چودھری نثار کی دعوت اور بچپن کے دن

فیاض محمود

یہ ان دنوں کی بات ہے جب لڑکپن کا بانکپن عروج پر تھا۔ بات بات میں جذباتیت چھلکتی تھی۔ کسی بھی بات پر ’نہ‘ سننا اچھا نہ لگتا۔ بس ایک ارمان، منہ سے بات نکلے اور پوری ہوجائے۔ خدانخواستہ غلطی سے انکار ہوجانا تو بس آسمان پر سر پر اٹھا لیتا تھا۔ گھر کی چیزیں پھینک کر ، کبھی توڑ کر احتجاج ریکارڈ کرانا۔ بات بن گئی تو ٹھیک ورنہ تڑاخ سے دروازہ مار کر گلی میں ہوتا تھا۔ پہلا قدم گلی میں رکھتے ہی خود سے عزم کرنا اب بس گھر میں واپسی نہیں ہوگی۔ زندگی گھر سے دور گزرے گی اور پھر میری قدر بھی معلوم ہوگی۔ جذباتیت تھوڑی بڑھنی تو دل ہی دل میں سوچنا کیوں نہ گھر والوں کو سبق سکھانے کے لیے خودکشی کا ڈرامہ رچایا جائے۔ اگلے ہی لمحے خیال آنا کہ کہیں سچ میں کچھ ہوگیا تو پھر میں کیا کروں گا۔ ویسے بھی خود کشی کے کسی بھی حربے سے درد بھی ہوگا اور وہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ آئیڈیا تو اپنی موت آپ مر جاتا آخری حل یہی ہوتا کہ کسی دوست کے گھر جاکر پناہ لی جائے۔ دماغ پر زور دینا کہ ایسا کون سا دوست ہے جو زندگی بھر رہنے کا ٹھکانہ بھی دے اور گھروالوں کی طرح مفت میں کھانے پینے کو بھی دے۔ کئی منٹوں کی مغز ماری بھی ناکام ہوجاتی۔ پھر آخری ٹھکانہ مسجد رہ جاتا تھا۔ نماز عیشاء کے بعد بابا رحمت دین آجاتا چل بیٹا نماز پڑھ لی ہے تو گھر ٹر جا مسجد کو تالا لگانا ہے۔ مسجد سے نکلنا تو آنتیں بھوک کے مارے قل ہو اللہ پڑھ رہی ہوتی تھیں۔ مسجد کے پاس پڑے چاچے غلام کے سبزی کے پھٹے پر بیٹھ جانا اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی شروع کردینی۔ دل ہی دل میں اپنے ہی فیصلے کو ویٹو قرار دینا اور گھر کی راہ لینے کی منصوبہ بندی شروع کردینی مگر ایک بار انا آڑے آجانی کہ میں تو گھر چھوڑ چکا ہوں اور گھر والے جب تک بلائیں گے نہیں میں کیوں جاوں۔ پھر سوچنا ہوسکتا ہے وہ مجھے لینے آئے ہوں اور مجھ پر نظر نہ پڑی ہو۔ اس لیے انہیں موقع دینے کے لیے گھر کے قریب جابیٹھنا اور نظر گھر کے دروازے پر لگا لینی کہ اب تو منانے آنا چاہیے۔ دروازہ نہ کھلنا تو دل میں خیال آنا ہوسکتا ہے میرے آنے سے پہلے وہ مجھے دیکھ گئے ہوں اور مجھے نہ پا کر مایوس ہوکر واپس چل دیے ہونگے۔ گھر والوں کو مجھے ڈھونڈنے کا موقع دینا چاہیے۔ پھردروازہ کھٹکٹا کے واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھنے کا فیصلہ ہوتا۔ جیسے ہی دروازے پر ٹھک ٹھک ہوتی بھاگ کر اپنی جگہ پہنچ جاتا۔ ابو جان باہر آتے اور مجھ سے ہی پوچھتے دروازہ کس نے کھٹکٹایا؟ میرا جواب ہوتا مجھے کیا معلوم۔ دروازے کو تو وہ بھول جاتے اور مجھے کہتے تم کدھر نکلے ہوئے ہو۔ اٹھو گھر چلو۔ میں بھی جھٹ سے احترام میں گھر بھاگ جاتا۔ گھر پہنچ کر کچھ دیر منہ بنتا پھر ماں جی کھانا دیتیں اور میرے تعلقات بحال ہوجاتے۔ چوہدری نثار کی تازہ پریس کانفرنس سن کر نہ جانے کیوں بچپن کی یہ بغاوتیں یاد آگئیں

متعلقہ مضامین