فوج مداخلت کیوں کرتی ہے؟

دوسری قسط

ہمارے ہاں موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کی کارکردگی کے تنقیدی جائزے کا کوئی تصور نہیں۔ ہمارا ہر سپہ سالار جب تک وردی میں رہے، صلاح الدین ایوبی ہوتا ہے۔

موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے والد بھی لیفٹننٹ کرنل تھے اور دوران ملازمت وفات پائی تھی۔ بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اسی یونٹ سے کیا، ان کے والد جس کے کبھی کمانڈنگ آفیسر تھے۔

میاں نواز شریف نے ان کا تقرر چند ٹھوس وجوہات کی بناء پر کیا تھا۔ جنرل قمر کی شہرت ایک غیرسیاسی ذہن رکھنے والے خالص فوجی کی تھی۔ دوران ملازمت وہ تین مرتبہ ٹین کور میں رہے، آزاد کشمیر سیکٹر جس کی براہ راست نگرانی میں ہوتا ہے۔ پاک بھارت سرحدوں کی نازک صورتحال کی وہ فرسٹ ہینڈ نالج رکھتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اس اینٹی انڈین ذہنیت سے دور ہیں جسے عام طور پر فوجی افسران سے منسوب کیا جاتا ہے۔ امن فوج کی ذمہ داریوں کے سلسلے میں بھارتی فوج کے جرنیل کے ساتھ بھی کام کا تجربہ انہیں حاصل ہے۔ ناردرن ایریاز کی کمانڈ بھی کرچکے۔ لائق اور بردبار افسر اور جمہوریت کا پرجوش حامی ہونے کی شہرت رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر لو پروفائل میں رہنے کے عادی ہیں۔ جنرل راحیل شریف جیسے میڈیا ڈارلنگ چیف کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ جیسے کسی توجہ کا طالب نہ ہونے والے چیف کی نواز شریف کو اشد ضرورت تھی۔

ڈان لیکس کا کٹا راحیل شریف کے دور ہی سے کھلا ہوا تھا۔ جنرل قمر کے تقرر کے بعد نون لیگی میڈیا ٹیم سے ایسی حماقت سرزد ہوئی جو بعد میں نون لیگ حکومت کے گلے پڑ گئی۔ جنرل قمر روٹین اور پروٹوکول کے مطابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملنے تشریف لائے۔ اس موقع کی تصاویر میڈیا میں جاری ہوئیں اور پھر انہیں مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم لے اڑی۔

یہ جو See, who is the boss here قسم کی کیمپین ان تصاویر کے بعد نون لیگی پیڈ سوشل میڈیا ٹیم نے چلائی، یہ بدترین حماقت تھی۔ میاں صاحب یہ بھول گئے کہ جسے اپنے باس ہونے کا اعلان کرنا پڑے، وہ باس کہلانے لائق نہیں ہوتا۔ انہیں یہ احساس تک نہ ہوا کہ اس چھوٹی سی حماقت سے انہوں نے نئے مقرر ہوئے آرمی چیف پر کتنا دباؤ ڈال دیا ہے۔

جمہوریت پسندی، غیرسیاسی ہونا، جارحانہ عزائم نہ رکھنا، لو پروفائل میں رہنا یہ سب سویلین وزیراعظم کے نزدیک خوبیاں ہو سکتی تھیں، چیف کے اپنے ادارے میں شاید ان خوبیوں کو بہت زیادہ سراہا نہیں جاتا۔ پھر جس طرح ان تصاویر کو لے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اب وہ چیف آیا ہے جو راحیل شریف جیسا نہیں ہے جبکہ فوج راحیل شریف کے دور سے بہت زیادہ مطمئن تھی، اس نے بھی فوج میں ناپسندیدگی کا تاثر پیدا کیا۔ فوجی حلقوں میں یہ سمجھا گیا کہ ہمارے چیف کی کرٹیسی کا غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کو دیگر بہت سے چیلنجز کے علاوہ ایک چیلنج یہ بھی درپیش تھا کہ ان کے پوسٹ مشرف دونوں پیشرو یعنی کیانی اور راحیل شریف assertive قسم کے جرنیل تھے، جنہوں نے نہ صرف مشرف دور کی بیشتر پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنایا بلکہ سویلین حکومت کو آگے لگائے رکھا۔ جنرل باجوہ سے بھی ان کے ادارے کو یہی توقعات تھیں۔

اسی عرصے میں ان دونوں جرنیلوں نے فوج کا جو بہت حد تک منفی امیج مشرف کے دور میں بن گیا تھا، اس کا بھی ازالہ کیا۔ راحیل شریف کے دور میں وجوہات کچھ بھی رہی ہوں، فوج کی مقبولیت اور پسندیدگی بلند ترین سطح پر تھی۔ میدان میں شاندار کارکردگی کے علاوہ کچھ کمال اس میں اگر راحیل شریف کے رضاکار میڈیا مینجرز کا تھا تو بہت زیادہ پی ٹی آئی کے حامیوں کا بھی۔ پی ٹی آئی کے بچے بچے کو معلوم تھا کہ ان کے لیڈر کا مجازی باپ راحیل شریف ہے اس لئے وہ اپنے گھر میں ہونے والی خوشی پر بھی شکریہ راحیل شریف کا نعرہ لگایا کرتے تھے۔

نواز شریف اور راحیل شریف میں کشیدگی اور نون لیگ کی لگ بھگ چار سالہ حکومت نے فوج کو یہ بھی باور کرا دیا تھا کہ اگر دوبارہ نون لیگ کو حکومت ملتی ہے تو وہ ان کی حدود میں زیادہ ٹریس پاس کرنے کی کوشش کرے گی۔

یعنی اپنی دیگر پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے علاوہ دفاعی، داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے، فوج کی مقبولیت اور پسندیدگی کا گراف گرنے نہ دینے اور کیانی و راحیل شریف سے بہتر یا ان کے برابر کارکردگی دکھانے کا اضافی پریشر بھی جنرل قمر پہ تھا۔ انہیں کچھ بڑے فیصلے کرنا تھے۔ اگر کوئی امکان تھا کہ جنرل اپنے ادارے کے مفادات کو یقینی بناتے ہوئے بھی سویلین حکومت کو جائز سپیس دیں گے اور اسے جو ٹف ٹائم دیا جا رہا تھا اس میں کچھ ہتھ ہولا رکھیں گے تو نون لیگ میڈیا ٹیم کی اس حماقت نے اسے مشکل بنا دیا۔

جنرل باجوہ نے اس پریشر کے باوجود ڈان لیکس پر نواز شریف کو تھوڑا مزید گھسیٹ کر چھوڑ دیا۔ مگر اسی دوران پانامہ لیکس چل نکلا تھا، جنرل کو کمان سنبھالے ابھی آٹھ نو ماہ ہوئے تھے کہ نواز شریف نااہل قرار پائے۔ اس دوران سپریم کورٹ کے ابتدائی فیصلے، جے آئی ٹی کی تشکیل، کارکردگی اور رپورٹ نے نون لیگ اور اس کے حامیوں کے علاوہ غیرجانبدار حلقوں کو بھی یہ احساس دلا دیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ محض انصاف یا مکافات عمل نہیں ہے۔ بہت ذہانت اور بہت وسائل کا استعمال کرتے ہوئے کمال سلیقے سے کچھ چھوٹے چھوٹے، ایک دوسرے سے الگ اور بظاہر غیرمتعلقہ واقعات کی ایک ایسی چین آف ایونٹس تشکیل دی گئی ہے جو بالآخر نواز شریف کی سیاست سے بیدخلی اور نون لیگ کی اقتدار سے محرومی پر منتج ہوگی۔

لیکن نومبر 2016 سے آج تک پونے دو سال کے عرصے میں جنرل باجوہ کے چیلنجز بڑھے ہیں کم نہیں ہوئے۔ ان میں جو چیلنج مجھے سب سے زیادہ خوفناک اور تشویشناک لگتا ہے، وہ فوج کی بتدریج گرتی ہوئی مقبولیت اور پسندیدگی ہے۔ یاد کریں کہ جنرل راحیل شریف کے آخری روز کیا نعرے لگ رہے تھے اور ان کا موازنہ آج فاٹا سے لاہور تک لگائے جانے والے نعروں سے کریں تو یہ ہر پاکستانی کیلئے تشویش کا مقام ہے۔ فوج جیسی بھی ہے ہماری ہے، اس کی بے توقیری خوشی کا مقام ہرگز نہیں۔

ہماری بدقسمتی کہ آنے والے چند دنوں میں فوج کا کردار مزید متنازعہ بننے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ عدلیہ، نیب، ایف آئی اے، الیکشن کمیشن کے ہر متنازعہ اقدام پر بدنامی ان کے ساتھ فوج کے حصے میں بھی آتی ہے۔ جبری گمشدگیوں، سنسرشپ اور اخبارات کی ترسیل میں رکاوٹ نے میڈیا کے آزاد اور غیرجانبدار ذہن رکھنے والوں کو بھی اسٹیبلشمنٹ کا شدید مخالف بنا دیا ہے۔ یہ تاثر کہ فوج کسی مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ اور کسی مخصوص جماعت کے خلاف ہے اور الیکشن ڈے پر فوج کو دیے گئے وسیع اختیارات بجائے خود الیکشن کو متنازعہ بنانے کیلئے کافی ہیں۔

جنرل باجوہ کو اب اصلاح احوال کیلئے خود میدان میں اترنا ہوگا۔ موجودہ پالیسیوں سے کچھ شارٹ ٹرم مفادات شاید حاصل ہو جائیں مگر لانگ ٹرم میں فوج اور ملک دونوں کی بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اگلے پانچ سال کیلئے ملک کو ایک مضبوط اور مشکل فیصلے کرنے کی اہلیت رکھنے والی حکومت درکار ہے۔ ایسی حکومت وہی ہو سکتی ہے جسے عوام کی بھاری اکثریت کی تائید و حمایت حاصل ہو۔ عوام کے حق انتخاب پر اثرانداز ہونے یا ان کے فیصلے کو مینج کرنے کی کوششوں کا ملک کے مستقبل پر خوفناک اثر پڑے گا۔

سب سے زیادہ جس بات کا ڈر ہے وہ یہ کہ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال میں جو کچھ ہم نے ہوتے دیکھ رکھا ہے یہ کسی ایک یا چند ایک طاقتور افراد کی خواہش نہیں، ایک یا چند ایک طاقتور اداروں کی پالیسی ہے۔ اگر اللہ نہ کرے ایسا ہی ہے تو پھر استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کو بھول جائیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ میں ان چیلنجز سے نبٹنے کی اہلیت بھی یقینا ہے، انہیں تمام تر اختیارات بھی حاصل ہیں اور وہ معاملات کی سمجھ بوجھ بھی رکھتے ہیں، اس کے باوجود اگر حالات جوں کے توں رہتے یا مزید بگڑتے ہیں تو یہ ہماری بہت بڑی ناکامی ہوگی اور ہم سب سے زیادہ اس شخص کی جو ملک کے سب سے طاقتور ادارے کا طاقتور سربراہ ہے۔
اس سلسلے کی آخری قسط میں یہ دیکھنے کی کوشش کرنا ہے کہ کیا کوئی ایسا جائز آئینی راستہ ہے جس پر چل کر فوج کے مفادات کا تحفظ بھی ہوتا رہے اور سویلین بالادستی بھی قائم رہے۔ آپ کی رائے اور تجاویز کا منتظر۔

یہ تحریر محمد اشفاق کے فیس بک سے ان کی اجازت سے حاصل کی گئی ہے ۔

پہلی قسط یہاں پڑھیں

فوج سیاست میں مداخلت کیوں کرتی ہے؟

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button