تحریک انصاف کے ٹکٹ کا میرٹ

مونا خان

این اے 53، عامر کیانی کے ٹکٹ کامعاملہ، پی ٹی آئی کے ورکر ناراض۔ عمران خان دوستی میں مجبور !

دوسروں کو میرٹ کا بھاشن دینے والے عمران خان کے لیے اپنی ہی پارٹی کے ٹکٹ کی تقسیم امتحان بن گئی۔ میرٹ کی جگہ بیس سالہ دوستی نے لے لی ۔ اسلام آباد کے حلقے این اے 53 کا ٹکٹ بیس سالہ پرانی دوستی کے نام کر دیا گیا ۔ شمالی پنجاب سے تعلق رکھنے والے عامر کیانی کو دوستی کی بنا پر اسلام آباد کے لیے اہل قرار دے دیا اور اسلام آباد کے اس حلقے سے آبائی تعلق رکھنے والے چوھدری الیاس مہربان سے معذرت کر لی گئی ہے ۔
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے لیے پارٹی ٹکٹ کے لیے میرٹ بورڈ نے این اے 53 سے الیاس مہربان کو تیس میں سے اٹھائیس نمبر دئیے جبکہ عامر کیانی جن کا حلقے سے دور تک کوئی تعلق نہیں ان کو تیس میں سے دس نمبر ملے۔ میرٹ بورڈ میں نعیم الحق اور اسد عمر شامل تھے لیکن چئیرمین تحریک انصاف کو یہ ‘انصاف’ پسند نہیں آیا۔ ذرائع کے مطابق اسد عمر اور عمران خان کے درمیان اس معاملے پر مکالمہ بھی ہوا۔ عمران خان نے کہا کہ عامر کیانی میرا بیس سالہ پرانا دوست ہے جب پارٹی میں کوئی نہیں تھا وہ تب بھی میرے ساتھ تھا۔ مجھے علم ہے کہ یہ حلقہ اس کا نہیں بنتا لیکن میں مجبور ہوں کیونکہ عامر مجھ سے ضد کر رہا ہے کہ این اے 53 کا ٹکٹ اس کو ہی دوں’۔ اس پر اسد عمر نے کہا کہ آپ اگر اسلام آباد میں میرٹ کا یہ حال کریں گے تو پورے پاکستان کو کیسے سنبھالیں گے’۔
چئیرمین تحریک انصاف نے جواب دیا کہ میں مجبور ہوں’_

این اے 53 سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے ورکرز بھی ٹکٹ کی غیر منصفانہ تقسیم پر سراپا احتجاج ہیں کہ ہمارے حلقے میں ہمارے کام مقامی رہنما کرائے اور الیکشن میں پارٹی ٹکٹ باہر والے کو مل جائے تو ہم ووٹ کیسے دے دیں۔ ذرائع کے مطابق چئیرمین تحریک انصاف دوستی میں فیصلہ کر چکے ہیں۔
عامر کیانی جو تحریک انصاف شمالی پنجاب کے صدر ہیں۔ اگر میرٹ دیکھا جائے تو یہ ہے کہ وہ شمالی پنجاب کے آٹھ اضلاع میں سے کسی حلقے سے انتخابات لڑیں نہ کہ اسلام آباد سے ۔ عامر کیانی بیس سال سے عمران خان کے فرنٹ مین ہیں اور مالی طور پر بھی تحریک انصاف کے لیے اہم ستون ہیں۔ اس سے قبل عامر محمود کیانی این اے ساٹھ راولپنڈی کے حلقے سے انتخابات لڑ چکے ہیں۔
تحریک انصاف کے اسلام آباد کے ورکرز اور بلدیاتی نمائندوں کا بھی کہنا ہے کہ اسلام آباد این اے 53 کے ٹکٹ کا حقدار مقامی امیدوار چوہدری الیاس مہربان ہے جس نے برسوں دن رات اس حلقے میں محنت کی اور جب پھل کھانے کی باری آئے تو قرابت داری/دوستی کو ترجیح دے دی گئی ۔ اکبر ایس بابر جو تحریک انصاف کے سابقہ رکن ہیں گزشتہ برس ہی کہہ چکے تھے کہ پارٹی ٹکٹ کی تقسیم میں صرف قرابت داروں کو نوازا جائے گا اب حقیقت میں ویسا ہی ہوا _

اقبال نے کہا تھا کہ

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

معلوم نہیں اقبال نے ایسی ‘تبدیلی’ کا بھی کوئی خواب دیکھا تھا یا نہیں _

(مونا خان، اسلام آباد میں جیو نیوز سے منسمن ہیں اور سفارتی امور کی نامہ نگار ہیں)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے