ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر

سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی قید کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کردی ہیں ۔

 اپیل دائر کرنے کا آج آخری دن تھا، قانون کے مطابق سزا سنائے جانے کے دس دن کے اندر اپیل دائر کرنا ضروری ہے ۔ اپیلیں سزا یافتہ افراد کے وکلا خواجہ حارث اور امجد پرویز نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کیں ۔ اپیلوں میں کہا گیا ہے احتساب عدالت نے انصاف کے تقاضے سے پورے نہیں کیے اور یہ فیصلہ عجلت میں دیا گیا ہے ۔

اپیل کے مطابق احتساب عدالت میں سماعت کے دوران استغاثہ کی طرف سے ایسے کوئی بھی شواہد پیش نہیں کیے گئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ ایون فیلڈ کی فلیٹس نواز شریف کی ملکیت ہیں ۔ سابق وزیراعظم کی اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ استغاثہ کی طرف سے کوئی گواہ بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جو اس بات کی تصدیق کرسکے کہ لندن فلیٹس نواز شریف کی ملکیت ہیں ۔

نواز شریف کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے اعتراف کیا تھا کہ دوسرے ملکوں سے کی گئی باہمی قانونی مشاورت کا کوئی جواب نہیں ملا اور جے آئی ٹی نے سربراہ نے مفروضوں پر بات کی جسے عدالت نے تسلیم کرلیا ۔

الگ سے دائر کی گئی مریم نواز کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ کیلبری فونٹ کے بارے میں غیر ملکی سرکاری گواہ نے بھی تسلیم کیا کہ یہ کیلبری فونٹ سنہ 2005 میں بھی دستیاب تھا لیکن احتساب عدالت کے فیصلے میں اس بات کو نظرانداز کر دیا گیا ۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ آئین کہ آرٹیکل 10 اے میں کسی بھی ملزم کو فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہوتا ہے جس سے مجھے محروم رکھا گیا ۔

اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ محض مفروضوں کی بنیاد پر سزا سنائی گئی ہے ۔ اپیلوں میں نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ احتساب عدالت نے فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ استغاثہ کرپشن کے شواہد فراہم نہیں کر سکتی ۔ تو ایسے حالات میں مفروضوں کے بنیاد پر سزا کیسے سنائی جا سکتی ہے۔ لہٰذا یہ عدالت احتساب عدالت کے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے۔

احتساب عدالت نے نواز شریف کو دو مختلف شیڈول کے تحت دس برس اور ایک برس، مریم نواز کو سات برس اور ایک برس جبکہ ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ایک برس قید بامشقت کی سزا سنائی تھی ۔

اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف جو دیگر دو یفرنس ہیں ان کی سماعت کوئی دوسرا جج کرے کیونکہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر پہلے ہی ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ دے چکے ہیں اس لیے دیگر دو ریفرنس میں ان کا غیر جانبدارانہ ہونا ممکن نہیں ۔

اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ نگراں حکومت کی طرف سے العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شب انوسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے سے متعلق نگراں حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے اور ان ریفرنسز کی سماعت نیب کورٹ میں ہی کرنے کا حکم دیا جائے ۔

متعلقہ مضامین