فوج سیاست میں مداخلت کیوں کرتی ہے؟

محمد اشفاق

اس سوال کا جواب جاننے کیلئے سب سے پہلے آپ کو پاکستانی معیشت کی ایک صاف دکھائی دیتی مگر کم بیان کی جانے والی حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔
فوج پاکستانی معیشت میں سب سے زیادہ ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کرنے والا ادارہ ہے۔ اس کا انویسٹمنٹ پورٹ فولیو بہت متنوع اور بہت بھاری ہے۔ آرمی ویلفئیر ٹرسٹ اور فوجی فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے اداروں کا مجموعی معاشی حجم کم سے کم اندازوں کے مطابق بھی بیس سے پچیس ارب ڈالرز ہے۔ یہ انویسٹمنٹ پاک فوج کو وفاقی حکومت کے علاوہ اور اس کے بعد، پاکستانی معیشت میں سب سے بڑا سٹیک ہولڈر بنا دیتی ہے۔ دفاعی صنعت و پیداوار اس کے علاوہ ہے، جس پر فوج کا کلی کنٹرول ہے۔ فوج کا معیشت میں اتنا سٹیک ہونا چاہئے تھا یا نہیں، لیکن ہے اور رہے گا۔

دوسرا سب سے بڑا سٹیک ہولڈر ہونے کا مطلب یہ کہ حکومت وقت کی اختیارکردہ تمام معاشی پالیسیوں کے نتائج کا فوج کی معاشی پوزیشن پہ بہت اثر پڑتا ہے۔ سٹیٹ بینک کے نوٹیفکیشن، ایف بی آر کے ایس آر اوز اور وزارت خزانہ کی پالیسیوں سے کسی بھی کاروباری گروپ کے مقابلے میں فوج زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اس لئے بطور ادارہ فوج کا مفاد اسی میں ہے کہ معاشی پالیسیاں اس کی مرضی یا مشاورت سے طے پائیں یا اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کے نقصان دہ نتائج سے فوج کو محفوظ رکھا جائے گا۔

بطور ادارہ فوج کی بنیادی ذمہ داری ملک کا دفاع ہے۔ ہماری فوج کارگل کے بعد سے یہ ذمہ داری بہت کامیابی سے ادا کرتی چلی آ رہی ہے- چونکہ کارگل کے کچھ ہی عرصے بعد فوج نے حکومت خود سنبھال لی تھی اور تمام دفاعی، خارجہ، داخلی اور معاشی پالیسیوں کی خالق فوج خود تھی اس لئے 12 اکتوبر 1999 سے 2007 تک کے عرصے میں جو کامیابیاں ملک کو ملیں ان کا کریڈٹ فوج کو جاتا ہے- اس عرصے کی ناکامیوں کی ذمہ داری بھی فوج ہی پہ عائد ہوتی ہے۔ مگر فوج 2007 کے بعد بھی انہی پالیسیوں کا تسلسل چاہتی تھی اور یہ بھی کہ ان میں کوئی تبدیلی بھی وہ خود کرے یا اس کی مرضی سے کی جائے۔

گزشتہ دس برس کے پہلے پانچ برس پیپلز پارٹی کا وطیرہ یہ رہا کہ پالیسیوں میں کسی سنجیدہ، بامعنی تبدیلی کی کوئی ایک آدھ کوشش اتفاقاً ہو گئی اور ناکام رہی تو دوبارہ کوشش ہی نہیں کی گئی۔ البتہ فوج کی پالیسیوں میں رخنہ اندازی ضرور کی گئی خصوصاً امریکا سے تعلقات کے ضمن میں۔ سیاسی حکومت خود کو فوج سے بھی بڑی امریکا کی وفادار ثابت کرنے کے چکر میں لگی رہی، یہ فوج کو گوارا نہ تھا کہ ان سے بڑا نمک حلال کسی اور کو سمجھا جائے، اس لئے مار کھا کر اور پسپا ہو کر پیپلز پارٹی نے اپنی پوری توجہ کمانے اور کھانے پہ مرکوز کر دی۔ اس دوران پی پی کے لیڈروں کے اندر کا جیالا کبھی کبھی جوش مار کر باہر نکل آتا رہا مگر حالات سازگار نہ دیکھ کر دبک جاتا رہا۔ زرداری سے بس اتنی ہی مزاحمت ہو سکتی تھی اور ہے۔

2013 کے انتخابات میں نون لیگ کی کامیابی کے بعد اور جنرل کیانی سے فوجی کمان جنرل راحیل شریف کے ہاتھ میں جانے کے بعد سول ملٹری تعلقات میں وہ تناؤ بڑھنا شروع ہوا جس کے نتیجے میں آج نواز شریف اڈیالہ جیل پائے جاتے ہیں۔ جنرل کیانی جرنیل کم اور جاسوس زیادہ تھے۔ ان کے دور میں عوامی حکومت کے خلاف جو سازشیں ہوئیں ان کا مقصد حکومت کو مسلسل بیک فٹ پہ رکھنا تھا۔ جبکہ جنرل راحیل شریف نے پہلے دن سے یہ بھانپ لیا کہ نواز شریف کو اگر سپیس ملی تو وہ پالیسی سازی کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔ جنرل مشرف اور راحیل شریف کے ذاتی تعلقات بھی ایک وجہ بنے۔ جیسے ہی سویلین حکومت نے مشرف کے ٹرائل کی کوشش شروع کی جنرل راحیل کھل کر میدان میں اتر آئے۔ عمران خان خفیہ ایجنسی کی پیداوار ہیں۔ ان کی قسمت میں صرف استعمال ہونا لکھا ہے، استعمال ہوئے اور ایک سو چھبیس دن اسلام آباد کے قلب میں ناچ گانے کی محفل سجا کر بیٹھے رہے۔

میاں صاحب نے ان حالات کا مقابلہ پی پی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر انداز میں کیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو اپنی ڈھال بنایا۔ اپنے معاشی اور ترقیاتی پیکج پہ عملدرامد یقینی بنایا، سی پیک لے کر آئے۔ فوج کی ایک فرمایش یہ بھی تھی کہ سی پیک پہ عملدرامد فوج کی براہ راست نگرانی میں دے دیا جائے، نواز شریف نے انکار کر دیا تو سکیورٹی کی زمہ داری خود اعلان کر کے حاصل کر لی گئی اور اس بہانے اضافی فنڈز بھی۔

نواز شریف نے بھارت، افغانستان اور امریکا سے تعلقات بہتر بنانے کی بھی سنجیدہ اور ٹھوس کوششیں کیں۔ خطے کی بدقسمتی کہ نریندر مودی نے نواز شریف کی مخلصانہ کوششوں کا مثبت یا ٹھوس جواب نہ دیا، جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جیسے ہی کوئی مثبت بیان سامنے آیا، بارڈر پہ فائرنگ شروع ہو گئی یا کشمیر میں کوئی بڑی کاروائی۔ اشرف غنی اور نواز شریف افغانستان کے متعلق پاکستانی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کے حق میں تھے، دونوں طرف کی قیادت کو دونوں طرف کی خفیہ ایجنسیوں نے شرمندہ اور مایوس کیا۔ امریکا نے پیپلز پارٹی کے دور میں جان لیا تھا کہ سول حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کا مطلب پاکستانی جرنیلوں کے ساتھ تعلقات بگاڑنا ہے ۔ پاکستان اور امریکا کے معاملات پینٹاگون اور جی ایچ کیو کے مابین ہی طے پاتے رہے ۔ یوں نواز شریف کی خارجہ اور دفاعی معاملات میں تمام تر پیشرفت ناکام رہی یا ناکام بنا دی گئی۔

جنرل راحیل شریف میں پیشہ ورانہ مہارت سے ہٹ کر کوئی بھی خوبی نہ تھی۔ بالکل چیف جسٹس جیسا سطحی پن اور ذاتی شہرت کی تمنا ان میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ حضرت ایک ادھورے، مشکوک داخلی سطح کے سکیورٹی آپریشن کی بنیاد پر فیلڈ مارشل بننے کے بھی خواہاں تھے ۔ بظاہر وہ عزت سے گئے مگر جاتے جاتے انہیں یہ احساس ہو گیا کہ باس آخر باس ہی ہوتا ہے ۔ جاتے جاتے وہ نواز شریف کے راستے میں کچھ ایسی بارودی سرنگیں بچھا گئے تھے جن پر پاؤں پڑنے کا مطلب تباہی ہوتا ۔ گزشتہ سال سوا سال میں جو کچھ ملک میں ہوا اور ہو رہا ہے، یہ راحیل شریف کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ اس میں موجودہ چیف کا کیا کردار ہے، انہیں کیا چیلنجز درپیش ہیں اور وہ ان سے نبٹنے کی کتنی اہلیت رکھتے ہیں، یہ سب اگلی قسط میں۔

یہ مضمون محمد اشفاق کی فیس بک سے ان کی اجازت سے حاصل کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے