دعوؤں اور وعدوں کی سیاست

محمد عاصم

۲۰۱۸کے انتخابات میں ایک ما ہ کا عرصہ رہ گیا ہے ۔الیکشن میں کامیا بی حاصل کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے اُمیدوار میدان میں اُتار دیے ۔اس دوران ایک بات پر غور کرنا ضروری ہے کے ۲۰۱۳ کے انتخابات میں کئے گئے وعدے اور دعوے پورے ہوئے یا نہیں ۔ پانچ سال حکومت کرنے والی جماعت ن لیگ نے۲۰۱۳کے انتخابات میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔

۲۰۱۳ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدرمیاں محمد نواز شریف نے اپنے منشور میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ ملک کو کرپشن سے پاک کریں گے ۔اور اگر دیکھا جا ئے تو اُن کا یہ دعویٰ کسی حد تک پورا ہوا ہے ۔ وہ بحیثیت وزیراعظم کرپشن کے الزام پر عدالت کے سامنے پیش کئے گئے، ہر چند کہ وہ وصول نہ کی گئی تنخواہ کو بطور اثاثہ چھپانے پر نااہل قرار دیے گئے ہیں ۔

اسی طرح ۲۰۱۳ کے انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ نے اپنے منشور میں یہ دعویٰ کیا تھا کے وہ نوجوانو ں کو موقع دیں گے اور نؤ پاکستان کے قیام میں نوجوانوں کے کردار کو یقینی بنائیں گے لیکن اگر ۲۰۱۸ کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کی تقسیم کی بات کی جائے تو اُن کا دعویٰ صرف دعویٰ ہی نظر آتا ہے۔انتخابات کے لئے ۷۵ فیصد سے زاہد ٹکٹ ایسے حضرات کو دیے گئے ہیں جو کہ سیاسی لوٹے سمجھے جاتے ہیں ۔اپنی وفاداریاں آئے روز تبدیل کرتے ہیں ۔ اور اگر ملک کی تیسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کر یں تو اُنھوں نے بھی پانچ سال صرف دعوؤں اور وعدوں کی سیاست کی ۔
۲۰۱۳ کے انتخابات میں مخدوم امین فہیم نے پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور بیان کرتے ہوئے یہ دعوی ٰ کیا تھا کے وہ اندرون سندھ کی تر قی پر توجہ دیں گے لیکن گزشتہ پانچ سالوں میں کو ئی خاطر خواہ ترقی دیکھنے میں نظر نہیں آئی ۔

اب الیکشن مہم میں یہ دیکھنا ہو گاکہ ۲۰۱۸ کے انتخابات میں سیاسی جماعتیں کتنے دعوے کرتی ہیں اور الیکشن میں کامیابی کے بعد اُن دعووں پر کس حد تک عمل پیرا ہوتی ہیں ۔ پاکستانی انتخابات کے دوران کچھ ووٹرز اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہیں ۔اور بریانی کے چند ڈبوں اور چند پیسوں پرخریدے جانے والے ووٹوں سے کرپٹ لوگ ہم پر حکمرانی کرتے ہیں اورپھر پانچ سال عوام کے بارے میں سوچنے کے بجائے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے عیاشی کرتے ہیں اور اپنی جیبیں بھرتے ہیں ۔

آج پاکستان مشکل ترین حا لات سے گزر رہا ہے ۔ ملک میں پانی کی شدید قلت ہے ۔ عام لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ۔ملک پر بڑھتا ہوا قر ضہ او ر ساتھ ہی ڈالرکی اونچی اُ ڑان ،یہ ایسے سنگین مسا ئل ہیں جن سے پاکستان آج گزر رہا ہے ۔اب یہاں پر فیصلہ عوام نے کرناہے اُنھیں بریانی کے ڈبوں پر اپنا ضمیربیچنا ہے یا پھر پاکستان کو بدلنے کے بارے میں سوچنا ہے ۔ایسے حکمرانوں کو ووٹ دینے کے بارے میں سو چنا ہے جو پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے