انتخاب اور قتل عام

جی نہ چاہے تو مزید پڑھنے کی زحمت سے بچیں کیونکہ دو روز کے وقفے کے بعد جو کالم لکھنے جارہا ہوں اس میں نواز شریف اور ان کی دختر کی لاہور آمد کا تفصیلی ذکر نہیں ہوگا۔ ان کی آمد کے بعد جو ہوا ویسے بھی میری توقع کے عین مطابق تھا۔
شہباز شریف صاحب اپنے Electables کے ساتھ ایئرپورٹ نہ پہنچ پائے۔ شو اگرچہ مناسب رچالیا۔ ہوش مگر جوش پر حاوی رہاکیونکہ 25 جولائی کو یوم انتخاب ہے۔
قومی اسمبلی کے ہر حلقے میں اوسطاََ 300کے قریب پولنگ اسٹیشن ہوتے ہیں۔شہباز شریف اور ان کے تجربہ کار Electables کو اپنی جیت یقینی بنانے کے لئے ہر پولنگ اسٹیشن پر پہرہ دینے کے لئے ایجنٹس کی ضرورت ہے۔ان پولنگ اسٹیشنز کے باہر کم از کم 5سے 10ایسے ”رضا کاروں“ کی ضرورت بھی ہے جو تمبو لگاکر بیٹھیں۔ نون کے امیدواروں کو ووٹ دینے کے خواہاں افراد کے ووٹ نمبر تلاش کرکے پرچیاں کاٹیں تاکہ ان ووٹروں کو بیلٹ بکس تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ 100کے قریب ایسے وفاداروںکی بھی ضرورت ہوگی جو متوقع ووٹروں کو گاڑیوں میں لاد کر پولنگ اسٹیشنوں تک لائیں۔ بہت محتاط ہوکر بھی لہذا حساب لگایا جائے تو انتخاب کے روز مسلم لیگ نون کے ہر امیدوار کو اپنی نشست جیتنے کے لئے کم از کم ایک ہزار ساتھیوں/کارکنوں یا کارندوں کی متحرک اور تھوڑی جارحانہ مدد درکار ہے۔
کوئی Electable اپنے متوقع سہولت کاروں کو 13جولائی کے دن لاہور لاکر ‘پلس مقابلوں’ میں جھونکنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا ۔ نواز شریف کے چاہنے والوں کی ایک معقول تعداد مگر لاہور کے مختلف مقامات پر جمع ہوگئی۔ اسلام آباد اپنے گھر بیٹھا ان کی تعداد اور Impactکا مگر میں اندازہ نہیں لگاپایا۔
ہمیں 24/7باخبر رکھنے کے دعوے دار میڈیا کی آزادی اور بے باکی کو اس روز ”زکام شکام“ ہوگیا تھا۔ ویسے بھی ٹھوس معلومات فراہم کرنے کے مقابلے پر ترجیح تجزیے کو دی گئی اور ٹی وی سکرین پر ”تجزیہ“ ہو تو Balanceبرقرار رکھنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ”احتساب عدالت سے سزا پانے والے مجرم“ والا پہلو یاد دلاتے ہوئے لہذا Balanceبرقرار رکھا گیا۔
ہفتے کے آخری تین دن میں عادتاََ ریگولر اور سوشل میڈیا سے پرہیز کرتا ہوں۔ صحافی ہونے کے دعوے دار شخص کے لئے نواز شریف کی آمد کے روز یہ دوری برقرار رکھنا ممکن نہیں تھی۔ ریموٹ دباکر وقفے وقفے سے چیک کرتا رہا اور پھر جمائیاں لیتا گھر سے باہر نکل گیا۔ میرے جانوروں کو برسات میں حملہ آور ہوئے چیچڑوں سے بچانے کے لئے ٹیکے لگوانے کی ضرورت تھی۔ ڈاکٹر کو ڈھونڈ کر یہ فریضہ نبھایا اور مطمئن ہوگیا۔
نواز شریف اور ان کی دخترکی لاہور آمد سے کہیں زیادہ پریشان مجھے اس روز مستونگ میں ہوئے قتل عام نے کیا ہے ۔میں اسے ”سانحہ“ نہیں کہہ سکتا۔ یہ قتل عام تھا جس نے وادی¿ مستونگ کے ایک چھوٹے قصبے کے تقریباََ ہر مکین کو کم از کم ایک بہت ہی پیارے عزیز سے محروم کر دیا ہوگا۔ ہمیں ہر پل کی خبر دینے کا دعوے دار میڈیا ان کے اجتماعی دُکھ کوبھی مناسب انداز میں دکھانے میں ناکام رہا۔
ہارون بلور کی دل دہلادینے والی موت نے ذہن کو پہلے ہی سے ماﺅف کررکھا ہے۔ کئی بار اکیلے بیٹھے خیال آتا ہے کہ بلوچستان میں ایک روایت ”حال“ دینے کی بھی ہے۔بلوچ ایک دوسرے سے ٹویٹر یا فیس بک سے رابطہ استوار نہیں کرتے۔ برسوں کے بعدبھی ملیں تو اپنی آخری ملاقات کے بعد سے اب تک ہوئے اہم واقعات کو بہت تفصیل سے جزئیات سمیت بیان کرتے ہیں۔ مستونگ کے درینگاہ نامی قصبے کے مکین جمعے کے روز ہوئے قتل عام کوآنے والے کئی برسوں تک ”حال دے“ کی روایت کے تحت بھول نہیں پائیں گے۔
کاش میں جان سکتا کہ درینگاہ کے مکینوں کا جمعے کے روز ہوئے قتل عام کے بارے میں کیا بیانیہ ہے۔ اس بیانیے کو جانے بغیر ٹی وی سکرینوں پراس وحشت ناک واردات کے بارے میں جو کچھ کہا جارہا ہے محض Point Scoringہے۔ Blame Passing ہے۔
سراج رئیسانی کو ”شہید“ کہہ دینے سے بات نہیں بنے گی۔ یہ بات درست کہ وہ حسین جوان بھارتی پرچم کو پاﺅں تلے روندتے ہوئے چھاتی پھلا کر پاکستان سے اپنی محبت کا والہانہ اظہار کرتا تھا۔ اس نے پاکستان کا طویل ترین پرچم لہرا کر بھی ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔ پاکستان سے اس کی جنونی محبت نے یقینا وطن عزیز کے دشمنوں کو وحشیانہ اشتعال دلایا ہوگا۔ اس کی درینگاہ آمد کی وجہ سے خونخوار ہوئے قاتلوں کا نشانہ مگرسراج رئیسانی کی ذات ہی نہیں تھی۔ درینگاہ کے کم از کم 200گھرانوں کو اس کے استقبال کی سزا دی گئی ہے۔ اپنی اجتماعی سزا کو درینگاہ کے باسی آنے والی کئی نسلوں تک کیسے بیان کریں گے اسے جاننا ضروری ہے۔
ہفتے کی شام اتفاق سے ٹی وی کھولا تو ایک پروگرام میں بیٹھے دانشور مجھے یہ بتارہے تھے کہ مستونگ میں قتل عام اس وجہ سے نہ رک پایا کیونکہ گزشتہ دس سال سے جمہوریت کے نام پر حکمرانی کرنے والی سیاسی قیادت کرپٹ تھی۔اس نے بلوچستان کے لئے مختص خطیر رقوم کو پولیس کی تربیت کے لئے استعمال نہیں کیا۔ میرٹ پر بھرتی ہوئی اعلیٰ تربیت یافتہ پولیس میسر ہوتی تو مستونگ پر یہ قیامت برپا نہ ہوپاتی۔
کاش میں ان دانشوروں کو یاد دلاسکتا کہ انگریز نے مقبوضہ ہندوستان کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس کا انتہائی رشک آمیز نظام قائم کیا تھا۔ بلوچستان پہنچ کر مگر وہ بھی بکری ہوگیا تھا۔ برطانوی استعمار کا ایک افسر تھا نام تھا جس کا سنڈیمن۔ یہ سنڈیمن ڈیرہ غازی خان کا کمشنر ہوا تو سندھ حکومت کے ساتھ طویل خط وکتابت اور بحث مباحثے کے بعد ”بلوچستان ٹھیک کرنے“ کی ذمہ داری اپنے سر لی۔ اسی سنڈیمن کی بدولت ایک ”معاہدہ مستونگ“ بھی ہوا تھا۔ اس معاہدے نے بلوچستان کو جو انتظامی بندوبست دیا ہماری آزادی کے 70برس گزرجانے کے باوجود بھی قائم ودائم ہے۔ اسے بدلنے کا تردد ہی نہ ہوا۔
سنڈیمن بلوچستان کو فقط افغانستان تک پہنچنے کا ایک راستہ سمجھتا تھا۔”راہ داری“ میں امن وامان کو یقینی بنانے کے لئے اس نے پولیس کے بجائے لیویز متعارف کروائیں۔ ان لیویز کو مقامی سردار بھرتی کرتے اور یہ سردار ”رعایا“ کو اپنی روایات کے مطابق قابو میں رکھنے کو مکمل اختیار کے حامل تھے۔ برطانوی سرکار نے ان کی روایات اور رسم ورواج کے ”احترام“ کا وعدہ کیا۔
استعمار نے ”سنڈیمن فارمولہ“ افغانستان کے حوالے سے جاری Great Game میں اپنی Edge برقرار رکھنے کے لئے متعارف کروایا تھا۔برطانیہ تو1947 میں اس خطے سے چلاگیا۔ افغانستان میں Great Gameمگر اب بھی جاری ہے۔اس Gameکے ہوتے ہوئے مستونگ میں وہی کچھ ہوتا رہے گا جو گزشتہ جمعے کے روز ہوا۔ سچ نہیں بول سکتے توخدارا Spin Doctoring تو نہ کریں۔ درینگاہ کے 200 گھرانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے کم از کم دُکھ بھری خاموشی ہی اختیار کر لیں۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین