راؤ انوار کی ضمانت پر سخت ردعمل

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزم راؤ انوار کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ملزم راؤ انوار کے وکیل نے ضمانت کی درخواست پر دلائل دیئے ۔ ملزم معطل ایس ایس پی راؤ انوار کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا ۔

بعد ازاں ملزم کے وکیل عامر مرغوب نے بتایا کہ راؤ انوار کی ضمانت 10 لاکھ روپے کے عوض منظور کی گئی ۔ عدالت نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ 4 جولائی کو محفوظ کیا تھا ۔ راؤ انوار کی ضمانت کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ صحافیوں سمیت ملک کے اہم افراد نے اس ضمانت کے اس فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیا ہے ۔

اے این پی کے رہنما افراسیاب خٹک نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ‘راؤ انوار اور جنرل مشرف کے مقدموں میں ننگی بے انصافی کے بعد عدلیہ کے کٹھ پتلی ہونے میں ہر ایک شک دور ہو گیا ہے نام نہاد احتساب کا کھڑاگ محض ایک پارٹی کو عام انتخابات جتوانے اور دوسری کو ہروانے کے لئے رچایا گیا ہے ۔ اب انصاف صرف عوام کی عدالت میں ہوگا’ ۔

ٹی وی اینکر مرتضی سولنگی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ‘قوم کو ساڑھے چار سو افراد کے ماورائے قتل میں ملوث “بہادر بچے” راؤ انوار کی ضمانت پر رہائی مبارک ہو۔ انصاف کے ترازو میں قاتلوں اور آمروں کا پلڑا بھاری ہے۔

ہے اہلِ دل کیلئے اب یہ نظم بست و کشاد

کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد’

صحافی و اینکر مبشر زیدی نے انگریزی میں ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘نا انصافی، نقیب محسود قتل کیس میں راؤ انوار کو ضمانت مل گئی’۔

واضح رہے کہ 13 جنوری 2018 کو کراچی کے ضلع ملیر میں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 4 دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ ہلاک کئے گئے لوگ دہشتگرد نہیں بلکہ مختلف علاقوں سے اٹھائے گئے بے گناہ شہری تھے جنہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی شناخت نقیب اللہ کے نام سے ہوئی۔

سوشل میڈیا صارفین اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ از خود نوٹس کے بعد راؤ انوار روپوش ہوگئے اور اسلام آباد ایئر پورٹ سے دبئی فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن اسے ناکام بنادیا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے