غلام عباس اور آفتاب اکبر بھی نااہل

اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے تین امیدواروں کو نااہل قرار دیا ہے جن میں تحریک انصاف کے امیدوار بھی شامل ہیں ۔ عدالت نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 64 چکوال سے سردار غلام عباس جبکہ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 23 چکوال سے تحریک انصاف کے امیدوار سردار آفتاب اکبر کی کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں خارج  کر دی ہیں ۔

سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی ۔ سردار غلام عباس نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، سردار عباس کی جانب سے ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے ۔

سردار غلام عباس نے کہا کہ اگر عدالت مجھے اجازت دے تو کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی ضرورت نہیں آپ وکیل نے بات کر لی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ پی پی 23پی ٹی آئی کے امیدوار سردار آ فتاب اکبر کا انکم ٹیکس میں ریکارڈ نہیں ۔ وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی آ مدن ٹیکس کے قابل نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو ٹیکس نہ دے ایسے لوگوں کو کیسے اجازت دے دیں ۔ وکیل نے کہا کہ زرعی ٹیکس ادا کیا گیا ہے، تمام جائیداد بھی کاغزات نامزدگی میں ظاہر ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کے بھاری اخراجات ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اچھے لوگ آ نے چاہئیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سردار آ فتاب نے بہت سی چیزیں چھپائیں، نہ زرعی آمدن بتائی نہ ہی گاڑیاں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سردار غلام عباس کے کیس کے بھی یہی حقائق ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے کہا کہ ان کے ذرائع آمدن ہی نہیں اس لئے ٹیکس نمبر نہیں لیا کیونکہ ٹیکس دینے کے اہل نہیں ہیں ۔ سپریم کورٹ نے سردار غلام عباس کی کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل خارج کر دی ۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے بلوچستان اسمبلی کے امیدوار علی مدد جتک کی اپیل بھی خارج کر دی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ علی مدد کی جعلی ڈگری پر الیکشن لڑنا ثابت ہو چکا ہے، سپریم کورٹ کا اپنا بھی ایک مؤقف ہے کہ نیٹ اور کلین لوگوں کو منتخب ہو کر آنا چاہئیے ۔

 

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے