کیا نواز شریف کا بیانیہ بک رہا ہے

مصطفی بیگ/ ناقابل تردید

سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار کے ایوانوں سے تین مرتبہ زبردستی نکالے جانے والے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا تیسری بار نکالے جانے کے بعد اختیار کیا جانے والا بیانیہ عوام میں بک رہا ہے یا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ میاں نواز شریف چند نعروں کے ذریعے جو کچھ عوام کو بتانا چاہ رہے ہیں، کیا عوام اُس پیغام کو اُس کی حقیقی روح کے عین مطابق سمجھ اور سمجھنے کے بعد ذہنی طور پر قبول بھی کررہے ہیں یا نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ عوام نے اگر میاں نواز شریف کا بیانیہ قبول کرلیا ہے تو پھر آنے والے دنوں میں پاکستان میں سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا؟ لیکن اُس سے بھی بہت پہلے سوال تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف نے جو بیانیہ اختیار کیا ہے، کیا پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں یہ بیانیہ پہلی بار سامنے آرہا ہے؟ سات دہائیوں پر محیط پاکستانی سیاست کے اتار چڑھاؤ میں کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بیانیہ اختیار نہیں کیا؟ تو آخری سوال کا جواب تو یہی ہے کہ ایسا ہرگز نہیں۔ یہ بیانیہ اختیار کرنے والے میاں نواز شریف کوئی پہلے سیاستدان نہیں!نواز شریف سے پہلے بھی یہ بیانیہ اپنایا جاچکا ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ پورے شدومد سے اپنا یاجاچکا ہے، لیکن اُس بیانیے کے ملکی سیاست اور جغرافیے پر اثرات کسی بھی لحاظ سے اچھے مرتب نہ ہوسکے!

چٹاگانگ کے چوراہے میں کھڑے ہوکر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن نے مجمع سے پوچھا” بنگالیو! مغربی پاکستان میں وفاقی درالحکومت کے نام سے جو نیا شہر بسایا گیا ہے، کیا تمہیں معلوم ہے کہ اُس کی سڑکوں میں سے کس چیز کی خوشبو آتی ہے؟“ اس سوال کے جواب میں لنگی بنیان پہنے بنگالی ہونکوں دیکھتے رہ گئے ۔ شیخ پھر دھاڑا،”مجھے اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی ہے، مجھے وفاقی دارالحکومت کی چوڑی چکلی شاہراہوں سے بنگالیوں کی محنت اور خون پسینے کی مہک آتی ہے“ ۔ اگلے روز اخبارات میں شیخ مجیب الرحمن کا یہ بیان چھپا تو اُس کا خوب تمسخر اُڑایا گیا، مخالفین نے بیان بازی میں بھانڈوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، اداریہ نویسوں نے اِس بیان کو ایک قومی رہنماءکے شایان شان قرار دینے سے انکار کردیا، کالم نگاروں نے شیخ مجیب کو ناک کا علاج کرنے کا مشورہ دے دیا، سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے حالات حاضرہ کے پروگراموں میں خود ساختہ تجزیہ کاروں نے اِس بیان کے خوب لتے لیے۔ لیکن دوسری جانب حقیقت اِس سے یکسر مختلف ثابت ہورہی تھی، بنگالی شیخ مجیب الرحمن کے اِس بیان پر کچھ اس طرح سے ایمان لے آئے کہ مجیب الرحمن کے بولے ہوئے بظاہر بے ضرر اور ایک عام سا دکھائی دینے والے جملے کو بنگالیوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور جلد ہی یہ بیان ہر بنگالی کے دل میں جگہ بناکر اُن کا اپنا بیانیہ بن گیا۔ ایک سال بعد 1970میں عام انتخابات ہوئے تو یہ بیانیہ ایسا بکاکہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے کھمبوں کو بھی ووٹ پڑگئے!انتخابات میں بڑے بڑے برج الٹ گئے اور عامیوں نے خاصوں کو ناکوں چنے چبوادیے ۔ مجیب الرحمن کا بیانیہ پاکستانی تاریخ میں دراصل پہلا موقع تھا، جب کسی نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تھا، شیخ مجیب الرحمن نے یہ نعرہ مغربی پاکستان کے 48فیصد کے مقابلے میں 52 فیصد ہونے کا دعویدار بن کر لگایا۔عوامی لیگ کے مقابلے میں نصف سے بھی کم نشستیں حاصل کرپانے والے ذوالفقار علی بھٹو ووٹ کی تکریم کے راستے میں پہلی رکاوٹ ثابت ہوئے ۔ یحییٰ خان نے اسمبلی کا اجلاس بلایا تو بھٹو نے اِس اجلاس میں شرکت کیلئے ڈھاکہ جانے والے ارکان کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکی دے دی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپنی بساط بچھادی، لیکن شیخ مجیب کے بیانیے نے بھٹو کی ساری بساط ہی اُلٹ دی، باقی تو سب تاریخ ہے۔
میاں نواز شریف اور مخالفین دونوں کی جانب سے یہی کہا جارہا ہے کہ یہ اب ستر کی دہائی نہیں۔ یقینا یہ ستر کی دہائی نہیں، لیکن بیانیہ تو انیس تو ستر میں بھی بکا اور اُس وقت بکا ، جب متنوع نظریات اور اپنا اپنا ایجنڈا رکھنے والے میڈیا گروپ تھے نہ ہی سینکڑوں نجی ٹی وئی چینلز کی چکاچوند کوریج تھی، انٹرنیٹ کے ذریعے سماجی رابطوں کی سہولت تھی نہ ہی مشروم کی طرح پھیلی ویب سائیٹس تھیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام، پنٹرسٹ، یو ٹیوب، وٹس ایپ، ویب چیٹ، کیو زون، ٹمبلر، اسکائپ، سینا ویبو، وائبر، لائن اور ریڈ اِٹ سمیت سوشل میڈیا کی سینکڑوں اشکال کا کہیں دور دور تک تصور بھی نہ تھا، لیکن اِس کے باوجود مجیب کا بیانیہ اس طرح پھیلا جیسے جنگل میں آگ پھیلتی ہے۔ نواز شریف کے بیانیے کو ہلکا لینے والوں کو سمجھ ہی نہیں کہ اب تو ابلاغ میں معاون یہ جدید سہولیات بھی میسر ہیں۔ اخبارات کو سنسر کرلیں توٹی وی چینلز کو چوبیس گھنٹے کوریج سے روکنا مشکل ہوجاتا ہے، کیبلز آپریٹرز کو استعمال کرکے ٹی وی چینلز کو مطیع کرلیا جائے تو سوشل میڈیا قابو سے باہر ہوجاتا ہے۔ جیمر لگاکر فون سروس بندش سے انٹرنیٹ کوبھی بے بس کردیا جائے تو بھی سیٹیلائٹ کی ایسی سہولت دستیاب رہتی ہے، جو تمام سنسرشپ کا توڑ ثابت ہوتی ہے، ایسے میں ابلاغ کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوجاتا ہے، لیکن بات پھر وہی ہے کہ کوئی بات جب بیانیے میں ڈھل جائے تو وہ ایسی آگ بن جاتی ہے جو جدید ابلاغی ٹولز کی محتاج نہیں رہتی!

اب سوال یہ ہے کہ کیا ”ووٹ کو عزت دو“ کا میاں نواز شریف کا حالیہ بیانیہ بھی بک رہا ہے یا نہیں؟ تو مجھے خدشہ ہے کہ شیخ مجیب الرحمن کے بعد ووٹ کو عزت دو کا میاں نواز شریف کا بیانیہ بھی بک رہا ہے! مجھے خدشہ ہے کہ سول بالادستی کا میاں نواز شریف کا بیانیہ بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جارہا ہے! ”مجھے اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی ہے“ جیسے بظاہر بے سروپا جملے کی طرح ”مجھے کیوں نکالا؟“ کا تین لفظی جملہ بھی بظاہر بے ڈھنگا سا جملہ معلوم ہوتا ہے، اور گزشتہ ایک سال کے دوران میڈیا میں اس جملے کا تمسخر بھی خوب اُڑایا گیا لیکن اس جملے نے پاکستانی سیاست کا سارا کچا چٹھا ایک بار پھر کھول کر رکھ دیا ہے۔ میاں نواز شریف نے انتہائی سادگی لیکن کمال مہارت سے لوگوں کو یہ باور کرادیا ہے کہ جمہوری حکومتوں کو زور زبردستی کے ساتھ الٹنے کے مکروہ کھیل کو اگر روکا نہ گیا تو یہ کھیل یونہی چلتا رہے گا اور ووٹ کی کوئی عزت نہیں رہے گی۔میاں نواز شریف کو سادہ لوح سیاستدان سمجھنے والے بقراطوں کو پتہ ہی نہیں چل سکا کہ کب سابق وزیراعظم بڑی چالاکی سے خود تو درمیان سے نکل گئے لیکن اپنے خلاف صف آرا قوتوں کو لوگوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے؟ لیکن حقیقت تو یہ بھی ہے کہ جب جب اِس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو یہ ملک کیلئے کچھ اچھا شگون ثابت نہیں ہوتی۔

متعلقہ مضامین