آبادی میں اضافہ کیسے روکیں؟ چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ہے جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ملک میں آبادی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے، ہم کس چکر میں پھنس گئے ہیں کہ بچے کم پیدا کرنا اسلام کے خلاف ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ملک اس قابل ہے کہ ایک گھر میں 7 بچے پیدا ہوں؟ کیا ملک میں اتنے وسائل ہیں؟

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عوامی آگاہی مہم بالکل صفر ہے، لوگ مرغیوں کے ڈربے میں بھی اضافی جگہ بناتے ہیں، چائنہ نے اپنی آبادی کنٹرول کی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں آبادی کی شرح میں اضافہ بم ہے جو پھٹ چکا ہے ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ میرے خیال میں اولاد میں مناسب وقفے کے حوالے سے قرآن میں بھی آیات موجود ہیں،

چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آبادی کی شرح پر قابو پانے کے لیے اب تک کتنا پیسہ استعمال کیا؟ ایوب خان دور میں بھی آبادی کی شرح میں کنٹرول کے لیے پالیسی تھی، اللہ کے نام پر پاکستان کو قائم کیا گیا، اس ریاست کو چلنا تو ہے ۔

آبادی کی شرح میں کمی سے متعلق صحت مراکز کی مانیٹرنگ کا کوئی بندوبست نہیں، سیکرٹری صحت

آبادی کنٹرول مراکز میں بیٹھے لوگ صرف مفت کی تنخواہیں لے رہے ہیں، چیف جسٹس

انڈونیشیا میں مسجدوں میں جاکر آبادی سے متعلق آگاہی مہم چلائی گئی، سیکرٹری صحت

70 اور 80 کی دہائی میں شرح آبادی 3.7 فیصد تھی، نمائندہ ڈویلپمنٹ سیکٹر پنجاب

اس وقت ملک میں شرح آبادی 2.4 فیصد ہے، نمائندہ ڈویلپمنٹ سیکٹر پنجاب

ہم کسی کو بچے کرنے سے روک نہیں سکتے، نمائندہ ڈویلپمنٹ سیکٹر

بیرون ملک سے بھی امداد نہیں آرہی، نمائندہ ڈویلپمنٹ سیکٹر

پنجاب پاپولیشن ویلفئیر محکمے کی خاتون نمائندہ نے بتایا کہ صوبے میں 2100 فلاحی مراکز ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں 2100 فلاحی مراکز کی کارکردگی کے بارے میں بتائیں، فلاحی مراکز میں چائے کے کپ پر گپ شپ چلتی ہوگی، فلاحی مراکز کے ملازمین ڈیوٹی کے اختتام کے لیے گھڑی کی طرف دیکھتے رہے ہوں گے، آبادی کے حوالے سے معاملہ قومی فریضہ ہے، چیف جسٹس

راولپنڈی میں 70 سے 80 فلاحی مراکز ہیں، ڈپٹی سیکرٹری پنجاب

چیف جسٹس نے کہا کہ آبادی کنٹرول کے حوالے سے تمام منصوبے کاغذوں کی حد تک ہیں، ابھی اپنے ٹیلی فون بند کریں میں فلاحی مراکز میں خود جاکر وہاں سہولیات دیکھ لیتا ہوں،

جس پر کمرہ عدالت میں خاموشی چھا گئی ۔

پنجاب حکومت بتائے فلاحی مراکز چلانے کے لیے کتنا بجٹ رکھا گیا ہے؟ چیف جسٹس

1.459 ملین سالانہ روپے ہر سال ملتا یے، ڈپٹی سیکرٹری پنجاب

3.6 بلین روپے پی ایس ڈی پی سے آتے ہیں، ڈپٹی سیکرٹری صحت پنجاب

جو بچے پیدا کیے جارہے ہیں انکو پانی اور خوراک نہیں ملے گی، ملک میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے پانی، خوراک جیسے وسائل نہیں ہیں، ہم نے پورے ملک کے لیے یکساں پالیسی بنانی ہے، پالیسی پر عملدرآمد کیسے کرنا ہے چیف جسٹس

شرح آبادی پر کنترول کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، چیف جسٹس

پاکستان نے ابھی تک آبادی پالیسی تشکیل ہی نہیں دی، سیکرٹری صحت کے پی کے

فریقین مل بیٹھ کر ایک خاکہ بنائیں اور ہمیں چیمبر یا عدالت میں پیش کریں، چیف جسٹس

متعلقہ مضامین