طیبہ تشدد کیس میں نیا کیا

سپریم کورٹ میں جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی کم سن ملازمہ طیبہ کے کیس کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کے فوجداری حصے میں ملزمان کو سزا ہو چکی ہے ۔کیا ملزمان گرفتار بھی ہوئے ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ جج راجہ خرم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ان کی اہلیہ عمرہ پر روانہ ہو گئی ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کا دوسرا حصہ بچوں کے تخفظ کا قانون ہے، حکومت کو کئی بار واضح قانون سازی کا کہہ چکے ہیں ۔ سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ بچوں کی گھروں میں ملازمت کے حوالے سے قانون موجود نہیں، چائلڈ رائٹس کمیشن تاحال فعال نہیں ہو سکا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کا تجویز کردہ مسودہ نگران حکومت کو ریفر کر دیتے ہیں ۔ وکیل نے کہا کہ طیبہ ایس او ایس ویلج میں خوش ہے ۔ چیف جسٹس نےطکہا کہ طیبہ اور اس کی کفالت کرنے والوں سے ملنا چاہتے ہیں، طیبہ سے مل کر کوئی فیصلہ کریں گے،مسئلے کا حل نکال کر ہی جائیں گے ۔

عدالت نے اٹارنی جنرل اور چاروں ایڈووکیٹ جنرلز کو چیمبر میں بلا کر بچوں سے مشقت روکنے کیلئے قانون کے مسودے کی تیاری کیلئے تجاویز دینے کی ہدایت کی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے