چار امیدوار نااہل قرار

سپریم کورٹ نے میٹرک پاس وکیل جاوید اختر کو الیکشن لڑنے کیلئے نااہل کر دیا ہے، عدالت نے چوہدری جاوید اختر کی اپیل خارج کر دی،جاوید اختر پاکپتن سے پنجاب اسمبلی کیلئے آزاد امیدوار تھے ۔

عدالت نے جاوید اختر کو جھوٹا بیان حلفی دینے پر ایک لاکھ جرمانہ کر کے فوجداری کارروائی کا حکم دے دیا اور کہا کہ جھوٹا بیان حلفی دینے پر سزا قانون میں موجود ہے ۔ عدالت کے پوچھنے پر جاوید اختر نے بتایا کہ اس نے ماسٹرز اور قانون کی ڈگری لے رکھی ہے مگر اس کی ڈگریوں کی فائل گم ہو گئی ہے جس کی وجہ اب خود کو میٹرک پاس لکھتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ وکالت بھی کرتے ہیں؟  جاوید اختر نے کہا کہ پاکپتن کچہری میں پریکٹس کرتا ہوں ۔

دریں اثنا بلوچستان کے حلقہ پی بی 09قلعہ عبداللہ سے آزاد امیدوار بہرام خان الیکشن سے باہر کر دیئے گئے، سپریم کورٹ نے بہرام خان کو الیکشن لڑنے سے روک دیا ہے ۔

بہرام خان کی نااہلی کا اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حاجی بہرام خان کو نیب سے سزا ہو چکی، اکیس سال کے لیے نااہل بھی ہوا تھا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے کہا کہ 2001میں سزا ہوئی لیکن بعد میں قانون تبدیل ہو گیا، حاجی بہرام کے خلاف چار ریفرنسز دائر ہوئے جن میں سے ایک میں سزا ہوئی، بعد میں سزا میں کمی ہو گئی،کمی کے بعد سزا تین سال قید اور 5لاکھ جرمانہ کردیا تھا ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کہتے ہیں نئے قانون کے تحت نااہلی دس سال ہے ۔ وکیل نے کہا کہ کیس آج تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیس زیر سماعت ہے تو پھر کیسے اجازت دے دیں ۔

این اے 146 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار زاہد حسین کی نااہلی کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی ۔مسلم لیگ ن امیدوار رانا زاہد الیکشن دوڑ سے باہر ہو گئے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دوہزار دو میں کہا کہ گریجویٹ ہوں، دوہزار چار میں کراچی ے ایف اے کا سپیلی میں امتحان دیا، کیا اپ نے تعلیم میں بھی ریورس گئیر لگایا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ ملزم کے خلاف فوجداری کی کاروائی کی جائے۔

وکیل اشتر اوصاف نے کہا کہ میرے موکل نے ڈھاکا سے ایف اے کیا ہے۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ کیا رانا زاہد سارے جہاں میں پھرتا رہا ہے،ایف اے ڈھاکا سے کیا، پھر کراچی سے، پھر پنجاب یونیورسٹی اور بلوچستان ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق بلوچستان کا رزلٹ کارڈ اورنگزیب ملنگی کا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جعلی ڈگری والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے۔

فیصل اباد حلقہ این اے 105 سے نااہلی کے خلاف رانا آصف توصیف کی درخواست پر سماعت ہوئی ہے ۔

رانا آصف توصیف نے اہلیہ کے اثاثے چھپائے، رانا آصف اپنی اہلیہ کے زیر کفالت ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن

رانا آصف کی اہلیہ کے خلاف بینکنگ کورٹ کا فیصلہ معطل ہو چکا ہے۔وکیل لطیف کھوسہ

کاغذات نامزدگی کی جمع کرانے کے بعد فیصلہ معطل ہوا۔۔جسٹس اعجاز الاحسن

ہائی کورٹ نے آپکے کاغذات نامزدگی پر سخت فیصلہ دیا ۔جسٹس اعجاز الاحسن

30 جون 2017 تک ڈیکلریشن دینا ضروری تھا۔لطیف کھوسہ

ہائی کورٹ نے تیس جون کی تاریخ کو دیکھا ہی نہیں۔وکیل لطیف کھوسہ

عدالت نے رانا آصف توصیف کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

کامیابی کی صورت میں نوٹیفیکشن عدالتی فیصلے سے مشروط ہو گا۔عدالت

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے