نواز شریف کی سزا کا فیصلہ6 جولائی کو

اسلام آباد کی احتساب عدالت سے بڑی خبر آ چکی ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ محفوظ کر لیا گیا ہے ۔ فیصلہ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کے حتمی دلائل مکمل ہونے پرمحفوظ کیا گیا ۔

9 مہینے اور 20دن سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا، فیصلے کی تاریخ 6 جولائی بروز جمعہ مقرر کردی گئی ۔ریفرنس میں نواز شریف، مریم، حسن اور حسین نواز کے ساتھ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر ملزم نامزد ہیں ۔

عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے ۔ نیب کی طرف سے نوازشریف اور بچوں کیخلاف 8ستمبر 2017کو عبوری ریفرنس دائر کیا گیا تھا ۔مزید شواہد سامنے آنے پر نیب نے 22جنوری کو ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا ۔ایون فیلڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر18گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ۔ گواہوں میں پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے

19اکتوبر 2017کو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔ نوازشریف کی عدم موجودگی کی بنا پر ان کے نمائندے ظافر خان کے زریعے فرد جرم عائد کی گئی ۔

26ستمبر کو نواز شریف پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔ مریم نواز پہلی بار 9اکتوبر کو احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئیں

ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ہونے کے باعث کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ائیر پورٹ سےگرفتار کرکے عدالت پیش کیا گیا

مسلسل عدم حاضری کی بنا پر عدالت نے 26اکتوبر کو نوازشریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ۔ 3نومبر کو پہلی بار نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر اکٹھے عدالت میں پیش ہوئے

8نومبر کو پیشی کے موقع پر نوازشریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی ۔ 11جون 2018کو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ ہوگئے

نوازشریف کی طرف سے ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے وکالت نامہ جمع کرایا ۔ 19جون کو خواجہ حارث احتساب عدالت پہنچے اور دستبرداری کی درخواست واپس لے لی تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے