قصور نواز شریف کی بیٹی ہونا ہے

میرا قصور یہ ہے کہ نواز شریف کی بیٹی ہوں اور والد کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوں، مریم نواز

احتساب عدالت سے
اویس یوسف زئی

احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز کی سماعت کے لیے نو بجے کا وقت مقرر ہے مگر نواز شریف اور ان کی بیٹی 15 منٹ پہلے ہی کمرہ عدالت پہنچ جاتے ہیں اور کورٹ رپورٹرز اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے جج صاحب کی عدالت آمد سے قبل تین بار وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہنے والے نواز شریف سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہیں۔28 مئی کو بھی حسب معمول نواز شریف نے سماعت کے آغاز سے پہلے کمرہ عدالت میں کورٹ رپورٹرز سے غیر رسمی بات چیت کی اور اپنی گفتگو میں سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی کے فیس بک پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کورٹ رپورٹرز پروگرام میں آ کر درست حقائق عوام تک پہنچا رہے ہیں اور بڑی دلیری سے بات کرتے ہیں ۔ نواز شریف نے کہا میرا ا جو موقف اٹک قلعہ میں تھا ۔ آج بھی وہی ہے ۔ طیارہ ہائی جیکنگ کیس اور موجودہ مقدمے میں میرا موقف ایک ہی ہے۔ وزیر اعظم کے منصب سے نکالے جانے کی وجوہات بھی ایک جیسی ہیں۔قوم نے طیارہ ہائی جیکنگ کیس کو مانا ، نہ ہی موجودہ کیس کو۔ میرے بیانیے اور موقف کی ہی جیت ہوگی۔ ڈان اخبار کے صحافی اسد ملک نے کہا کہ جیو نیوز کے رپورٹر اویس یوسف زئی کے والد اٹک قلعہ سے جنگ اخبار کے لیے آپ کے کیسز کی رپورٹنگ کرتے تھے ۔ اب دوسری نسل آ گئی ہے ۔ ان کا بیٹا آپ کے کیسز کی کوریج کے لیے یہاں عدالت میں موجود ہے ۔ نواز شریف نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پھر تو وہ آپ کو ضرور بتاتے رہے ہوں گے کہ اٹک قلعہ میں کیا ہوتا رہا ہے جس پر جواب دیا کہ مرحوم آپ کے کارگل آپریشن سے متعلق سب سے پہلے دیے گئے بیان کا ذکر کرتے تھے جو جنگ میں 13جون 2000 کو میرے والد کے نام سے شہ سرخی کے طور پر شائع ہوا تھا ۔

نواز شریف نے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر بات کریں گے۔ ن لیگ ہی واحد جماعت ہے جس نے کام کیا ہے۔دوسری جماعتیں اپنے کسی منصوبے کا بتائیں ؟خود عمران صاحب بتائیں آج تک کون سا منصوبہ مکمل کیا ہے ؟ کارکردگی مرکز ی حکومت کی ہی ہے ، دہشتگردی کا خاتمہ کیا ، سی پیک لائے ،موٹروے بنائے ،بلوچستان اور کراچی کا امن ٹھیک کیا، بھتہ خوری کی وارداتیں ختم ہوئیں ،رمضان میں 22،22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی، آج 45اور 47 ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی بجلی دے رہے ہیں ، سابق وزیر اعظم نے کہا وقت ہی کتنا ملا؟ 2014کے دھرنے کے بعد 2016 تک کام کیا،اس کے بعد پانامہ شروع ہو گیا۔ ہمیں کام کے لئے صرف ڈیڑھ دو سال ملے، پورے پانچ سال ملتے تو اور کام کرتے ۔ نواز شریف نے کہا گنہگار آدمی ہوں ، آپ کو بتا دوں کہ جیت ہمارے بیانیے کی ہی ہو گی۔ ہماری کوئی دوسری منزل ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنے موبائل فون پر بی بی سی ورلڈ کی ڈان پر پابندیوں کے حوالے سے سٹوری دکھاتے ہوئے کہا ، اس میں لکھا ہے کہ عام انتخابات سے پہلے پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔

سماعت کا آغاز ہوا تو ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں مریم نواز نے تیسرے روز بطور ملزمہ اپنا بیان مکمل کرایا اور 130 عدالتی سوالات کے جواب دیے۔ مریم نواز نے اپنا بیان مکمل کرانے کے لیے تین دن میں ساڑھے دس گھنٹے سے زائد کا وقت عدالتی روسٹرم پر گزارے ۔ان کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے اپنی موکلہ کے بیان کے دوران معاونت کی۔اپنے والد کی طرح مریم نواز نے بھی ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنے دفاع میں کوئی گواہ پیش نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب اپنا کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ وہ بے قصور ہیں ،اس لیے انہیں اپنے دفاع میں کوئی گواہی پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ کبھی موزیک فونسیکا کے ساتھ خط کتابت کا حصہ نہیں رہیں ، ان خطوط کو شواہد کے طور پر نہیں پڑھا جاسکتا۔واجد ضیاء نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ سے رابطے کیلئے کس کی خدمات حاصل کی گئیں؟ جس انداز سے ایم ایل ایز بھیجے گئے وہ مشکوک ہے اور جواب کے مستند ہونے پر بھی سوال اٹھتے ہیں ۔مریم نواز نے کہا جے آئی ٹی نے اسکریپ مشینری کی سعودی عرب منتقلی سے متعلق اپنی مرضی کا جواب حاصل کرنے کیلئے دبئی حکام کو گمراہ کیا حالانکہ لیٹر آف کریڈٹ سے واضح ہوتا ہے کہ مشینری دبئی کے بجائے شارجہ سے سعودی عرب بھجوائی گئی۔ ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ قطری شہزادہ بیان قلمبند کرانے کیلئے آمادہ نہیں تھا،قطری خاندان کے ساتھ کاروبار سے میرا کوئی تعلق نہیں ،ان کمپنیوں اور لندن فلیٹس سے کبھی کوئی آمدن ، منافع یا مالی فائدہ نہیں اٹھایا ۔یہ بات ظاہر ہوچکی کہ جے آئی ٹی ان کے خاندان کے تمام افراد کو ہر صورت کیسز میں ملوث کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہی تھی۔لارنس ریڈلے اہم گواہ ہوسکتے تھے لیکن جے آئی ٹی اور نیب نے انہیں شامل تفتیش کرنے کی کوشش نہیں کی۔

مریم نواز نے اس سوال کے جواب میں کہ انہیں اس کیس میں کیوں ملوث کیا گیا؟ اردو میں تفصیلی جواب لکھوایا ۔ مریم نواز نے کہا کہ

"مجھے اس مقدمے میں کیوں الجھایا گیا؟مجھے کیوں وٹس ایپ کالز والی جے آئی ٹی کے سامنے بلاجواز پیش ہونا پڑا۔ میں جانتی ہوں کہ یہ ریفرنسز کیوں قائم کیے گئے؟ مجھے معلوم ہے کہ میں 70سے زائد پیشیاں کیوں بھگت چکی ہوں اور یہ سلسلہ ابھی تک کیوں جاری ہے ؟ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ مجھے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا اپنی ماں سے کیوں دور رکھا جا رہا ہے۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ پاکستان میں ستر سالہ تاریخ میں وطن عزیز کی کسی خاتون ، کسی ماں ، کسی بہن، کسی بیٹی کو اس طرح اتنی پیشیاں نہیں بھگتنا پڑیں۔

میرا قصور یہ نہیں کہ میں نے کوئی بدعنوانی کی، کسی کرپشن میں ملوث ہوئی ، کوئی چوری کی، کوئی ڈاکہ مارا۔ میں تو کسی سرکاری عہدے پر کبھی فائز نہیں رہی۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں نواز شریف کی بیٹی ہوں ۔ میرا قصور یہ ہے کہ میری رگوں میں نواز شریف کا لہو دوڑتا ہے ۔ میرا قصور یہ ہے کہ پاکستان کی بہادر اورقابل فخر بیٹیوں کی طرح ڈٹ کر اپنے باپ کے ساتھ کھڑی ہوں۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں اپنے باپ کو حق پر سمجھتی ہوں ۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں اپنے باپ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوں۔

مجھے معلوم ہے کہ مجھے اس مقدمے اور ان ریفرنسز میں الجھانے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ میرے والد کے اعصاب پر دباو ڈالا جائے۔ منصوبہ ساز جانتے ہیں کہ باپ بیٹی کا رشتہ کتنا نازک ہوتا ہے ۔ ان کا خیال تھا کہ کسی دباؤ میں نہ آنے والا نواز شریف ہر جبر کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونے والا نواز شریف ! تنی ہوئی بندوقوں کے سائے میں اعلان کرنے والا نواز شریف کہ مار دو گولی۔ میں استعفی نہیں دوں گا۔ دنیا بھر کی دھمکیوں اور لالچ کو ٹھکرا کر ایٹمی دھماکے کرنے والا نواز شریف ! پوری جرات سے پرویز مشرف کے ظلم سہنے والا نواز شریف ۔۔ سوچا گیا ، منصوبہ بنایا گیا کہ فولاد کا دل رکھنے والے نواز شریف کو صرف ایک طریقے سے جھکایا جا سکتا ہے کہ اس کی بیٹی پر مقدمے بناؤ ۔ اس کی بیٹی کو جے آئی ٹی کے سامنے لاؤ ۔ اس کی بیٹی کو عدالتوں اور کچہریوں میں گھسیٹو۔ وہ ایک محبت کرنے والا روایتی باپ ہے ۔ بیٹی کو کٹہرے میں دیکھے گا تو اس کے اعصاب جواب دے جائیں گے۔ وہ گردن جھکا دے گا۔ لیکن ایسا سوچنے والے نواز شریف کو نہیں جانتے ، ایسا سوچنے والے نواز شریف کی بیٹی کو بھی نہیں جانتے۔

میرا باپ ، ستر سال کی بیماریوں کے خلاف جہاد کا پرچم لے کر میدان میں نکلا ہے ۔ وہ عوام کی حاکمیت کا پرچم لے کر نکلا ہے ۔ وہ عوام کے حقوق کا پرچم لے کر نکلا ہے۔ وہ ووٹ کو عزت دو کا پرچم لے کر نکلا ہے ۔ وہ کرسی کے لیے نہیں، اقتدار کے لیے نہیں ، ایک بڑے انقلاب۔ ایک بڑی تبدیلی کے لیے میدان میں نکلا ہے ۔ پاکستان میں، ووٹ کو عزت دو پر یقین رکھنے والا ہر شخص اس کے ساتھ ہے ۔ میں اس جہاد میں اس کے ساتھ کھڑی ہوں۔ اس لیے بھی کہ اس کی بیٹی ہوں۔ اور اس لیے بھی کہ اس پاکستان کی بیٹی ہوں جسے دنیا میں تماشا بنا دیا گیا ہے۔

جج صاحب! ہمارے دین میں، ہماری تہذیب میں ، ہماری اقدار میں، ہماری روایات میں، بیٹیوں کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ ہمارے معاشرے میں صدیوں سے کہا جا رہا ہے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ لیکن آج سب کچھ بضض، عناد اور عداوت کی نذر ہو گیاہے۔ سب کچھ انتقال کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے ۔ آج بیٹیاں سانجھی نہیں رہیں ۔ آج کا دستور یہ ہے کہ بیٹی کو باپ کی سب سے بڑی کمزوری بنا کر استعمال کرو ۔ لیکن منصوبے بنانے والو ! یاد رکھو ۔ نواز شریف کی بیٹی اس کی کمزوری نہیں، طاقت ہے ۔ اللہ کے فضل و کرم سے سر اٹھا کر اس کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر آزمائش میں ، ہر امتحان میں اس کے ساتھ رہے گی ۔ میں نوازشریف کی بیٹی ہوں۔ میں پاکستان کی بیٹی ہوں ۔ میں پاکستان سے محبت کرنے والے ہر غیرت مند باپ کی بیٹی ہوں ۔ میں نہ اپنے باپ کا سر جھکنے دوں گی۔ نہ غیرت مند پاکستانیوں کا سر جھکنے دوں گی۔ نہ پاکستان کو سر جھکنے دوں گی۔

نواز شریف کے بہت سے جرائم ہوں گے۔ بہت سے گناہ ہوں گے۔ اس نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ۔ اس نے پاکستان کو جدید ترین انفراسٹرکچر دیا ۔ اس نے پاکستان میں جدید شاہراہوں اور موٹرویز کا جال بچھایا۔ اس نے بلوچستان میں بدامنی سے نکال کر امن و سکون دیا ۔ اس نے شہر قائد، کراچی کی رونقیں بحال کیں۔ اس نے دیوالیہ ہو جانے والی معیشت کو بحال کیا ۔ اس نے نوجوانوں اور بے روزگاروں کے لیے روزگار کے مواقع کھولے ۔ اس نے 19 سال بعد مردم شماری کرائی۔ اس نے 70 سال بعد فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیا ۔ اس نے وطن کے اندھیرے دور کیے اور بجلی کی پیداوارمیں 10 ہزار میگا واٹ کا اضافہ کیا۔ اس نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ۔ اس نے سی پیک کی شکل میں پاکستان کو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری دی ۔ اس نے پاکستانی قوم کو امید اور یقین کی روشنی دی۔ اور وہ پہلی بار ایک ڈکٹیٹر کو قانون کے شکنجے میں لایا ۔ یہ سب اس کے جرائم ہیں۔ سب اس کے گناہ ہیں۔ اسی لیےوہ پیشیاں بھگت رہا ہے۔ اسی لیے اسے مقدموں میں الجھایا جا رہا ہے ۔ لیکن میرا واحد قصور یہ ہے کہ میں نواز شریف کی بیٹی ہوں ۔ میں اس کی بیٹی ۔ اور پاکستان کی بیٹی کی حیثیت سے ہر سزا کے لیے تیار ہوں ۔ میرا ایمان ہے کہ سب سے بڑی عدالت صرف اللہ کی عدالت ہے ۔ وہ عدالت جہاں کوئی وٹس ایپ کالز نہیں ہوتیں۔ جہاں کوئی جے آئی ٹی نہیں بنتی ۔ جہاں کسی گواہ کی ضرورت نہیں پڑتی ۔

مجھے یقین ہے کہ آپ کی عدالت فیصلہ دیتے وقت ، اس بڑی عدالت کو ضرور یادرکھے گی ۔ ”

انہیں مقدمے میں "سبق سکھانے والے مائنڈ سیٹ ” کے ساتھ دھکیلا گیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button