زرداری اور نواز شریف آ کر بتائیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں اسلام آباد کی مارگلا پہاڑیوں پر آگ لگنے کے واقعات پر لئے گئے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں پانچ بار آگ لگ چکی ہے، جنگلات آگ لگنے سے تباہ ہو جائیں گے۔

پاکستان 24 کے مطابق وفاقی ترقیاتی ادارے کے حکام نے بتایا کہ جیسے ہی آگ لگتی ہے اقدامات اٹھاتے ہیں، ہمارے پاس آگ بھجانے کے مکمل آلات نہیں، آگ بھجانے کے لیے جھاڑیاں توڑ کر استعمال کرتے ہیں، آگ کی وجوھات حادثاتی اور بد نیتی بھی ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں جنگلات میں آگ لگتی ہے جہاں بجھانے کے لئے جدید آلات استعمال ہوتے ہیں، ہیلی کاپٹر سے آگ بھجانے کے طریقہ کار کا تفصیلی جواب دیں۔  پاکستان 24 کے مطابق سول سوسائٹی کے ایک نمائندہ نے کہا کہ سی ڈی اے نے ایکشن نہیں لیا لیکن ایک ھفتے بعد آئی ایس پی آر نے نوٹس لیا۔  سی ڈی اے کے افسر نے بتایا کہ آگ ہم نے بجھائی _ چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے کے پاس جدید آلات کیوں نہیں _

عدالت نے مارگلا ھلز پر آگ لگنے اور بھجانے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی، آگ لگنے سے نقصانات کی رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اسلام آباد میں پانی کی قلت ہے، 22 گریڈ کے افسر کو پانی کی بالٹی لے کر نہانا پڑتا ہے، یہ سی ڈی اے کی کارکردگی ہے۔ پاکستان 24 کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے اپنی ناکامی کبھی تسلیم نہیں کرتا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ پانی کا ٹینکر اسلام آباد میں کون فروخت کرتا ہے۔ کون لوگ ہیں جو یہ ٹینکر چلا رہے ہیں۔ سملی ڈیم میں پانی نہیں، سی ڈی اے کی کارکر دگی کیا ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ دارالحکومت میں 1500 روپے کا پانی کا ٹینکر فروخت ہو رہا ہے _

پانی دستیابی کے لئے مسائل ہیں پہر بھی پانی فراھم کررہے ہیں۔ سی ڈی اے حکام

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا حکومت فیل ہو گئی ہے، کیا آخری دونوں ادوار حکومت میں پانی کے منصوبوں پر کام ہوا ہے۔

دارالحکومت میں پانی کی کمی پورا کرنے کے لئے تربیلا ڈیم سے پانی لانا پڑے گا۔ سی ڈی اے

تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی ہے، لوگ پیاسے مر جائے گے، سی ڈی اے کے بجٹ کے پیسے گاڑیوں پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ حکومت نے پانی کے لئے فنڈز کا کیا بندو بست کیا،  چیف جسٹس نے کہا کہ پانی کی کمی کے زمہ دار وہ لوگ ہیں جو اقتدار میں ہیں اور جو چھوڑ کر گئے ہیں، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی نہ ہوا تو زمین بنجر ہو جائے گی۔ درختوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے درخت کتابوں میں لگے ہوئے ہیں۔

وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ پانی کے تحفظ کے لئے پانی کے زخیرے بننے چاہئیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی کون زخیرہ کرے گا۔ پانی کی قلت کا زمہ دار کون یے۔

پاکستان 24 کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد میں بارش نہ ہو تو 15 دن بعد پانی نہیں ہو گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پانی کے معاملے پر لاھور میں 4 ارب روپے خرچ کرکے پانی کی ایک بوند تک نہیں ملی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شھباز شریف نے تسلیم کیا کہ 4 ارب کرچ کرنے کے بعد بھی لوگوں کو پانی نہیں ملا۔ آصف زرداری۔ نواز شریف آکر بتائیں کہ پانی کے مسائل کے حل کے لئے کیا اقدامات کئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ان لوگوں پر کیوں نہ پانی کے مسئلے کی زمہ داری ڈالی جائے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ٹینکر مافیا اور سمینٹ مافیا اربوں روپے کا پانی پی گئے۔ پانی کا مسئلہ قوم کے لئے عذاب بن جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میری خواھش ہے کہ کاش میں پنجابی نہ ہوتا۔ کاش مین بلوچی یا سندھی ہوتا۔ سندھی کی نظر سے دیکھتا تو مسئلے کا کچھ سمجھ اتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا ھوگا _ اعتزاز احسن نے کہا کہ اتفاق رائے کے بغیر کالاباغ ڈیم نہیں بن سکتا۔ ھمارے ملک میں آئین کو معطل کیا جاتا ہے، سب کے تحفظات دور ہونے چاھیئے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں منصوبوں کی گارنٹی دینے کی بات کی گئی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کوشش کرکے کالاباغ ڈیم پر کانفرنس کروائیں، لااینڈ جسٹس پانی کے مسئلے پر سیمینار کرائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ووٹ کی عزت یہ ہے کہ لوگون کو بنیادی حقوق دیں۔ووٹ کی یہ عزت ہے کہ عوام کو صاف پانی اور ھوا دیں۔ اربوں روپےکا پانی سمندر میں جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ زندگی کا وجود پانی کے ساتھ ہے۔ بھارت کی وجہ سے نیلم دریا بھی ختم ہو جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں بطور ثالث کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ پانی کے مسئلے کو بطور قوم حل کرنا پڑے گا۔ شمس الملک کوبھی میں نے پانی کے مسئلے پر بلایا ہے۔

اتفاق پیدا ہوجائے تو کالاباغ کا پانی چاروں صوبوں کا پانی ہے اعتزاز احسن

کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے کراچی رجسٹری سے شروع کرینگے۔ چیف جسٹس

کالاباغ ڈیم کا نام سنتے ہیں سندھ اور کے پی میں احتجاج شروع ہو جاتا ہے۔ اعتزاز احسن

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں چیف جسٹس نے کہا کہ شمس المک عید کے بعد اسلام آباد میں عدالت کو بریفنگ دینگے۔مسائل سے لڑ کر ہی ان کا حل نکالا جاتا ہے

اتفاق رائے کے بغیر کالاباغ ڈیم بننے سے وفاق کمزور ہوگا۔ اعتزاز احسن

زاتی طور پر کالاباغ ڈیم کا حامی ہوں اعتزاز احسن

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دریا راوی میں گندا پانی ڈالا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی کو عزت دو۔ حالیہ بارش نہ ہوتی تو 15 دن بعد یہاں پانی نہ ہوتا، مون سون کی بارشوں کا پانی زیادہ ہو جاتا ہے، پانی زخیرہ کرنے کا کام تب ہوگا جب دل میں درد ھوگا۔آئندہ نسلوں کو بچانے کے لئے ایک نسل کو قربانی دینی پڑتی ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ھم نے لگزری گاڑیاں خرید لیں۔میں تقریر نہیں حقائق بیان کررہا ہوں۔ جن ڈیموں پر اختلاف نہیں وہ کیوں نہیں بنے۔ شمالی علائقہ جات میں چھو ٹے پانی کے منصوبے لگانے سے کس نے منع کیا۔ سیاست سے ھٹ کر پانی کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دل کرتا ہے چوغا لے کر چندہ اکٹھا کروں، ملکی قرضے اتارنے اور ڈیمز بنانے کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کا دل کرتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 21 ھزار روپے فی سکوئر فٹ خرچہ لاھور کے ھسپتال پر آتا ہے۔یہ پیسہ کیوں نہیں ڈیمز بنانے پر خرچ ہوتا ہے۔ پانی کے مسئلے کے لئے ماھرین کی خدمات کی ضرورت ہے۔ ٹینکر مافیا کے ھائڈرنٹس بند کروائیں۔ یہ پانی کسی مافیا کا نہیں سرکار کا ہے۔

واٹرپالیسی کا منصوبہ 16 سال بعد بھی منظور نہیں ہو سکا طاھرہ عبداللہ۔ سوشل ورکر

2025 تک ملک میں پانی کی قلت ہو جائے گی۔ طاھرہ عبداللہ

کالاباغ دیم پر بحث ختم کر دینی چاھیئے۔ طاھرہ عبدالللہ

کالاباغ ڈیم کی جگہ 1 ھزار چھوٹے دیمز بنا دیں۔ طاھرہ عبد اللہ

نہیں معلوم پانی بنانے کی نجی کمپنی سرکار کو کتنی قیمت ادا کرتی ہے، لاھور مین نیسلے پانی کے معاملے کا جائزہ لوں گا۔ آنے والی نسلوں کو لگزری کاڑیاں دینی ہیں یا پانی۔ چیف جسٹس

اسلام اباد میں امیر لوگ پانی کا بل تین ماہ مین 500 روپے ادا کرتے ہیں طاھرہ عبداللہ

پانی کی بورنگ روک کر واٹر میٹر لگوائیں،  طاھرہ عبداللہ

اعتزازاحسن آپ چند روز میں پانی کے معاملے پر پالیسی بنا کر دیں۔چیف جسٹس

طارق فضل چوھدری نوسر باز ہے درخواست گزار

20 مرتبہ طارق فضل چوھدری کو بلایا ہے۔ چیف جسٹس

اسلام آباد میں پانی کے ذیمز نہ بنانے پر شور مچا ہے۔چیف جسٹس

عدالت نے اعتزاز احسن ک عدالتی معاون مقرر کردیا

اعتزاز احسن پینے کے پانی کے زخیروں پر رپورٹ مرتب کرکے دیں۔ عدالت

پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے۔ عدالت

عدالت نے پانی کے مسئلے پر اعتزاز احسن سے 21 جون تک رپورٹ طلب کرلی

عدالت نے ملک ابرار ا اور زمرد خان کو کل طلب کرلیا، عدالت نے لکھا ہے کہ ٹینکرز مافیا حکومت کو ایک۔روپیہ ادا نہیں کرتی، عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد آفیسرز ۔ کنٹونمنٹ بورڈ اور چیئرمیں شی ڈی اے کو طلب کرلیا

 

خیبر پختونخواہ میں پاور پلانٹس منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت

کے پی کے میں بجلی کی 3 ھزار میگا واٹ ہے۔ چیف جسٹس

انفرا سٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے کے پی کو بجلی نہیں مل رہی۔ چیف جسٹس

سسٹم میں کے پی کے کو 3 ھزار میگاواٹ بجلی موجود ہے۔ چیف جسٹس

انفراسٹرکچر کمزرو ہے اس کو بھتر کس نے کرناہے۔ چیف جسٹس

کے پی کوبجلی کی فراھمی کے لے انفراسٹرکچر موجود نہیں چیف جسٹس

انفراسٹرکچر کی بھتری کے لئے فنڈز دینا وفاق کی زمہ داری نہیں پیسکو حکام

پیسکو نے اپنے منافعے سے انفراسٹرکچر بھتر کرنا ہے پیسکو حکام

پیسکو کے سی ای او کو میرٹ پر لگانا چاھیے پیسکو حکوم

پیسکو میں11 ھزار نشستں پر بھرتیاں نہیں ہوئیں۔ پیسکو حکام

27 ھزار ملامین کا کام 16 ھزار ملامین سے لیا جا رہا ہے۔ پیسک حکام

کے پی میں 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ۔۔لوگوں کو ریلیف کیسے ملے گا۔ چیف جسٹس

کے پی میں 60 فیصد فیڈرز پر نقصانات زیادہ ہیں۔ سیکریٹری پاور ڈویزن

لائین لاسز کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ زیادہ ہے۔ سیکریٹری

مسئلے کا فوری حل نکالا جائے چیف جسٹس

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے