کیا ہم تیار ہیں

ثاقب زاد

انسان میں پائی جانے والی جستجو  اسے ہزاروں سال کے سفر میں غار سے نکال کر بلند و بالا خودکار نظام سے لیس عمارات ، ہوا میں اڑتے دیوہیکل جہاز ، سمندر میں تیرتے وسیع و عریض بحری بیڑوں ، چاند کو سر کرتی حقیقی چاند گاڑی اور نجانے کیا کیا اور کہاں کہاں تک لے آئی ۔۔۔ ہزاروں سال کے اس سفر میں جستجو کی پچھلے دوسیکڑوں کی مسافت ایک طرف اور باقی عرصہ کی مسافت ایک طرف ۔۔۔۔
المختصر ، ایجاد سے نوری سال کے فاصلوں کا ادراک ہو یا سورج سے اٹھنے والی کرنوں اور نظام شمسی کے اربوں ستاروں میں  مریخ پر ٹکٹکی باندھے  ہبل دوربین کی ایجاد ۔۔۔ انسانی جسم میں سفر کرتے سرخ خلیوں پر پائے جانے والی تہہ ہو یا نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے مسام سے سرائیت کرتے انجیکشن ۔۔۔ یہ سب دو صدی کا قصہ ہے ۔۔  انسان دو صدی کے اس کم ترین عرصہ میں کمبوتر کے ساتھ لٹکی پرچی پر لکھے حروف سے ترقی کرتا انگلی کے پوروں پر ناچتے حروف ، تھرکتی تصویریں اور رس گھولتی  موسیقی تک آن پہنچا۔
چکا چوند ترقی سے انسان کے رہن سہن ، بودوباش جنگ وجدل کے تقا ضے بھی بدل گئے ۔۔ نیزے بھالے سے رویتی جنگ کا طریقہ کار بدلا تو ایٹم ، نیوٹران بم تک آ پہنچا ۔۔۔ جستجو اور ترقی نے انسان کو اتنی جدت دی کہ  صدی کا سفر عشرہ تک پہنچ گیا ۔۔  کولڈ وار سے ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح عام ہوئی ۔
ففتھ جنریش وار یعنی بیانیہ کی جنگ جس میں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کو استعمال لاتے ہویے سوچ کا ایسا بیج بویا جاتا ہے جو دشمن کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے
ففتھ جنریشن وار کے اس دور میں جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق سے لیس دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے سوچ اور تحقیق لازم ہے ۔  کیا ہم  اس کیلئے تیار ہیں ۔۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا ہم چاند دیکھنے پر اتفاق رائے نہیں کر سکتے ۔۔ موسمی پیش گوئی کے جدید نظام کے ہوتے ہویے بھی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد جامع مسجد نہ بن سکی ۔۔ ہمارا سسکتا نظام جہاں تعلیم محض ڈگری کا حصول اور نوکری کا سہارا ہے ۔۔ ہم پچاس سال میں ایک ایسا ادارہ بھی نہ بنا سکے جو عالمی معیار میں پہلے سو نمبروں میں شامل ہو ۔ ہم نینو ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی فٹ پاتھ پر بیٹھے مداری سے ڈینٹل سرجن جتنی توقع کرتے ہوئے بتیسی نکلوا لیتے ہیں ۔۔  کیا ہم اس ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کر سکیں گے ۔ ہمیں اس کیلئے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے نوجوان نسل کو بتا نا ہو گا ۔ ہمیں انہیں وطن کے دفاع کیلئے اس حربہ سے لیس کرنا ہو گا  تاکہ کل ہزیمت و ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کیا ہم تیار ہیں؟

متعلقہ مضامین