سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاری کی بریفنگ لیتے ہیں تو کیا جنرل اسد درانی جیسے اہم شخص کے لیئے بھے ہمارے ریڈار نے کام نہیں کیا؟ اس بات کا بھی امکان ھے کہ درانی کوانکے سابق ادارے کی طرف سے غیر رسمی طور پر ایسی سرگرمی کی اجازت دی گئی ہو۔ اگر ایسا ھے اور وفاقی حکومت کو اس بارے میں لاعلم رکھا گیا ھے تو ان تمام معاملات کی تحقیقات محکمانہ سطح پر نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی سطح پر ہی ہو سکتی ہیں جس میں بہت سے سوالوں کے جواب متعلقہ فوجی حکام کو بھی دینا ہونگے۔ اس تناظر میں محض فوجی افسران کے ضابطہ اخلاق کی بظاہر خلاف ورزی پر جنرل درانی کی جی ایچ کیو طلبی اور وضاحت طلبی ناکافی ہو گی۔

کتاب کے بغور جائزے سے محسوس ہوتا ھے کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی راٴ کا ایک کامیاب خفیہ آپریشن بھی ہو سکتا ھے جس میں پاکستان کے خفیہ ادارے کے خود پسندی کا شکار ایک “بڑبولے” سابق سربراہ کی اس کے اپنے ہی لائے ہوئے مشروب سے تواضع کر کے کچھ قابل اشاعت اور کچھ ناقابل اشاعت معلومات حاصل کر لی گئیں ہوں۔ اس پراجیکٹ کا شکار ایک پرانا شکاری ایک ایسا سابق جرنیل جو اپنے سینے میں دفن معلومات و تجزیات کا بوجھ پیشہ ورانہ طریقے سے اتارنا چاہتا تھا جس میں شہرت بھی ملے اور دولت بھی۔

بظاہر راٴ کے سابق سربراہ نے اے ایس دلت نے ایک بھارتی صحافی آدیتیا سنہا کو ساتھ ملا کر یا اسے صحافتی شہرت کا لالچ دے کرایسی کتاب کی تجویز دی۔ مقصد تھا کہ کشمیر، کارگل، افغانستان اور آسامہ بن لادن سے متعلق پاکستان سے جڑے تاریخی اور تلخ حقائق پر عالمی خدشات پر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کی مہر تصدیق بھی لگوا لی جائے۔ “باتیں تو سچ تھیں مگر باتیں تھیں رسوائی کی۔” جنرل درانی ایک ایسا شکی مزاج پیشہ ور جاسوس رہا کہ عمر کے اس حصے میں وہ سچ کا “بول” بیٹھنے کے لیئے اپنی “شراب کا لوٹا” ساتھ لے کر پھرتا تھا۔ اے ایس دلت اور بھارتی صحافی کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ طے یہ ہوا کہ دو بڑے ریٹائرڈ جاسوس آمنے سامنے بیٹھ کر پاکستان اور بھارت سے جڑے حساس معاملات پر غیر سرکاری ٹریک ٹو کی طرز پر باری باری بات کریں گے۔ اس مکالمے میں صحافی کا کردار بھی اہم تھا۔ بھارتی صحافی نے باری باری دونوں سے سوال کرنا تھے۔ یہ سب کچھ مئی دو ھزار سولہ سے نومبر دو ھزار سترہ کے دوران استنبول، بنکاک اور کھٹمنڈو میں ریکارڈ ہونا تھا جسکا متن بعد میں کتاب کی صورت چھپنا تھا۔ ظاہری بات ھے پاکستان میں تو یہ ریکارڈ ہو نہ سکتا، ایک ایسا ملک جہاں صدر اور وزیراعظم بھی آپس کی سرگوشی کے لیئے دوبئی جاتے تھے۔ اس کام کے لیئے بھارت میں اپنا طیارہ لینڈ کروانے میں بھی ملک کی بدنامی تھی۔

شائع شدہ کتابی مکالمہ پڑھ کر اندازہ ہوتا ھے کہ را کے سابق سربراہ اے ایس دلت اور بھارتی صحافی ادیتیا سنہا اپنے سوال اور جواب باہمی مشورے سے تیار کر کے آئے تھے اور اصل مشن جنرل درانی کو جنت کا مشروب پلا پلا کر اسے زیادہ سے زیادہ سچ بولنے کا موقعہ دینا تھا۔ تو بس توپچی گولے داغتا گیا۔ کئی گولے اپنی صفوں پر ہی جا پھٹے۔ ریکارڈ کے مطابق کل سترہ لاکھ الفاظ پر مشتمل پہلا مسودہ تیار ہوا مگر اسکا نصف یعنی ساڑھے آٹھ لاکھ الفاظ کا متن قابل اشاعت قرار پایا۔ بظاہر اس آپریشن کے مقاصد پورے ہوئے مگر اسکی اصل پراسراریت ان ساڑھے آٹھ لاکھ الفاظ میں چُھپی ھے جو شائع نہیں کیئے گئے اور جو بھارتی صحافی اور راٴ کے سابق سربراٴ کی تحویل میں ہونگے۔ معلوم نہیں شائع نہ ہونے والے ساڑھے آٹھ لاکھ الفاظ میں ہمارے جاسوس نے کیا کہا اور کتنا گنگنایا؟ جنرل درانی نے یقیناً ایک تحریری معائدے کے تحت اس شائع نہ ہونے والے مواد کے غلط استعمال کو روکا ہو گا۔ وہ معائدہ کہاں ہو گا؟ مگر ایسے معائدے خفیہ اداروں پر کیسے لاگو ہو سکتے ہیں؟ ویسے بھی خفیہ ادارے اور انکے جاسوس ایسی معلومات کو شائع تھوڑی کرتے ہیں وہ تو محض اس کا مخصوص استعمال کرتے ہیں جس کا پتہ بھی نہیں چلتا۔

تو جناب “گرما گرم ماحول” میں نجانے جنرل درانی نے کیا کیا اُگلا ہو گا یا پھر راٴ کے سربراہ نے بھی کچھ مشکوک کہہ دیا ہو گا۔ ایک بات کتاب سے واضح ھے کہ اس ساری گفتگو میں جنرل درانی چڑیا کی طرح چہچہاتے رہے۔ “میزبان” دو تھے اور “مہمان” ایک۔ شائع شدہ مکالمے دو سو انتیس صفحات پر کل آٹھ ہزار سطور میں سے اے ایس دلت کے مکالمے دو ھزار تین سو سطور پر مشتمل ہیں جبکہ جنرل درانی کا ’مکالمہ‘ تین ھزار پانچ سو سطور تک چلا گیا۔ بھارتی صحافی نے اپنی غیر جانبداری کا بھرم رکھنے کے لیئے اے ایس دلت سے ایک سو پچیس سوالات کیئے اور بلکل اتنے ہی سوالات جنرل درانی سے بھی کیئے یعنی کل دو سو پچاس سوالات دونوں سے۔ مگر زیادہ منہہ ہمارے جاسوس کا ہی کھلا رہا۔ خاص بات یہ ہوئی کہ راٴ کے سابق سربراہ نے کمال چالاکی سے مکالمے کے دوران اضافی ستر سوالات بھی داغ دیئے جنکے جواب میں بھی ہمارا “حمام کا گلوکار” بلا جھجھک گنگناتا رہا۔ اسے خیال بھی نہ آیا کہ خود بھی کوئی سوال کر کے پاکستان کے نقطہ نظر سے کوئی اضافی معلومات کتاب کا حصہ بنا دیتا۔ ایک بھارتی صحافی کے ہاتھ میں حتمی مسودہ تیار کرنے کا اختیار دے کرپہلے ہی ہاتھ اور زبان دونوں کٹوا لیئے گئے، پھر ناک بھی گئی۔ کسی اینٹیلیجنس افسر کا اپنی آواز کے سحر میں یوں گرفتار ہونا نالائقی کی عمدہ مثال تصور ہوتی ھے۔

شائع شدہ مکالمے کے مطابق درانی نے چار سو اسّی بار سوالات کے جوابات دیئے ، مکالمے میں وضاحت کی یا اضافی معلومات دی اور حیرت انگیز طور پر دلت کو بھی ایسی مداخلت کا اتنا ہی موقعہ ملا۔ اس مکالمے میں پاکستان کا ذکر سات سو اکتہر بار اور بھارت کا ذکر پانچ سو چوراسی بار آیا۔ اسی طرح پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا ذکر ایک سو چوراسی بار اور بھارتی خفیہ ایجنسی راٴ کا ذکر محض ستر بار ہوا۔

اب آتے ہیں اس کتاب کے ذریعے دیئے گئے ایک ٹھوس تاٴثر کی طرف جسکے مطابق پکستان کے سیاسی اور خطے کے منظر نامے پر آزادانہ گفتگو اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت اور اسکا حق صرف فوج کے حاظر سروس یا ریٹائرڈ افسران اور خاص کر جرنیلوں کے پاس ھے۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت محدود تعلیم و تربیت کے حامل ریٹائرڈ افسران کی کھیپ تیار کی جا رہی ھے جو فوج کی حمایت اور اس پر تنقید کے بھی جملہ حقوق محفوظ کرتے جا رہے ہیں۔ ویسی ہی تنقید اگر سیاستدان، پروفیسر، صحافی یا کوئی ماہر کرے تو وطن دشمن کہلاتا ھے۔ مصنوعی قسم کے یہ ایف اے پاس اور این ڈی سی کوالیفائڈ فارمی دانشورو ناقدین اپنی تجزیاتی صلاحیتوں سے زیادہ اپنی خفیہ معلومات اور رابطوں کے بل بوتے پر پاکستان کی یونیورسٹیوں کے اصلی محققین کی جگہ لیتے جا رہے ہیں۔ جنرل درانی بھی ایسے بیشمار فارمی دانشوروں میں سے ایک ہیں جو حالات کا درست تجزیہ کرنے سے زیادہ حالات کو اپنی مخصوص سوچ اور تجزیوں کے مطابق بنانے کے چکروں میں رہے ہیں۔

اپنی کتاب میں درانی کا کہنا ھے کہ “خفیہ ریاست” امریکہ سمیت ہر ملک میں ہوتی ھے جو اپنی حکومتوں کو دباو میں رکھتی ھے۔ یوں بقول ان کے آئی ایس آئی بھی پاکستان میں ویسا وجود رکھتی ھے۔ اس موازنے سے اندازہ لگایا جا سکتا ھے کہ ہمارے تجزیہ کار افغانستان میں سی آئی اے کے کام کو مثال بنا کر اپنی ملکی سیاست میں “خفیہ ریاست “ کے وجود کا کتنے بے ڈھنگے طریقے سے جواز پیش کر رہے ہیں۔ اسی طرح را اور آئی ایس آئی میں موازنہ کرتے ہوئے درانی صاحب جان بوجھ کر یہ بتانا بھول گئے کے راٴ کے برعکس ان کا سابق ادارہ حکومت اور وزیر اعظم کو اس طرح جوابدے نہیں۔ وہاں مودی کی پالیسی کا ذکر ہوا تو یہاں اپنے وزیر اعظم کا ذکر گول ہی کر گئے۔

راٴ اور آئی ایس آئی میں باقاعدہ ڈائلاگ کی ضرورت سے متعلق اس پہلو سے بھی آنکھ بند کر لی کہ را ایک سویلین ایجنسی ھے جو حکومت اور وزیر اعظم کی مرضی کے خلاف ایک قدم بھی نہیں آٹھا سکتی جبکہ ہماری ایجنسی تو کب سے سب سے ڈائلاگ کر رہی ھے جسکا ہمارے وزرا اعظموں کو بتانا بھی ضروری نہیں۔ تو بھئ جب چاہو کر لو ڈائلاگ ۔

کشمیر سے متعلق جنرل درانی کی رائے میں تھرڈ آپشن یعنی آزاد کشمیر کا نعرہ لگانے والے کشمیری لیڈر امان اللہ کو سپورٹ نہ کرنا پاکستان کی غلطی تھی۔ اب ایسا بے دھڑک تجزیہ کرنے کے جملہ حقوق جو کسی ریٹائرڈ جنرل کے پاس ہی ہو سکتے ہیں۔ کوئی سویلین آج بھی ایسا بولے تو الیکشن میں ہی نا اہل ہو جائے۔ اور اسی طرح حریت کانفرنس کی تشکیل میں ہماری خفیہ ایجنسی کے کردار کا برملا اظہار۔ پھر کارگل کو حماقت اور بڑی غلطی قرار دینا جس کا اعتراف بقول درانی کے مشرف نے خود کیا۔ کس کی مجال۔ جو ’بُل شِٹ‘ یہ کرتے ہیں وہی ’بُل شِٹ‘ کوئی بی اے پاس سویلین بھی کردے تو قومی سلامتی کا وضو ٹوٹ جاتا ھے۔

اسی مکا لمے میں مودی کی پاکستان کے غیر متوقع دورے اور رائے ونڈ کی نجی تقریب میں شرکت سے متعلق بات کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ادارے کا سابق سربراہ کہتا ھے مودی جی ایک مہذب انسان ہیں اور ہمارا ریٹائرڈ جرنیل اس کے جواب میں مودی کو ’سمارٹ’ اور اپنے وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں فرماتا ھے کہ ’اسکی عقل اونٹ والی ھے‘۔ مودی کی ڈھاکہ اور کابل میں پاکستان مخالف تقاریر کے بعد اچانک رائیونڈ آمد نواز شریف کے لئے بھی سرپرائز ہو گی مگر درانی کو غصہ ھیکہ کہ نواز شریف نے اسکو واپس کیوں نہ بھیجا۔ یہ باتیں وہ جرنل درانی کر رہا ھے جو اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتا ھے کہ بطور سربراہ فوجی تربیت ونگ جی ایچ کیو اس نے سپاہیوں اور افسروں کو سکھایا کہ جنگ بندی کے بعد جن دشمن فوجیوں کو گولیاں مارتے ہو ان کے ساتھ کھانا بھی کھا سکتے ہو۔ درانی جیسے پاکستان کے ولن تو شاید کسی سیاستدان کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہ کریں۔ اپنی سیاسی قیادت اور وزرا اعظموں سے متعلق غیر ملکی حکام کے سامنے ایسی سوچ کی جھلک ان فلموں میں بھی نظر آتی ھے تو آئی ایس پی آر کے تعاون سے بنتی ہیں جن میں سے ایک فلم ’مالک‘ پر حکومت نے پابندی بھی لگائی جو عدالتی حکم پر اُٹھا لی گئی۔

آگے چل کر جب را کا سابق سربراہ بے نظیر اور ذولفقار علی بھٹو کی تعریف کرتا ھے تو بغض کے مارے درانی کا اندر کا چور جاگ جاتا ھے۔ درانی دلت کے منہ پر سفید جھوٹ بولتا ھے کہ پاکستان میں ذولفقار علی بھٹو کو ملک توڑنے کا ذمے دار سمجھا جاتا ھے۔ جنرل درانی نے کمال منافقت سے اپنے پیٹی بھائ فوجی حکمران جنرل یحیی کے “کردار” کا ذکر گول کر دیا۔ اور یہ بھی نہ سوچا کہ ایسا ہوتا تو حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ میں سامنے آتا اور جنرل ضئیا جھوٹے قتل کے مقدمے میں بھٹو کا عدالتی قتل کروانی کی بجائے ملک توڑنے کے جرم میں اس پھانسی دلوا دیتا۔ اسی بغض اور منافقت کے ساتھ یہ مغرور جرنیل کہتا ھے کہ بے نظیر بھٹو بھی کرپشن کرتی تھی۔ یہ سب باتیں اس کتاب میں ڈالیں گئیں ہیں جبکہ بے نظیر کے خلاف آج تک کوئی حتمی عدالتی فیصلہ نہیں آیا۔

