طلال چودھری توہین عدالت فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور فیصل آباد سے قومی اسمبلی کیلئے امیدوار طلال چودھری کے خلاف توہین عدالت کے کیس کو مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔ عدالت نے فیصلہ سنانے کی تاریخ نہیں دی تاہم فیصلے والے دن طلال چودھری کو عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت کی ہے ۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے طلال چودھری کے خلاف توہین عدالت کے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ طلال چودھری کے وکیل کامران مرتضی نے اپنے دلائل میں کہا کہ کوئی ایسی چیز یا بات ثابت نہیں ہوئی جو توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہو، انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔

وکیل نے کہا کہ عدالت نے سعد رفیق اور نواز شریف کے خلاف درخواستیں خارج کیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق کامران مرتضی نے کہا کہ جن کے خلاف فیصلہ ہو وہ تو چیخیں ماریں گے، طاہر القادری اور عمران خان نے عدالت سے معافی نہیں مانگی ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ اتنے تحمل کے بعد لوگ باز نہیں ائے تو کیا کریں ۔ وکیل نے کہا کہ معاف کرنے سے عدالت چھوٹی نہیں ہو جائے گی، اظہار رائے کو بھی مدنظر رکھے، آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے ۔ جسٹس سردار طارق نے کہا کہ آرٹیکل انیس کا مطلب یہ نہیں کہ جو دل کرے بول دو، آزادی اظہار رائے اور گالیاں دینے میں فرق ہے ۔

کامران مرتضی نے کہا کہ طلال چوہدری پر عائد فرد جرم قانون کے مطابق نہیں، قانون کے خلاف جرم فرد جرم عائد ہو تو سزا نہیں ہو سکتی ۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ طلال چوہدری نے اپنے الفاظ عدالت میں تسلیم کیے ۔ کامران مرتضی نے کہا کہ جڑانوالہ جلسے میں طلال چوہدری کی تقریر سیاسی تھی، طلال چوہدری نے تقریر پر سپریم کورٹ کا نام نہیں لیا ۔ جسٹس سردار طارق نے کہا کہ سب سے پہلے اونچی عدالت سپریم کورٹ نہیں تو کونسی ہے؟۔ کامران مرتضی نے کہا کہ غلط بات وکلاء کے منہ سے بھی نکل جاتی ہے، طلال چوہدری کا عدلیہ کی توہین کرنے کا کوئی ادارہ نہیں تھا۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ طلال چوہدری نے ججز کو بت کہا، ہم بت کب سے ہو گئے۔ کامران مرتضی نے کہا کہ اسٹیج پ کھڑے ہو کر اکثر ہم بھی ایسی بات کر دیتے ہیں۔ جائز تنقید کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ طلال چوہدری نے کہا رحمت کی عزت کرتے ہیں۔ طلال چوہدری نے آمریت کی توثیق کرنے والوں کو بابا زحمت کہا ۔

کامران مرتضی نے کہا کہ تقریر میں کسی عدالت کا نام نہیں لیا گیا، پی سی او پر تنقید کی گئی، مجسٹریٹ درجہ تین کی عدالت بھی قابل احترام ہے ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کیا مجسٹریٹ نے پی سی او کی توثیق کی تھی، بلاوجہ کیس کو طوالت نہ دیں ۔

وکیل نے کہا کہ عدالت بڑی ہے اور درگزر سے کام لے، طلال چودھری کے جس بیان پر نوٹس لیا گیا وہ سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ طلال چودھری نے عدالت اور ججوں کے بارے میں وہ زبان استعمال نہیں کی جو فیصل رضا عابدی اور مولوی خادم رضوی بولتے ہیں اس کے باوجود عدالت نے ان لوگوں کیلئے تحمل کا مظاہرہ کیا، فیصل رضا عابدی نے عدالت کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا، ایک حضرت صاحب نے بھی عدلیہ کے بارے میں ریمارکس دیے، ہماری استدعا ہے کہ عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے ۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ پڑھے لکھے شخص پر زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے ۔

وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ فیض آباد والے مولوی کی تقریریں سن کر انسان کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے ۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ طلال چوہدری نے کبھی معافی نہیں مانگی، طلال چوہدری کا مقدمہ عدالتی تحمل کا ہے ۔

سرکاری وکیل استغاثہ عامر رحمان نے کہا کہ طلال چودھری نے ججوں کو پی سی او کے بت کہا جو عدالت میں بیٹھے ہیں اور ان کی سی ڈٰی سے یہ بات ثابت ہوئی ہے، طلال چودھری نے عدالت میں پیش کئے مواد پر کبھی اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی کسی مرحلے پر معافی مانگی، آرٹیکل 176 کے تحات چیف جسٹس اور عدالت عظمی کے ججز عدالت ہیں ۔

عدالت نے وکیلوں کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

متعلقہ مضامین