انتخابات ملتوی کرنے کی سازش؟

تحریک انصاف کی بچکانہ حرکتیں؟
یا انتخابات کے التویٰ کی سازش؟

تحریر: عبدالجبارناصر
(1)۔خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے جمعیت علماء اسلام کے رہنماء اوراپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمان سے ملا قات میں نگراں وزیر اعلیٰ کے لئے منظور آفریدی کو نامزد کیا اور منظور آفریدی نے مبارک بادیں بھی وصول کیں اور بنی گالہ میں خان صاحب سے ملاقات کر کے ان سے بھی مبارک وصول کی، حالانکہ جاوید آفریدی کی یہ ملاقات غیر اخلاقی اور قابل مذمت تھی۔ اس پر پیپلزپارٹی اور اے این پی نے اعتراض بھی کیا جو مناسب تھا۔ نامزدگی کے 48 گھنٹے بعد خان صاحب کو ہوش آیا کہ غلط انتخاب ہوا ہے اور موصوف نے مبارک باد اور نامزدگی واپس لے لی بلکہ تحریک انصاف کے بعض حلقوں نے اپوزیشن لیڈر پر رقم لینے کا الزام لگایا،

دلچسپ بات یہ جس کو نامزد(منظور آفریدی )کیا گیا اس کو اپوزیشن لیڈر کی جماعت(جمعیت علمائ اسلام ) کا حامی اور بعض کارکن کہتے ہیں۔اگر رقم الزام تسلیم کیاجائے تو پھر تحریک انصاف کو جواب دینا ہوگا کہ کیا پرویز خٹک نے فی سبیل اللہ اپوزیشن لیڈر کے نامزد امیدوار کی حمایت کی تھی؟؟
(2)۔پنجاب میں تحریک انصاف کے رہنماء اور قائد حزب اختلاف محمود الرشید نے ناصر کھوسہ کا نام خود تجویز کیا اور مسلم لیگ (ن) کےصدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس کی تائید کی، جس پر اپوزیشن لیڈر نے اس کو اپوزیشن کی فتح قرار دیا اور خوب شادیانے بجائے ، ناصر کھوسہ صاحب نے بھی خوب مباربادیں وصول کیں مگر 24 گھنٹے بعد خان جی کو ہوش آیا اور ناصر کھوسہ کا نام واپس لینے کا اعلان کیا اور نیب کی تحقیقات بھی شروع ہوگئی۔اب پنجاب میں قانونی پوزیشن یہ ہوگی کہ اگر سمری تیار ہوکر گئی ہے تو پھر تحریک انصاف کو 100 جوتے اور100پیاز۔۔۔۔ کے مصداق ناصر کھوسہ ہی کو تسلیم کرنا پڑےگا الا یہ کہ ناصر کھوسہ خود الگ نہ ہوجائیں ۔
(3)۔سندھ میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کے قریبی حلقوں کے دعوے کے مطابق چند روز قبل تحریک جسٹس(ر) امیر ہانی مسلم اور سابق چیف سیکریٹری فضل الرحمان کے نام تجویز کئے اور اس کے تین دن بعد اچانک تحریک انصاف ان دونوں ناموں سے دستبردار ہوئی اور 29مئی کو تحریک انصاف سندھ کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مندوب عبداللہ حسین ہارون کا نام تجویز کیا۔
(4)۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک جگہ غلطی ہوئی مان لیا مگر کیا تینوں صوبوں میں یہ بچکانہ حرکتیں اتفاق ہیں یا انتخابات ملتوی کرانے کی سازش کا پیش خیمہ؟
(5)۔ سچ یہ ہے کہ یہ سازش ہی ہے کیونکہ لگتا یہ ہے کہ تینوں صوبوں میں خاص مخلوق کو مقاصد حاصل نہیں ہوئے اور اب یہ کوشش ہوگی کہ معاملات الیکشن کمیشن تک پہنچ جائیں اور پھر وہی کچھ ہوگا، جو تا رہا ہے، اس کے لئے سندھ میں ایم کیوایم اور بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ)کو استمال کیا جائے گا۔ مزید چند واقعات پر بھی غور کریں تو بات مکمل سمجھ آئے گی ہوکیا رہا ہے۔
(6)۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 29 اور 30 مئی کو 10 اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے نئی حلقہ بندیوں کا حکم دیا ہے اور اس فیصلے سے قومی صوبائی اسمبلیوں کے 91 حلقوں میں 5 جولائی کو انتخابات نہیں ہوسکیں گے الا یہ کہ سپریم کورٹ تک معاملہ پہنچے اور آئندہ 6سے10دن میں یہ فیصلے کالعدم ہوں ۔ان حلقوں میں قومی اسمبلی کے 36 اورچاروں صوبائی اسمبلیوں کے 55 حلقے ہیں۔ جن میں سے 62 حلقے پنجاب (20قومی اور 42 صوبائی)،11 خیبر پختونخوا(3 قومی اور 8صوبائی)، 6سندھ (2 قومی اور 4 صوبائی ) اور 2 بلوچستان کے (ایک قومی اور ایک صوبائی )ہیں ۔
(7)۔ اطلاعات کے مطابق60 قریب حلقوں کی درخواستوں پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔
(8)۔ ایم کیوایم نے 30مئی کو الیکشن کمیشن میں درخواست دی ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں 5 فیصد مردم شماری بلاکوں کی نظرثانی کا جو فیصلہ ہوا تھا اس کے بغیر سندھ میں انتخابات نہ کرائے جائیں اور اگر یہ عمل صرف کراچی اور حیدر آباد کے حوالے سے تسلیم کیا گیا تو پھر 100کے قریب قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقے متاثر ہونگے اور مجموعی طور پر 250سے زائد حلقوں کے بغیر کیا بر وقت انتخابات ممکن ہیں ؟؟
(9)۔بلوچستان اسمبلی 30 مئی کو انتخابات ایک ماہ تک کے لئے ملتوی کرنے کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔
(10)۔ انتخابات کے التویٰ کے حق میں بیان عمران خان صاحب اور شیخ رشید احمد پہلے ہی دے چکے ہیں۔
(11)۔مذکورہ بالا نکات پر غور کیا جائے تو 25جولائی 2018 کو انتخابات کا بروقت انعقاد ناممکن نہیں تو مشکل ضرورہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ انتخابات کی صورت میں ممکنہ نتائج خواہشات اور منصوبہ بندی کے مطابق نظر آرہے ہیں۔

متعلقہ مضامین