معاملہ کچھ اور ہے

میاں کاشان

ایک ندی کے کنارے ایک بھیڑیا اور ایک بکری کا بچہ پانی پی رہے تھے۔ بکری کے بچے کو دیکھ کے بھیڑیے کا دل للچا گیا، اس نے سوچا کیوں نہ اسے کھایا جائے۔ بھیڑیے نے بکری کے بچے کو غصے سے مخاطب کیا کہ او میمنے تمہاری طرف سے مجھے پانی گدلا آرہا ہے۔ میمنا انکساری سے بولا کہ حضور اونچائی کی طرف تو آپ کھڑے ہوئے ہیں پانی آپ کی طرف سے نیچے آ رہا ہے۔ تھوڑی دیر گزری بھیڑیا پھر غصے سے غرایا، او میمنے میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں، تم نے گزشتہ برس مجھے گالی دی تھی۔ میمنا پھر انکساری سے منمنایا کہ حضور گزشتہ برس تو میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ بھیڑیا بولا تو پھر تمہاری ماں نے گالی دی ہوگی بس تمہیں سزا ملے گی۔
بھیڑیے کی میمنے کو کھانے کی لالچ میں دیے گئے جواز کو دیکھتے ہیں اور بلوچستان اسمبلی میں رکن صوبائی اسمبلی سرفراز بگٹی کی جمع کروائی گئی قرارداد کا جائزہ لیتے ہیں تو دونوں میں جواز کچھ زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتے۔ با اختیار طبقے سے پیشگی معذرت کے ساتھ اس قرارداد میں دیے گئے جواز کا پوسٹ مارٹم کرنے لگا ہوں جن کی بنیاد پر جنرل الیکشن 2018 کو بلوچستان میں ایک ماہ کیلیے (فی الحال ایک ماہ کیلیے مؤخر ورنہ معاملہ کچھ اور ہی ہے) مؤخر کرنے کیلیے کہا گیا ہے ۔
جواز نمبر ایک ۔ ہمارے صوبے میں انتخابات ایک ماہ کیلیے مؤخر کیے جائیں کیونکہ ہمارے صوبے سے لوگ حج پہ گئے ہوئے ہونگے جس کی وجہ سے وہ اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر پائیں گے ۔ سننے میں تو یہ جواز بہت وزنی ہے ۔ چلیں اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں، عید الفطر 14 یا 15 جون کو ہوگی، اس حساب سے حج تقریبا دو ماہ نو دن بعد ہوگا یعنی 23 یا 24 اگست کو ممکنہ طور پہ حج ہو سکتا ہے۔ اور پاکستان سے حج آپریشن 2018 کا آغاز ممکنہ طور پر 20 جولائی سے ہوگا، اس میں ایک یا دو دن کی کمی بیشی ہو سکتی ہے ۔ یعنی الیکشن سے زیادہ سے زیادہ 5 دن قبل حج آپریشن کے تحت فلائٹس حجاج کرام کو لے کر سعودی عرب روانہ ہونا شروع ہونگی ۔ اب ذرا رواں برس پاکستان کا مجموعی حج کوٹہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پاکستان سے رواں برس ایک لاکھ 79 ہزار کے لگ بھگ خوش نصیب حج پر روانہ ہوں گے جو تقریبا پورے ملک سے20 جولائی سے 20 اگست تک ایک ساتھ نہیں بلکہ اپنی باری کے مطابق روانہ ہوتے رہیں ۔ یعنی ایک اندازے کے مطابق اوسطا 6000 حجاج یومیہ سعودی عرب کیلیے روانہ ہوں گے ۔ حجاج کرام ملک کے سات بڑے شہروں سے فلائٹس کے ذریعے روانہ ہونگے جن میں لاہور، کراچی ، اسلام آباد، ملتان، سکھر، کوئٹہ پشاور اور فیصل آباد شامل ہیں۔ (اگر کوئی شہر رہ جائے تو اس کیلئے معذرت) اوسطا 750 حاجی یومیہ کوئٹہ سے حج پر روانہ ہونگے اور انتخابات کے دن تک بہت بھی پھرتیا ں دکھا لیں تب بھی محض 4000 ہزار حاجی ہی بلوچستان سے روانہ ہو چکے ہوں گے ۔

اب ذرا بلوچستان میں ووٹرز کی کل تعداد بھی جان لیجیے۔ بلوچستان میں ووٹرز کی کل تعداد 42 لاکھ 99 ہزار 494 ہے۔ تو ملاحظہ فرمائیں کہ 25 جولائی یعنی پولنگ کے دن تک بلوچستان سے روانہ ہوچکے ہوئے ووٹرز ، بلوچستان کے مجموعی ووٹرز کے محض اعشاریہ ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ امید ہے پہلا جواز کتنا حق بجانب ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے ۔
اب آتے انتخابات مؤخر کروانے والے ذہین ترین اور معزز رکن اسمبلی کے دوسرے جواز کی جانب ۔ دوسرے جواز کے طور پر انہوں نے مون سون کی بارشوں ، اس کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی ممکنہ سیلابی صورتحال اور اس کے نتیجے میں ہونیوالی ممکنہ ہجرت کو جواز بنایا ہے۔ تو جناب بندہ کی اب تک کی ریسرچ کے مطابق بلوچستان میں سیلابی صورتحال عموما اگست کے اوائل سے آخر تک رونما ہوئی ہے۔ جولائی میں بارشیں تو ہوئی ہیں بلوچستان میں لیکن گزشتہ بیس سال کا ریکارڈ چھاننے کے بعد بھی جولائی کے آخر میں سیلابی صورتحال کھوجنے سے قاصر رہا ہوں ۔ اس جواز کو خود انہی کی پارٹی کے ایک عظیم رہنما جام کمال جو کہ ن لیگی حکومت میں پیٹرولیم کے وزیر مملکت بھی رہے ہیں رد کر دیا ہے ۔ بلکہ انہوں نے تو میڈیا کے ٹاک شوز میں بارشوں کی بجائے شدید ترین گرمی کا رونا رویا ہے تو جناب یہ شدید موسم جنوبی پنجاب اور سندھ میں بھی ہوگا۔ اس طرح بلوچستان میں انتخابات کو (فی الحال) ایک ماہ کیلیے مؤخر کروانے کی قرارداد میں پیش کیے گئے جوازوں کی حقیقت ندی کنارے موجود بھیڑیے کے میمنے پر لگائے گئے الزامات سے قطعی مختلف نہیں ہے ۔

تو پھر اصل مقصد کیا ہے تو جناب یہ بھی جان لیجیے۔ اگر حج پر جانیوالوں کو جواز بنا کر بلوچستان میں انتخابات ملتوی کروائے جاتے ہیں تو کوئی اور صوبہ (کے پی کے) بھی اپنے نگران سیٹ اپ کے ذریعے سمری بھجوا سکتا ہے۔ حج پہ جانیوالوں کی مکمل واپسی 20 ستمبر تک ممکن ہے اور 22 یا 23 ستمبر کو یوم عاشور ہے ، تو جناب محرم الحرام میں بھی بلوچستان میں الیکشن ممکن نہیں ۔ اور دشمن کو کیڑے پڑیں کیونکہ کوٗئٹہ میں امن وامان کی صورتحال تو سب کے ہی سامنے ہے۔ پورے ملک میں امن ہو گیا ہے لیکن چپے چپے پہ نگرانی کے باوجود دشمن وہاں کارروائی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔ دشمن کی مذموم کارروائی نہ بھی ہو تب بھی وسط اکتوبر تک بلوچستان میں انتخابات ممکن نہیں ہونگے۔ بلوچستان سے نمائندے عوام کی جانب سے الیکشن سے نہیں بلکہ پاکستان کے اصل مالکوں کی جانب سے سلیکشن سے منتخب ہوتے ہیں۔ تو صاحب بلوچستان میں انتخابات مؤخر کروانے کیلیے اتنا تردد کیوں؟ کہیں بلوچستان کو مثال بنا کر ، نئی حلقہ بندیوں کاعدلیہ کے ذریعے کالعدم کروا کے، نگران حکومتوں کو بننے سے پہلے ہی متنازعہ کروا کے اور بالآخر سارے معاملات کو سپریم کورٹ لے جا کے باقی انتخابات کو بھی تو مؤخر کرانا تو مقصود نہیں ہے؟ ۔

متعلقہ مضامین