اس کتاب میں دانشورانہ بددیا نتی کا کھلا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل درانی نے بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت گرانے میں اپنے اور اس وقت کے اپنے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کے سپریم کورٹ میں تسلیم شدہ گھناونے کردار پر ان الفاظ میں پردہ ڈالنے کی گھٹیا کوشش کی۔ موصوف فرماتے ہیں؛
’جنرل بیگ نے فرمایا تھا کہ قوم نے اپنے لیئے جمہوریت کا راستہ چن لیا ھے اور اس میں رکاوٹ بننے والا برا ٹہرے گا۔‘
جرنل درانی نی بطور ڈی جی آئی ایس آئی اور جنرل بیگ نے بطور آرمی چیف بے نظیر کا تمغہ جمہوریت سینے پر سجا کر انیس سو نوے کے الیکشن میں بے نظیر حکومت کا راستہ روکنے کے لیئے سیاستدانوں میں پیسے بانٹے اور سپریم کورٹ میں اعتراف جرم کیا۔ ان دونوں کے خلاف سپریم کورٹ نے بھی کاروائی کا حکم دے رکھا ھے۔ آج یہ جنرل درانی بڑی ڈھٹائی سے بھارتی ایجنسی را  کے سابق سربراہ کے ساتھ مکالمے کی کتاب میں کہتا ھیکہ
“پاکستان میں جمہوریت اس لیئے نہیں چلی کہ یہاں جمہوری ادارے بھارتی اداروں کی طرح مظبوط نہیں۔ “
اب ان جیسے جرائم پیشہ لوگ پاکستان کی سلامتی اور جمہوریت پر کتابیں لکھتے ہیں اور وہ بھی دشمن ملک کے جاسوسوں کے ساتھ مل کر۔

اسی کتاب میں پاکستانی اور بھارتی سلامتی کے مشیروں کا موازنہ کرتے ہوئے درانی نے اس حقیقت کوبھی تسلیم کرنے سے گریز کیا کہ پاکستان میں یہ عہدہ ایک نوکری سے ذیادہ معنی نہیں رکھتا۔ اس سے آگے کے تجزیئے میں درانی کے بھی پر جلتے تھے۔ مگر نہ چاہتے ہوئے بھی سچ نکل ہی جاتا ھے۔ دونوں ممالک کے دفاترِ خارجہ میں سخت مزاج پالیسی سازوں پر بات کرتے ہوئے اے ایس دلت نے چالاکی سے سوال پھینکا کہ پاکستانی سفارتکارآئی ایس آئی کو جوابدے ہیں یا جی ایچ کیو کو؟ اور کیا انہیں جی ایچ کیو میں بریف کیا جاتا ھے؟ درانی نے فوراً دونوں صورتوں کو رد کیا مگر ساتھ ہی بول دیا کہ “ آپکا ساوتھ ہال (بھارتی دفتر خارجہ) بھارت کا جی ایچ کیو ھے۔” اب یہ بات کہنے کی کیا ضرورت تھی؟

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پر بھی جنرل درانی ایک نئی غیر رسمی پیشکش کر رہے ہیں جس کو کسی سیاستدان کے لئیے دھرانا بھی ممکن نہیں۔ بقول درانی کلبھوشن کا معاملہ فوج سے مس ہینڈل ہو گیا اور یہ کہ کلبھوشن کی بھارت کو واپسی ممکن ھے۔ یہ وہ کلبھوشن ھے جسے فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت ملنے کے بعد بھارت بین القوامی عدالتِ انصاف پہنچ گیا ھے جہاں کیس سنا جا رہا اور سزائے موت پر عمل درامد رک چکا ھے۔

اس کتاب میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے راٴ کے سربراٴ سے یہاں تک کہہ دیا کہ ممبئی جیسے حملے دوبارہ ہونے کی صورت میں اگر بھارت کو محدود جوابی کاروائی پاک سر زمین پر مجبوراً کرنا پڑی تو پاکستان دکھاوے کی ایسی کاروائی میں بھارت کو مدد دے سکتا ھے۔ اب ایسی باتوں کے بعد خود درانی کا ایبٹ آباد آپریشن کے متعلق شک سمجھ تو آتا ھے۔ جنرل صاحب کو یقین ھے کہ پاکستان نے اسامہ کے خلاف امریکی آپریشن میں مدد کی۔ ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی جو انکے ہونہار شاگرد بھی رہے ہیں وہ ان سے اب رابط بھی نہیں کرتے کہ کہیں مہں پوچھ ہی نہ لوں اسامہ پر لگی پچاس میلین ڈالر کی رقم کے بارے میں ۔ درانی کا یہ بھی دعوہ ھے کہ آئی ایس آئی کے سابق افسر نے آمریکہ کو اسامہ کا پتہ دیا جسکا نام وہ جانتے ہیں پر بتائیں گے نہیں۔

بھارتی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کی طرف سے پاک فوج کے سربراہ کو بھارت یاترہ کی دعوت کی تجویز بھی مضحکہ خیز ھے۔ ہمارے آرمی چیف ایک بے اختیار بھارتی آرمی چیف سے مل کر کون سے مسئلے حل کرائیں گے۔ اور بھارتی وزیر اعظم مودی سے تو ہمارے آرمی چیف سے ملنا بھی گوارہ نہ کریں ۔ گجرات کے مسلمانوں کا خون ابھی تازہ ھے۔ ایسے میں اے ایس دلت کی تجویز سے بہتر یہ ھیکہ ہمارے وزیر اعظم اور بھارتی آرمی چیف ایک ملاقات میں ایک دوسرے کے کندھے پر سر رکھ کر رو لیں اور دل کا بوجھ ہلکا کر لیں۔

تو جناب قصہ مختصر یہ کہ اس نئی کتاب کے بہت سے حقائق کبھی بھی راز نہ تھے مگر اب بھی انکو بیان کرنے کی اجازت کسی سویلین کو نہیں ھے۔ سویلین تو چھوڑیں کوئی سابق وزیر اعظم بھی یہ باتیں نہیں کر سکتا جنھیں کر کے فارمی دانشوروں کو ڈالر ملتے ہوں۔ اسی طریقے سے چند مخصوص دانشوروں خصوصاً ریٹائرڈ فوجی افسران کو کو بین القوامی سطح پر متعارف کرانے اور دباوٴ کم کرنے واسطے مخصوص معلومات جاری کرنے کی اجازت دی جا رہی ھے اور فوج پر منظور شدہ تنقید کا حق دیا جا رہا ھے۔ یونیورسٹیوں کے متبادل سوچ رکھنے والے اساتذہ تک کو کھڈے لائن لگایا جا رہا ھے۔ کاش کہ یہ سرِ تسلیم خم کرنے اور تسلیم بجا لانے والے تسلیم شدہ دانشور اپنے ملک کی یونیورسٹیوں میں جا کر بھی ایسی دانشوری جھاڑنے کی ہمت کریں جو دانشوری ہمیں جنرل درانی اور اے ایس دلت کی کتاب میں دیکھنے کو ملی ھے۔ کچھ ڈالروں پر اس قوم کی نوجوان نسل کا بھی حق ھے جس قوم نے اپنا سب کچھ لٹا کر اور اپنا پیٹ کاٹ کرآپ جیسے جاسوسوں کو پالا۔ یا پھر یہی آزادئی رائے اور تحقیق کی آزادی ہماری تعلیمی اداروں میں بھی ہو جائے جہاں کوئی ماما قدیر اپنا دکھ بتائے بغیر کسی یونیورسٹی میں مدعو ہو کر واپس نہ بھیج دیا جئے۔

اسٹیبلشمنٹ کی ناکامیوں اور مجبوریوں کی داستانوں کی کھچڑی جس پریشر ککر میں پک رہی ھے اس کی بھاپ وقت کے ساتھ ساتھ (پریشر ککر کے) ڈھکن کے ذریعے نکالی جاتی رہتی ھے۔ یہ لوگ ایسے منظور شدہ انکشافات کے ذریعے بین القوامی ساکھ اور توجہ حاصل کر کے اسے سیاستدانوں اور جمہوریت کے خلاف استعمال کرتے ہیں تاکہ انکا کاروبار بھی چلتا رہے اور آئین کے باغی سرکش عناصر بھی اقتدار میں اپنے پنجے گاڑے رہیں۔ اس پس منظر میں نواز شریف کا ممبئ حملوں پر بیان دیکھنے کے بعد جنرل ریٹائرڈ درانی کی کتاب پڑھ کر جگر مراد آبادی کے شعرمیں بات سمٹ جاتی ھے؛

یہ جنابِ شیخ کا فلسفہ ھے عجیب سارے جہاں سے
جو وہاں پیو تو حلال ھے جو یہاں پیو تو حرام ھے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے