شناخت کیلئے عدالتی جنگ

خالدہ شاہین رانا

سپریم کورٹ میں”سعودی عرب سے بچپن میں اغواکی گئی لڑکی کی شناخت اور اصلی ورثا کی تلاش ”کے عنوان سے دائر کی گئی ایک اچھوتی آئینی درخواست میں تین بچیوں کی30سالہ ماں ،لیڈی ٹیچر مسما ة حفصہ ولدیت نامعلوم؟نے خود کو بچپن میں سعودی عرب سے اغوا کی گئی لڑکی قرار دیتے ہوئے عدالت سے اپنی والدہ ہونے کی دعویدار زاہدہ بی بی کے ساتھ اپنا ڈی این اے کروا کر حقیقت سامنے لانے کے حوالے سے حکم جاری کرنے کی ا ستدعا کی ہے، مسما حفصہ نے سپریم کورٹ میںآئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت دائر” کی گئی درخواست میں( والدہ ہونے کی دعویدار) زاہدہ بی بی، وفاقی سیکرٹری وزارت داخلہ ، وفاقی سیکرٹری وزارت خارجہ،اسلام آباد میں تعینات سعودی ایمبیسیڈر، اسلام آباد ڈائیگناسٹک سنٹرکے سربراہ ،ڈی جی، اورسیزپاکستانیز فائونڈیشن،کے آر ایل ہسپتال کے سربراہ،ڈی جی، ایف آئی اے اورآئی جی پولیس، اسلام آباد کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزار کا نام حفصہ ولدیت( نامعلوم) قومیت سعودی النسل ہے ، جسے بچپن میں پاکستان کے قبائلی علاقہ ( فاٹا )سے تعلق رکھنے والے سعودی عرب کے ایک سکول میں تعینات ،ٹیچر شرابت خان اور ان کی اہلیہ زاہدہ بی بی نے سعودی عرب سے اغوا کر کے ایک جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کے ذریعے بظاہر بیٹی بنا کر ساری زندگی کے لئے کنیزیا نوکرانی بنا کر رکھے رکھا ،جب میری عمر 15سال ہوئی تو میرے سمیت سارا خاندان ہی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ٹانک میںاپنے آبائی گھر آگیا، اور زاہدہ بی بی نے پیسے لیکر میرے جیسی پڑھی لکھی (گریجویٹ ) لڑکی کی شادی ایک ایسے شخص کے ساتھ کردی ،جسے علاقہ بھر کا کوئی بھی شخص ا پنی ان پڑھ لڑکی کا رشتہ دینے کو بھی تیار نہیں تھا ، میرے ہاں تین بیٹیاں پیدا ہو ئیں اور بیٹیاں پیدا کرنے کے جرم میں مجھے خاوند اورسسرالیوں کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ،میں نے اس سے طلاق کا مطالبہ کردیا اور ناراض ہوکر اپنی( جعلی والدہ )زاہدہ بی بی کے گھر پناہ لینے کے لئے چلی گئی ، جس نے میری مدد کرنے کی بجائے ڈراتے ہوئے ایک خوفناک ترین انکشاف کیا کہ میں شرابت خان( نام نہاد والد) اور ا س (زاہدہ بی بی )کی بیٹی نہیں ہوں ،بلکہ سعودی عرب کی شہری ہوں، اس نے کہا کہ اگر تم نے طلا ق لے لی تو تمہیں پورے پاکستان میں رات رہنے کے لئے جگہ تک نہیں ملے گی ، میں اپنی بیٹیوں کولیکر اسلام آباد آگئی اور فیملی کورٹ اسلام آباد میں خلع کا دعوی دائر کردیا ،اور ڈیڈھ سال بعد خلع ہوگئی ، جبکہ میرا سابق خاوند ایک کارحادثہ میں اپنے بھائی سمیت فوت ہوگیا ،میری سعودی حکومت کو دی گئی درخواست پر شرابت خان کو سعودی حکومت نے گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی تو مجبور ہوکر زاہدہ بی بی نے او پی ایف اور اسلام آباد ڈائیگناسٹک سنٹر کی چند کالی بھیڑوں کے ساتھ ساز باز کرکے ایک ڈرامہ رچاتے ہوئے زاہدہ بی بی کے ساتھ میر ا جعلی ڈی این اے کروایا جوکہ میچ کرگیا ، اور اس کی بنیاد پر شرابت خان کی جان چھوٹ گئی اور وہ پاکستان آکر کچھ عرصہ بعد فوت ہوگئے ، بعد ازاں میں نے کے آر ایل ہسپتال سے اپنے طور پراپنا ڈی این اے کروایا، اور متعلقہ ڈاکٹر عبدالحمید نے ڈی این اے رپورٹ دیکھ کر انتہائی حیرت زدہ انداز میں مجھے بتایا کہ” آپ کا پروفائل پاکستانی عوام کے سٹینڈرڈ سے نہیں ملتا ہے ”

حفصہ اپنی چھوٹی بیٹی کے ہمراہ

 

یعنی اس رپورٹ کے مطابق میں پاکستانی شہری نہیں ہوں، انہوںنے کہا کہ ہم نے اب تک ہزارہا ڈی این اے سرچ کئے ہیں لیکن آپ کا پروفائل پاکستانی عوام کے پروفائل سے بالکل مختلف ہے ،ڈاکٹر نے اپنی تسلی کے لئے میرے خون کو دوبارہ سرچ کروایا تو بھی یہی نتیجہ آیا ،اس رپورٹ کے ذریعے ہی میرا موقف ثابت ہوتا ہے کہ میں شرابت خان اور ان کی اہلیہ زاہد بی بی کی بیٹی نہیں ہوں اور ان لوگوں نے مجھے سعودی عرب سے اغوا کرکے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کے ذریعے مجھے نام نہاد بیٹی بنایا ہوا تھا،درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری یاکسی عالمی معیار کی لیبارٹری سے زاہد ہ بی بی اور اس کے بچوں کے ساتھ میرا ڈی این اے کروانے کا حکم جاری کیا جائے ، وزارت خارجہ کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ سفارتی سطح پر میرا معاملہ سعودی حکومت کے سامنے اٹھائے اور میری درخواستوں پر (نام نہاد والد )شرابت خان کے خلاف سعودی عرب میں ہونے والی فوجداری کارروائی اور ان کا نام ای سی ایل پر ڈالنے سے متعلق تمام تر ریکارڈ سعودی حکومت سے سفارتی ذرائع سے منگوا کر جائزہ لیا جائے ،ڈی جی ، ایف آئی اے کو زاہدہ بی بی اور اس کے مرحوم شوہر کے خلاف مجھے اغوا کر کے پاکستان لانے اور جعلسازی سے میرا اندراج اپنے خاندان کے ساتھ کرانے کے جرم میں ایف آئی آر درج کرنے جبکہ زاہدہ بی بی اور اسلام آبا د ڈائیگناسٹک سنٹر کی انتظامیہ کے خلاف یہ جعلی ڈی این اے رپورٹ بنانے کے جرم میں ایف آئی آر در ج کر نے کا حکم جاری کیا جائے ، اور آئی جی اسلام آباد کو مجھے تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button