جسٹس قاضی فائز کا اختلافی نوٹ

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے شیخ رشید اہلیت فیصلے میں اختلاف کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار سے معاملے پر فیصلے کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے کہا ہے جو سات قانونی سوالات کا یکساں جواب تلاش کرے _

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے تفصیلی فیصلے میں جو سات سوال اٹھائے ہیں پاکستان 24 کے مطابق وہ یہ ہیں ۔

کیا کاغذات نامزدگی میں ہر غلط بیانی کا نتیجہ نااہلی ہے؟

کیا ارٹیکل 225 کے انتخابی تنازعات میں ارٹیکل 184/3 کا اطلاق ہو سکتا ہے؟

کیا 184/3 میں ارٹیکل 62-1ایف کے تحت نااہل کیا جاسکتا ہے؟

کیا آرٹیکل 62/1ایف کے میں کورٹ اُف لاء کے زکر میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے؟

کیا عدالتی کارروائی کے دوران ظاہر ہونے والی غلط بیانی کو نااہلی کے لیے زیر غور لایا جاسکتا ہے؟

کیا کسی شخص/امیدوار کی انتخابی عذر داری کو عوامی مفاد کا معاملہ قرار دیا جاسکتا ہے؟

معاملہ عوامی مفاد کا ہو تو کیا شواہد فراہمی کے  قوانین کا اطلاق ہو گا؟

غلط بیانی پر نااہلی کی مدت تاحیات ہو گی یا آئندہ الیشکن تک؟

جسٹس قاضی فائز عیسی کے مطابق یہی سوالات اسحاق خان خاکوانی کیس فیصلے میں بھی اٹھائے گئے تھے، پاکستان 24 کے مطابق انہوں نے لکھا ہے کہ ان سوالات کے جواب کافی عرصے سے نہیں ائے۔ معاملے کے حتمی حل کے لیے ان سوالوں کے جواب میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ان سوالات کے زریعے آئین اور عوامی نمائندگی قوانین کی تشریح ہونی ہے۔

اٹارنی جنرل ، ایڈوکیٹ جنرلز ان سوالات کے جوابات دیں، چیف جسٹس اُف پاکستان ان سوالات پر فل کورٹ تشکیل دیں۔اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پانامہ کیس میں قرار دیا گیا نااہلی کے لیے عدالتی ڈیکلریشن ضروری ہے۔

آرٹیکل 62/1ایف میں لفظ متعلقہ عدالت تحریر کیا گیا ہے، متعلقہ عدالت میں سپریم کورٹ شامل نہیں ہے۔کیا ارٹیکل 184/3 کا استمعال کر کے کسی کو 62/1 ایف کے تحت نااہل کیا جاسکتا ہے؟ اختلافی نوٹ کے مطابق آئین کا ارٹیکل 225 انتخابی تنازعات کے لیے مخصوص ہے۔کیا انتخابی تنازعات کو عوامی اہمیت کی کٹیگری میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان 24 کے مطابق جسٹس قاضی فائز نے لکھا ہے کہ انتخابی تنازعات کے حوالے سے مختلف عدالتی بنچوں نے اپنے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے، اس معاملہ کے جلد حل کی ضرورت ہے۔ قانونی بے یقینی سے انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان ہو سکتا ہے، ہمیں اس تاثر کو ختم کرنا چاہیے کہ مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف سلوک ہو تا ہے، اس لیے فل کورٹ تشکیل دی جائے _

جسٹس عظمت سعید نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ قاضی فائز عیسٰی کا فیصلہ پڑھنے کے بعد اس پر دستخط کرنے سے قاصر ہوں، قاضی فائز عیسٰی نے تجویز دی کہ اپیل پر فل کورٹ کے فیصلے تک کوئی فیصلہ نہ دیا جائے، اگر یہ تجویز مان لی جائے تو یہ عمل 2018 الیکشن سے پہلے مکمل نہیں ہو سکتا، اعلیٰ عدلیہ سیاسی و قانون طور پر انتخابی عمل کا لازمی جزو ہے، قاضی فائز عیسٰی کی بات مان لی جائے تو انتخابی عمل کے دوران تنازعات پر فل کورٹ کے فیصلے تک طے نہیں ہو سکیں گے، پاکستان 24 کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ان حالات میں دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن پر سوالات پیدا ہو جائیں گے، ان حالات میں آئندہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنا بھی مشکل ہو گا، قاضی فائز عیسٰی کی تجویز سے پورا انتخابی عمل رسک پر ہو گا _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے