چیف جسٹس ہسپتال میں مگر

یاسر ملک

چیف جسٹس ثاقب نثار سپریم کورٹ سے نکلے اور چار کلومیٹر دور پمز ہسپتال کا ہنگامی دورہ کر لیا، اسلام آباد کے سب سے بڑے پمز ہسپتال کی انتظامیہ اور سینیئر ڈاکٹرز نے سب کچھ اچھا دکھایا اور چیف جسٹس نے بھی داد دینے میں کنجوسی نہ دکھائی _ مگر کیا سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا چیف جسٹس نے دیکھا یا ان کو دکھایا گیا؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے، برسوں اسلام آباد میں رپورٹنگ کرنے والے کچھ اور بھی دیکھتے ہیں اور دکھا سکتے ہیں _

آج منگل 5 جون کی دوپہر جب چیف جسٹس ثاقب نثار  ہنگامی دورے پر  پمز ہسپتال پہنچے تو ان کے ساتھ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل بھی تھے، یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ کیا واقعی یہ ہنگامی دورہ تھا تاہم چیف جسٹس نے شعبہ امراض قلب، نئے وارڈز اور شعبہ حادثات کا دورہ کیا _

چیف جسٹس ثاقب نثار کے دورے کے موقع پر اسپتال میں شعبہ صحت کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی_ چیف جسٹس  نے جب کارڈیک سینٹر کا دورہ کیا تو صحافیوں کی طرف سے چیف جسٹس کو کہا گیا کہ آپ سرجیکل اور میڈیکل وارڈ کا دورہ کریں جہاں ایک بیڈ پر دو دو مریض ہیں، اسی دوران یہ نامہ نگار آگے ہوا اور کہا کہ چیف صاحب جیسے سپریم کورٹ کے بیٹ رپورٹر سپریم کورٹ کور کرتے ہیں اسی طرح ہم ہیلتھ رپورٹرز ہیں، آپ ہماری بھی بات سن لیں، پمز ہسپتال کی انتظامیہ آپ کو سب اچھا کی رپورٹ دے رہی ہے_ اسی دوران چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ آنے والے جسٹس مظہر عالم نے جواب دیا کہ ایک دن میں سب ٹھیک نہیں ہو سکتا، کون ہیں آپ؟  اس کے ساتھ ہی اپنے سیکورٹی عملے کو کہا کہ ان کو پیچھے کریں، اس نامہ نگار نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ دنیا ٹی وی سے وابستہ ہوں تاہم  سیکورٹی اہلکاروں نے جج صاحب کی وجہ سے گزارش کی کہ آپ پیچھے چلے جائیں_ اسی دوران خواتین رپورٹرز کی طرف سے بھی چیف جسٹس کو پمز ہسپتال کی ان جگہوں کی نشاندہی کرانے کی کوشش کی گئی جہاں کچھ بھی اچھا نہیں تھا لیکن چیف جسٹس نے نظر انداز کیا اور اسی جگہ کا دورہ کرتے رہے جہاں ڈاکٹرز ان کو لے جاتے رہے_

ایکسپریس نیوز سے وابستہ صحافی نعیم اصغر کو ایک مریض نے کہا کہ آپ میڈیا سے ہیں آپ چیف جسٹس کو بتائیں کہ میرے بیٹے کے آپریشن کے لیے پمز ہسپتال نے ایک سال کا ٹائم دیا لیکن جب میں آج پمز آیا تو مزید ایک سال کا ٹائم دے دیا گیا جس پر نعیم اصغر نے چیف جسٹس سے بات کی تو انھوں نے پڑھے اور دیکھے بغیر  وہ پرچی بھی ڈاکٹر کو دے دی _ دنیا اخبار کے صحافی کی جانب سے کہا گیا کہ پمز ہسپتال میں ادویات کے اسٹور کی حالت بہت خراب ہے اور ساتھ میں میڈیکل وارڈ، سرجیکل وارڈ اور اوپی ڈی چیک کرنے کا کہا لیکن چیف جسٹس کی جانب سے ان کو بھی ایک ہی جواب دیا گیا، آپ کیوں وہاں لے جانا چاہتے ہیں جو اچھے کام ہوئے ہیں ان کی بھی تعریف کرنی چاہیے اب اگر آپ نے دوبارہ ایسی بات کی تو میں ناراض ہو جاؤں گا _

اس کے بعد تمام صحافیوں نے فیصلہ کیا کہ اب کوئی سوال نہیں کرے گا_ اسی دوران چیف جسٹس نے مریضوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ریکیورمنٹ کر رہا ہوں۔ جلدی بہتری آئے گی۔ اہسپتال میں بستر اتنے کم کیوں ہیں، میں کام کرنا چاہتا ہوں آپ لوگ میرا ساتھ دیں.میں چاہتا ہوں کہ مریضوں کو بہتر سہولیات ملیں _ چیف جسٹس نے کہا کہ اہسپتالوں کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے، مجھے تھوڑا وقت دیں. وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا.  پمز میں سب کچھ بہتر ہے، میں دو ماہ بعد پمز کا دوبارہ دورہ کروں گا. دیکھوں گا کتنی بہتری آئی ہے.ایک دن میں  وارڈز نہیں بنتے. تھوڑا وقت لگتا ہے.  پمز اہسپتال کی بہتری کے لئے کام کر رہا ہوں.  حالات بہت جلد بہتر ہو جائیں گے_

یہ تھا ایک مختصر اور بظاہر ہنگامی دورہ جس کے بعد چیف جسٹس پمز ہسپتال سے روانہ ہو گئے  _

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے