صالح ظافر سے سرکاری گھر خالی کریں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں سرکاری گھروں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ایف سکس میں کسی صحافی کو گھر الاٹ ہے ۔ پاکستان 24 کے مطابق سیکرٹری ہاؤسنگ نے بتایا کہ صحافی کو گھر خالی کرنے کا نوٹس دے رکھا ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ صالح ظافر کی اہلیہ کے نام الاٹمنٹ تھی، کیا صالح ظافر کی اہلیہ الاٹمنٹ کی اہل تھی، قانون کے مطابق کام کیوں نہیں کرتے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری گھر غیر قانونی طور رہنے والے پولیس افسران سے خالی کروائیں، دو سو کوارٹرز پولیس نے کیسے قبضہ میں لئے ہوئے ہیں ۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 543 گھروں پر غیر قانونی لوگ رہ رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کاروائی نہیں کرے گی تو مداوا کون کرے گا، جو اہل ہیں سرکاری مکان ان کو ملنا چاہیے ۔ اسلام آباد کے سربراہ نے کہا کہ
قانون سے کوئی بھی بالا تر نہیں ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت غیر قانونی طور قبضے میں رکھے گئے گھروں کو خالی کروانے کیلئے مہلت دے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ہفتے میں گھروں خالی کروایا جائے، مزاحمت پر پولیس حکام ہاؤسنگ اتھارٹی کی معاونت کریں ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کراچی میں سترہ مقدمات میں ہائیکورٹ نے حکم امتناعی دے رکھا ہے ۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کو سرکاری رہائش گاہوں کے مقدمات پر ایک ہفتے فیصلے کرنے کی ہدایت کی جبکہ کراچی میں غیر قانونی قابضین سے سرکاری گھروں کو تین ہفتوں میں خالی کروانے کا حکم دے دیا ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے