نیب ریفرنس میں وکیلوں کی گرما گرمی

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت انیس جون تک ملتوی کردی گئی ہے جبکہ استغاثہ اور دفاع کے وکیلوں کی آپس میں تلخ کلامی ہوئی ہے _

نواز شریف کی جانب سے جہانگیر جدون نے وکالت نامہ داخل کرا دیا ہے جبکہ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش نہ ہوئے، ان کے معاون وکیل نے کہا کہ امجد پرویز کی طبیعت خراب ہے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، امجد پرویز کی طبعیت کل سے ناساز ہے ۔ نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کی جارہے ہیں ۔ باہر جا کر یہ لوگ شور کرتے ہیں ٹرائل میں تاخیر ہو رہی ہے، اگر ان کے وکلاء کیس نہیں چلا سکتے تو ملزمان خود آ کر دلائل دیں، اپنی مرضی کا وقت رکھوا کر کہتے ہیں آج پیش نہیں ہو رہے ۔ یہ کوئی طریقہ کار نہیں ہے، انہوں نے خود آج دلائل کی تاریخ مقرر کی تھی، یہ ڈرامے کر رہے ہیں _ امجد پرویز کے معاون وکیل اورنگزیب نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ کس قسم کے الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں؟ قانون  کے ساتھ ہمارا ایک اخلاقیات کا پرچہ بھی ہوتا تھا جو آج عمل میں نظر نہیں آ رہا، ہمیشہ تعاون کیا، ایک دن طبیعت خراب ہو گئی تو کیا ہوا؟  نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ امجد پرویز نہیں ہیں تو بیرسٹر جہانگیر جدون کو کہیں کہ دلائل دے دیں، ان کا وکالت نامہ آ گیا ہے، جہانگیر جدون نے کہا کہ مجھے ابھی اپنے موکل سے ہدایات نہیں ملیں، جج محمد بشیر نے کہا کہ وکالت نامہ داخل کرا دیا تو کیا آپ کو ہدایات نہیں ملیں، وکیل نے کہا کہ آج صرف ملزمان کے استثنا کی درخواست دی ہے، یہی ہدایات تھیں، معاون وکیل نے کہا کہ خواجہ حارث نے اس کیس میں نو ماہ بڑی محنت کی ہے، کسی دوسرے وکیل کے لیے یہ کیس آگے چلانا مشکل ہو گا_ جج نے کہا کہ جہانگیر جدون پہلے دن سے عدالت آ رہے ہیں، یہ کیس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں _

بیرسٹر جہانگیر نے کہا کہ نواز شریف خواجہ حارث سے رابطے میں ہیں ان کو راضی کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، 19 جون کو سماعت مقرر کی جائے _

سماعت عید کے بعد 19 جون تک ملتوی کردی گئی _

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے