نوازشریف ایک گھنٹے میں پیش ہوں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں اصغرخان کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ نواز شریف جہاں کہیں بھی ہوں ایک گھنٹے میں عدالت آ جائیں _

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی تو اٹارنی جنرل نے پوچھنے پر بتایا کہ ممکن ہے نواز شریف اس وقت احتساب عدالت میں ہوں، نوازشریف کا ٹرائل میں پیش ہونا بھی ضروری ہے _ چیف جسٹس نے کہا کہ نوازشریف خود نہیں آسکتے تو نمائندہ بھیج دیں، نوٹس تعمیل کے باوجود پیش نہ ہونا عدالت کی تکریم کےخلاف ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ تمام افراد ہفتے تک اپنےتحریری جواب جمع کروائیں_ وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ نوازشریف کا نام کیس میں تین الگ الگ جگہوں پر ہے، ہر تاریخ کا نواز شریف کو الگ جواب دینا ہوگا، چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف کو ہرصورت شامل تفتیش ہونا پڑے گا، جاوید ہاشمی آ سکتے ہیں تو نوازشریف کیوں نہیں، اٹارنی جنرل اور جاوید ہاشمی، نواز شریف سے رابطہ کریں، نوازشریف کو 11بج کر45 تک پیش ہونے کا کہیں، پشاور رجسٹری میں سماعت کےلیے بھی جانا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ پشاورسے واپسی ممکن ہےرات ایک بجے ہو، نوازشریف ابھی نہ آئے تو رات ایک بجے پیش ہونا ہوگا، چیف جسٹس نے کہا کہ تحریری جواب آنے کے بعد اتوارکو مزید سماعت کریں گے، تعین کریں گے کہ کن کا ٹرائل فوج میں ہونا ہے اور کن کا سویلین اداروں میں، سویلین افراد کو ایف آئی اے کےسامنے پیش ہونا ہوگا _
کیس کی سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے عدالت نے جاوید ہاشمی کو جانےکی اجازت دے دی _

وقفے کے بعد اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نواز شریف سے بات ہوئی ہے، وہ احتساب عدالت میں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف اپنے نمائندے کے ذریعے پیش ہوں گے، نواز شریف اپنی نمائندگی کے لیے وکیل کا بندوبست کر رہے ہیں _ جس کے بعد اصغر خان کیس کی سماعت بارہ جون تک ملتوی کردی گئی _

سپریم کورٹ نے آج نواز شریف سمیت 31 سیاسی رہنماؤں کو طلب کیا تھا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے