پلیجو دنیا چھوڑ کر بھی تاریخ رقم کر گئے

ابراھیم کنبھر

رسول بخش پلیجو کی تدفین انقلابی گیتوں کی گونج میں اور  جس صنفی امتیاز سے بالاتر انداز میں ہوئی ہے، اس کی مثال گذشتہ ڈیڑھ دو صدیوں میں سندھ، پاکستان، ایشیا کیا دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔  خواتین اپنے سیاسی رہنما کا جنازہ کاندھوں پر اٹھائے گیت گاتی، نعرے لگاتی،صدمے کو حوصلے اور دکھ کو ولولے میں تبدیل کرکے چل رہی ہوں، رسول بخش پلیجو کی  تدفین کے اس انداز کو سندھ میں ایک بہت  بڑی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ پلیجو کی سیاسی ناکامیوں کو گننے والے ساری عمر حساب کتاب کرتے رہیں لیکن جو کام  وہ جاتے جاتے کر گئے ہیں وہ ان کے حقیقی انقلابی رہنما ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

‘ابراھیم ایسا کبھی نہیں ہوا، اس کو کیا سمجھتے ہو؟یہ ایک بلکل منفرد اور غیر معمولی واقعہ ہے، یہ نئے سندھ کی بنیاد ہے، یہ سب کچھ بدل کر رکھ دے گا’، میرے ایک پڑھے لکھے، ڈاکٹر دوست مجھے فون پر بتا رہے تھے جو خود حقوق سندھ  کے سب سے بڑے وکیل ہیں، وہ پلیجو  کی موت پر اندر سے کافی گھایل تھے۔ سات جون کو رسول بخش پلیجو کا انتقال ہوا اور آٹھ جون کی صبح ابائی گاؤں منگر خان پلیجو میں  انہیں سپرد خاک کر دیا گیا تھا_

لازمی نہیں کہ مرنے والے کی صرف زندگی پر ہی روشنی ڈالی دی جائے،اور لازمی نہیں موت پر بس دکھ ہی کیا جائے،پلیجو صاحب اکثر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا یہ شعر پڑھتے تھے

اکھ الٹی دھار،وونُ الٹو عام سیں

جی لوھوارو لوک لھی، توں اوچو وھو اوبھار

منجھان نوچ نھار،پر پٹھیرو پری ڈی،

جس سے مراد نئے رنگ، ڈھنگ سے زندگی گذارنے کے انداز سیکھیں، دنیا کو عام نہیں اپنی آنکھ سے، الٹی آنکھ سے دیکھا کریں، لوگوں  کے مخالف سمت میں چلیں، جینے میں اپنا انداز اختیار کریں، لوگ بہاؤ میں بہہ جاتے ہیں، تم  اونچائی کی طرف چلو، محبوب کی طرف رخ کرکے اس کے پیچھے چلتے رہا کرو ۔۔

تو زندگی کیوں موت کی طرف چلتے ہیں،ہم بھی سمت مخالف میں نکالتے ہیں، مرنے والی کی تعریف تو دشمن بھی کرتے ہیں،ہم اس کی موت کی تعریف کیوں نہ کریں جو جاتے جاتے وہ کچھ دے گیا ہے جو بس سنبھالنا ہے۔  چاہوں تو پلیجو  کی سیاست، ان کی ادبی خدمات،ان کی  کہانیوں، شاعری، تراجم، فن خطابت،ان کے عشق،ان کی فنکارانہ صلاحیتوں،ان پر لگائے  جانے والے الزامات،جیل کی زندگی، حاضر جوابی اور ان کی  بھرپور زندگی پر دو چار الفاظ لکھ سکتا ہوں،لیکن ان کی  موت کے بعد رونما ہونے والے ان واقعات کو کیوں نظرانداز کریں جو آنے والے وقت کے بڑے واقعات ہوں گے۔ایسے واقعات اور لمحات جن کو آنکھیں پہلے بار دیکھ رہی ہوں، گھٹن میں پلنے والا سماج پہلے بار اس پر حیران ہو، منبر پر بیٹھ کر اپنی تنگ نظر تشریحات سے سماج کا گلہ دبانے والے اس جاہل کو پریشان کیوں نہ کیا جائے جس نے غلبہ حاصل کر لیا ہے،اس کے ہوتے ہوئے ایسے لمحات دیکھنے کو ملیں تو وہی ان سے نجات کا راستہ نکالتے ہیں۔

ہمہ گیر شخصیات اپنی  زندگی میں تاریخ بناتے ہیں لیکن صدیوں بعد  ایسی شخصیات پیدا ہوتی ہیں جو مرتے مرتے بھی نئی تاریخ رقم کرجاتی ہیں، وقتی طور پر یا جان بوجھ کر  اسے بھلے نظرانداز کردیا جائے، کسی کھاتے میں نہ لایا جائے،  منہ موڑا جائے، اس کی  طرف توجہ نہ دی جائے لیکن وہ نئی روایت کئی فرسودہ روایات کے خاتمہ کا پیش خیمہ بنتی ہے، اور فطری اصول یہی ہے کہ پھر اسی روایت کو آگے چلنا اور راج کرنا ہوتا ہے۔

انقلابی کے اس آخری سفر پر بار بار سوچ کر میں پھر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ رسول بخش پلیجو نے زندگی میں کئی نئے تجربے کئے لیکن  اس کی وفات کے بعد جنم لینے والے واقعات بھی کسی تاریخی تجربے سے کم نہیں۔ وہ  مرتے مرتے ایک نئی تاریخ رقم کرگیے ہیں۔وہ تاریخ صنفی امتیاز کے خاتمےکی تاریخ ہے،خواتین حقوق کی حاصلات کی  تاریخ ہے، وہ عورت کی برابری، خودمختیاری، آزادی اور فیصلہ سازی کے اختیار رکھنے کی تاریخ ہے،پلیجو صاحب نے جو درس اپنے سیاسی ساتھیوں کو دیا تھا اس کا عملی جامہ اس کی آنکھیں بند ہوتے ہی دیکھا گیا۔

پدرانہ  سماج میں مذہبی تعلیم سے لیکر گھر کے فیصلہ سازی کا اختیار مرد کے پاس ہوتا ہے، یہاں تک کہ تنگ نظر سماج  مرد کے  رویے کا پتا لگانے کی بھی آڑ میں ہوتا ہے،فیصلہ سازی کا اختیار عورت کو سونپے کا تصور تو دور کی بات ہے  عورت کو اس میں شریک بنانے پر بھی اس سماج کے  مرد کی مردانگی پر سوال اٹھتے ہیں،اور پھر ہم تو خیر  ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں،ہمیں یہ سبق پڑھایا  جاتا ہے کہ  ریاست اور ملک کا بھی مذہب ہوتا ہے،ہم چونکہ مسلم ملک کے باسی  ہیں اس لیے خواتین کا پردے میں رہنا  تو  لازمی ہے، اور عورت کے اس پردے کے لیے بھی ہر فرقہ کے پاس اپنا ابایا یا برقعہ ہے،ہاتھ نظر آنے چاہیں یا نہیں، پاؤں میں موزوں تک کی رنگت کا تعین  بھی منبر پر بیٹھے مولوی کرتا ہے،وہ شلوار جس کا چودہ سؤ برس کوئی  تصور نہیں تھا اس کے پہننے کے طریقیکار ،اس کو ٹخنوں کے اوپر رکھنا ہے نیچے وہ مسئلہ بھی مولوی کے پاس لایا جاتا ہے۔ایسے دیس میں خواتین ایک سیاستدان کے جنازے کو کاندہا دیں، انقلابی استقبالیہ گیتوں کی گونج میں سلامی دیں، مرد لوگوں کے ساتھ صفیں بنا جنازہ نماز پڑہیں،پھر انقلابی گیت اور جوشیلے نعروں کے ساتھ میت کو لحد میں اتار کراس ہر ہاتھوں سے مٹی ڈالیں، یہ سب کچھ جاہل ملا کے بتائے ہوئے مذہب، اس فرسودہ سماجی نظام اور ان کی گھٹیا روایات سے بغاوت نہیں تو اور کیا ہے؟خواتین اور مردوں کا  اس لاش پر نوحہ کناں ہونا  اپنی جگہ لیکن ان کے لبوں پر امید کے گیت،منزل پانے کے گیت،حاصلات کے گیت، حوصلے اور آرزوں اور تبدیلی  کے گیت تھے۔

خواتین اس ملک کی آدھی آبادی ہے،لیکن برسوں سے  ان کی حیثیت تسلیم کرنے کے مطالبات ہوتے رہے ہیں،جس ملک کی پارلیامنٹ میں انتھاپسندوں کے حامی ممبران کوایجوکیشن ختم کرانےکے لیے قرارداد لانے کو تیار ہوں،جہاں سپریم کورٹ میں ایسے مشترکہ تعلیمی نظام کو یھود و کفار کا نظام کہہ کر درخواستیں دینی کی تیاری ہو رہی ہو،جہاں پردہ داری کو لازمی قرار دینے کے لیے قانونسازی کی بات کی جائے،کیا اس ملک میں یہ واقعہ بڑا نہیں کہ خواتین ایک مرد کی  لاشی اپنے کاندہوں پر اٹھا کر دفنائیں یا جنازے نماز والے مذھبی فریضے میں وہ ہی خواتین مرد بھایوں کے ساتھ صفبندی کرکے نماز ادا کریں ۔ یہ سب کچھ اس بات کا اعلان ہے کہ اب انسان کو جنم دینے اورپھر  پالنے والی عورت اسے  اکیلے دفن کرنے کے لیے بھی ذھنی طور تیار ہے، اور جو عورت اس حد تک تیار ہو اسے کون شکست دے سکتا ہے؟

یہ شروعات سندھ سے ہوئی ہے،سندھ کی اس انقلابی  عورت نے ثابت کر دکھایا کہ وہ ان ملایت کے جھوٹے درس، تشریحات،دقیانوسی روایات اور بندشوں اور خستہ حال سماجی زنجیروں سے آزاد ہو چکی ہے،کسی نے مجھے  بتایا کہ سندھ میں  ایسے ایک دو واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں  مہان شاعر شیخ ایاز کی میت کو لحد میں اتارنے کے وقت ایک شاعرہ شاید زیب نظامانی موجود تھیں یا پھر ۲۰۱۴ میں ایجنسیون کے ہاتھوں  اغوا بعد قتل کیے جانے والے نوجوان افضل پنہور کی والدہ بھی اپنے لال کی میت کے ساتھ  قبرستان آئی اوربیٹے کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا تھا۔

دنیا کے عظیم فلاسفر سقراط اور  افلاطون دونوں صنفی امتیاز کے مخالف تھے،سقراط کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ  صنفی امتیاز کے  موضوع پر بحث کرتے  اکثر گھوڑا گاڑی کی مثال دیا کرتے تھے کہ اگر چھکڑے کو گھوڑا کھینچ سکتا ہے تو وہی کام گھوڑی بھی بہتر انداز میں انجام دے سکتی ہے،اسی طرح جنس کی بنیاد پر امتیاز بے معنیٰ ہے، کسی عورت کو بھی اعلیٰ مقام مل سکتا ہے، سقراط کے بعد آنے والے افلاطوں  بھی ان ہی  خیالات کے تھے  کہ  عورت ریاست کے ہر عہدے تک  پہنچ سکتی ہے بات قابلیت کی ہے،رسول بخش پلیجو سقراط نہیں تھے لیکن انہوں نے ہمیشہ یہ ہی کہا کہ خواتین کو  سیاسی میدان میں رہنمائی کرنی چاہیے،ایک جگہ تو پلیجو نے یہاں تک بھی کہا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میری جماعت کی سربراہی کسی محکوم اوراستحصال کا شکار طبقے کی کسی کولھی بھیل عورت کے پاس ہو،اور ہم نے دیکھا کہ اس جنازے میں مسلم غیر مسلم مرد اور خواتین کا کوئی فرق نہیں رہا تھا۔

پاکستان میں خواتین حقوق کے لیے متحرک تمام اداروں اور تنظیموں کو فوری طور پر رسول بخش پلیجو کی تیار کردہ ان  بڑے بالوں والی عوامی  فوج سے رابطہ کرنا چاہیے جو خوب سمجھتی ہیں ہیں عورت حقوق کیا ہیں اور جن کو یہ بھی پتا ہے کہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر فائلوں کا پیٹ بھرنا اور بڑے بڑے عہدے لیکر عورت حقوق نہیں لیے جا سکتے ان کے لیے پلیجو جیسا استاد بھی ہو اور تپتے سورج میں نگنے پاؤؤں لانگ مارچ کی تپسیا سے گذر کر اس مقام پر پہنچا جا سکتا ہے،خواتین کی بات کرتے میں ان لڑکیوں کی بہادری کو نہیں بھول سکتا جو خود ایک تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہیں، میں تنویر آریجو، سورٹھ اور سسئی لوہر کی سربراہی میں چلنے والی اس تحریک کو بلکل نہیں بھول نہیں سکتاپورا سندھ ان کے ساتھ ہے، اور وہ تحاریک اپنے گم کردہ پیاروں کی بازیابی کی لیے چل رہی ہیں،ایک اور تحریک کی رہنمائی اس ننھی منی لڑکی ام رباب کی سربراہی میں چل رہے ہیں جس کے بابا، چچا اور دادا کے قاتلوں کے نشانات پیپلز پارٹی کے کیمپ تک جاتے ہیں، اس ام رباب نے بھی حلف اٹھایا ہے کہ جب تک سرداروں کے روپ میں جلاد قاتل نہیں پکڑے جاتے تب تک آرام سے نہیں بیٹھوں گی، یہ بلکل وہی ام رباب ہے جو کراچی میں چیف جسٹس کی گاڑی کے آگے رکی تھی، پورے میڈیا پر خبریں چلنے کے باوجود  ٹکرز پر سؤموٹو لینے والے متحرک چیف جسٹس  کوپتا نہیں کیوں  اس بچی کی چیخ پکار سنائی نہیں دی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے