عدلیہ کو گالیاں دینے والوں کو سیکورٹی کیوں

لاہور میں مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب پولیس کے سربراہ سے پوچھا ہے کہ رانا ثنااللہ، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان، عابد شیر علی، احسن اقبال کے بیٹے کو سکیورٹی کس لیے دی جارہی ہے، یہ لوگ ایک طرف تو عدلیہ کو گالیاں دیتے ہیں اور دوسری طرف سکیورٹی مانگتے ہیں، ملک میں حاکمیت صرف اللہ اور قانون کی ہوگی جب کہ قوم کا پیسہ سیاست دانوں کی سیکورٹی پر لٹانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

لاہور سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سیاستدانوں، وزرا و اہم شخصیات کو سکیورٹی دینے کے کیس کی سماعت کی ۔ پنجاب پولیس نے سیاست دانوں کو دی گئی سکیورٹی سے کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جسے چیف جسٹس نے مسترد کرتے ہوئے سیاست دانوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی سفارشات دینے والی کمیٹی کو رات 8 بجے طلب کر لیا ۔

عدالت میں ڈی آئی جی عبدالرب نے بتایا کہ 31  سیاست دانوں کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے ۔ درخواست گزار اظہر صدیق نے کہا کہ پنجاب پولیس نے ساری سکیورٹی مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور ان کے اہل و عیال کو دی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف، احسن اقبال، ایاز صادق، زاہد حامد اور احسن اقبال کی سکیورٹی تو سمجھ میں آتی ہے ۔  انہوں نے آئی جی پولیس سے پوچھا کہ رانا ثنااللہ، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان، عابد شیر علی، احسن اقبال کے بیٹے کو سکیورٹی کس لیے دی جارہی ہے، یہ لوگ ایک طرف تو عدلیہ کو گالیاں دیتے ہیں اور دوسری طرف سکیورٹی مانگتے ہیں، آئی جی صاحب آپ نے عدلیہ مخالف بیانات دینے والوں کو سکیورٹی فراہم کر رکھی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سکیورٹی اہلکار 25 ہزار میں پڑتا ہے اور ایک سیاست دان کی صرف سیکورٹی پر کم از کم 60 ہزار روپے اخراجات ہوتے ہیں، یہ قوم کا پیسہ ہے، اس طرح لٹانے کی اجازت نہیں دیں گے، یہ لوگ خود، سکیورٹی کا بندوبست نہیں کرسکتے تو بیت المال سے 60 ہزار روپے دے دیں ۔

چیف جسٹس نے پنجاب پولیس کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے کہا کہ اس ملک میں حاکمیت صرف اللہ کی اور قانون کی ہوگی، آپ نے مجھے حمزہ شہباز کے برابر کی سکیورٹی دی ہے، آپ نے تو ججز اور سپریم کورٹ کے ججز کی سکیورٹی سے انکار کردیا تھا ۔

سپریم کورٹ نے سیاست دانوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی سفارشات دینے والی داخلہ امور کی کمیٹی کے ارکان کو رات 8 بجے پیش ہونے کی ہداہت کی ہے ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے