پلیز آ جائیں، پلیز آ جائیں

سپریم کورٹ نے عطا الحق قاسمی کو پاکستان ٹیلی وژن کا چیئرمین لگا کر بھاری تنخواہ منظور کرنے پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو عدالت میں پیش ہونے کیلئے ایک اور نوٹس جاری کرتے ہوئے تین روز میں طلب کرلیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ عدالت سب کا احترام کرتی ہے عدالتی حکم کا بھی احترام ہونا چاہئیے، اسحٰق ڈار اتنے مغرور ہیں کہ عدالتی حکم کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سزا کے باوجود مریم اور نوازشریف واپس آرہے ہیں تو اسحاق ڈار کیوں نہیں آتے ۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ایم ڈی پی ٹی وی کی تعیناتی اور مراعات پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اسحاق ڈار آئے ہیں؟ ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسحاق ڈار عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اسحاق ڈار نہ آئے تو ان کا پاسپورٹ منسوخ کر دیں گے، اسحاق ڈار ملک کی اعلی ترین عدلیہ کی حکم عدولی کر رہے ہیں، ضرورت پڑی تو اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ بھی جاری کریں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ اعلیٰ ترین عدلیہ کا طلب کرنا مذاق کی بات نہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ سچ سچ بتائیں کس کے کہنے پ عطا الحق قاسمی کیلئے بھاری مراعات کی منظوری دی گئی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں اسحاق ڈار براہ راست ملوث تھے، اس کو کیسے واپس لائیں، کیا سپریم کورٹ اتنی غیر مؤثر ہوگئی ہے کہ ایک سابق وزیر خزانہ کو نہیں لایا جا سکتا، ان کی طرف سے کوئی وکیل بھی پیش نہیں ہوا۔ کیوں نہ ان کا پاسپورٹ منسوخ کر دیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سیکرٹری ڈاخلہ نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کو واپس لانے کیلئے نیب کے ذریعے پہلے ہی ایک مرحلہ جاری ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ کوئی غیرقانونی حکم جاری کر رہے ہیں، ہم ہر کسی کا احترام کرتے ہیں مگر ان کو بھی سپریم کورٹ کا احترام کرنا چاہیئے، نوٹس کے بعد بھی پیش نہ ہوئے، وکیل بھی نہیں کیا، توہین عدالت کی کارروائی بھی شروع کر سکتے ہیں، اب اس طرح عدالت کے حکم ک ساتھ کیا جائے گا؟ اسحق ڈار پہلے ہی مفرور قرار دیے جا چکے ہیں جس کیلئے قانون ہے کہ کوئی بھی پاکستان دیکھے تو متعلقہ حکام کو بتائے یا خود پکڑ کر حوالے کرے، بڑے لوگوں کے مقدمات میں کسی مفرور کو پکڑتا ہی کوئی نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا نگران حکومت کے دوران بھی وزارت داخلہ میں اسحاق ڈار کیلئے ہمدردی ہے، ہم نے قانون کے مطابق کہا کہ پلیز آ جائیں، پلیز آ جائیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے ۔ عدالت نے اپنے حکم میں لکھا کہ اسحاق ڈار کو ایک اور موقع دیا جاتا ہے کہ وہ تین دن میں پیش ہوں، وزارت داخلہ بتائے کہ اسحاق ڈار کی حاضری کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے؟ حکام اسحاق ڈار کی پاسپورٹ منسوخی کے حوالے سے بھی اپنی رائے سے آگاہ کریں ۔

 

متعلقہ مضامین