ڈیم فنڈز اکاؤنٹ پر چیف جسٹس برہم

چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھاشا اور مہمند ڈیم بنانے کے لئے قائم کئے گئے بنک اکاؤنٹ میں رقم نہ آنے کا ذمہ دار اسٹیٹ بنک اور اس میں کام کرنے والے ایک کلرک کو قرار دیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ سٹیٹ بنک کے ہمارے اکاؤنٹ کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے پر وضاحت دیں، پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اس بابو یہاں ضرور بلائیں جو کام نہیں ہونے دے رہا ۔

عدالت میں دیگر مقدمات کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے اچانک ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی سے پوچھا کہ حکومت نے آج اخبارات میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم بنانے کے لئے فنڈز قائم کرنے اور بنک اکاؤنٹ کا اشتہار کیوں دیا ہے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ یہ سب حکومت نے کیا جبکہ یہ سپریم کورٹ کا کام ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ آپ پر اعتماد نہیں کرتے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ڈان اور دی نیوز میں بھی یہ خبر ہے، یہ فنڈز تو سپریم کورٹ نے قائم کیا ہے پھر حکومت نے اشتہار کیوں دیا؟۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے کہا کہ آج صبح رجسٹرار کے دفتر سے فون آیا تھا اور اس بارے میں آپ کا پیغام مل گیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 1976 سے ہوا کچھ نہیں، حکومت اتنے عرصے میں ڈیم کیلئے کچھ کر لیتی، مجھے بہت زیادہ پیغامات آ رہے ہیں کہ ہمیں حکومت پر کوئی اعتبار نہیں، آپ پر اعتماد ہے، عدالت اپنے ڈیم فنڈز اکاؤنٹ کو فعال رکھے، پانچ ارب دینے کا پیغام بھی ملا، لوگ سات ارب روپے تک دینے کو تیار ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیکرٹری خزانہ کو بلائیں، بلکہ وزیر خزانہ کو بلائیں، کون ہے وزیر خزانہ؟ ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ شمشاد اختر وزیر خزانہ ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شمشاد بی بی کو بتا دیں کہ ان کا احترام ہے ان کو نہیں بلاتے مگر سٹیٹ بنک نے سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی، ہمارے اکاؤنٹ کا معاملہ تین دن سے پھنسایا ہوا ہے، لوگ پیسے لے کر بیٹھے ہوئے ہیں، چاہیئے تو یہ تھا کہ ان کو چومیں ۔ اٹارنی جنرل ابھی وزیراعظم سے بات کریں اور بتائیں ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے بھی ایک سو میسجز آئے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ آن لائن اکاؤنٹ کھولا جائے تاکہ باہر سے بھی پیسہ بھیجا جا سکے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے رجسٹرار کے پاس لوگ چیک لے کے آ رہے ہیں، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ چپل بیچ دیں گے، کپڑے بیچ دیں گے، بیچیں اور ڈیم فنڈز میں رقم دیں، لوگوں نے پہلے کیوں چپل نہ بیچے اس لئے کہ ان کو اعتماد نہیں تھا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ اکاؤنٹ سپریم کورٹ نے کھولا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں ہم نے کسی کو دھیلے کی کمیشن نہیں کھانے دینی، اس ڈیم فنڈ میں گھپلا نہیں ہونے دینا، ہم اس پر پہرہ دیں گے، مجھ سے بعد میں آنے والے چیف جسٹس اور سینئر ترین جج بھی اس کو جاری رکھیں گے ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میڈیا اگر اشتہار چلائے تو فائدہ ہوگا۔ سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ میڈیا کے مفت میں دو منٹ کے ڈیم فنڈز کیلئے اشتہار سے اس کو نقصان نہیں ہوگا ۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ڈیم فنڈز اکاؤنٹ کے راستے میں کھڑی رکاوٹوں کو ختم کرنے کیلئے اٹارنی جنرل سٹیٹ بنک کے حکام کو بلا کر اجلاس کریں اور اس بابو کو ضرور بلائیں جو کام نہیں ہونے دے رہا ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے