شاہد خاقان اور فواد چودھری اہل ہوگئے

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری کے خلاف دیئے گئے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کالعدم قرار دے کر دوںوں سیاست دانوں کو اہل قرار دیا ہے ۔

ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے گزشتہ ہفتے شاہد خاقان عباسی اور فواد چودھری کو انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نااہل قرار دینے کا فیصلہ دیا تھا جس کو بعد ازاں معطل کر دیا گیا تھا ۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ نے دو رکنی بنچ نے الیکشن ایپلیٹ ٹریبونل کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کی تاحیات نااہلی کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی ۔

اعتراض کنندہ کے وکیل مسعود عباسی ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ شاہد خاقان عباسی نے ہائی کورٹ میں اپنے اثاثوں کی تفصیلات کاغذات نامزدگی کے برعکس جمع کرائیں، شاہد خاقان عباسی نے ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی دستاویز میں اسلام آباد کے گھر کی مالیت 20 کروڑ روپے ظاہر کی جب کہ کاغذات نامزدگی میں انہوں نے اسی گھر کی مالیت 3 لاکھ روپے ظاہر کی تھی، شاہد خاقان عباسی نے کاغذات نامزدگی میں ائیر بلیو کی مالیت 6 کروڑ روپے ظاہر کی تھی جب کہ انہوں نے ان ہی کاغذات نامزدگی میں اضافی دستاویز لگا کر اس کی مالیت 90 کروڑ ظاہر کی ۔ وکیل کے مطابق خاقان عباسی نے آبائی گھر کی مالیت پہلے ایک لاکھ روپے بتائی جو اب 20 کروڑ ہوگئی ہے، مری میں قائم ہوٹل کی مالیت کاغذات نامزدگی میں 10 لاکھ جبکہ ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں 20 کروڑ ظاہر کی ہے ۔

شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایئربلیو کے کل شیئرز 9 کروڑ ہیں جن میں سے شاہد خاقان عباسی کے ملکیتی شیئرز 6 کروڑ ہیں، جس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ اس میں اس سفیر کے شیئرز بھی ہیں جو ابھی امریکا میں تعینات ہوئے ہیں اور نیب اس کی تلاش میں ہے ۔ عدالت عالیہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد الیکشن ایپلیٹ ٹریبونل کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کی تاحیات نااہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ۔ یاد رہے کہ الیکشن ایپلیٹ ٹربیونل نے شاہد حاقان عباسی کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا ۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں اسی دو رکنی بنچ نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان فواد چوہدری کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے ۔

فواد چوہدری کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ آفیسر نے ان کے موکل کے کاغذات نامزدگی منظور کئے جس کے خلاف ایپلیٹ ٹریبونل میں اعتراض کیا گیا اور ایپلیٹ ٹریبونل نے حقائق کے برعکس نہ صرف کاغذات نامزدگی مسترد کیے بلکہ فواد چوہدری کو نااہل بھی قرار دے دیا ۔ وکیل نے بتایا کہ ٹربیونل کے مطابق فواد چوہدری نے اپنے اثاثہ جات اور بیرون ملک دوروں پر 32 لاکھ کے اخراجات کی تفصیلات فراہم نہیں کی، حالانکہ کاغذات نامزدگی میں ایف بی آر کی مصدقہ کاپی ساتھ منسلک کی گئی تھی ۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایپلیٹ ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فواد چوہدری کو این اے67 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ۔ یاد رہے کہ فواد چوہدری نے جہلم سے قومی اسمبلی کے حلقہ این سے 67 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں اور ان کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے امیدوار سے ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے